الم ناک سانحے اور شعبہ صحت کی لاچارگی
ملک بھر کے صحت عامہ کے شعبے شدید بدانتظامی اور بحرانی کیفیت میں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے الرٹ وارننگ جاری ہونے کے باوجود ملک کے تمام انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر مسافروں کی اسکریننگ کے لیے خاطر خواہ انتظامات انتہائی ضروری ہیں، فوٹو اے ایف پی
ISLAMABAD:
ملک بھر کے صحت عامہ کے شعبے شدید بدانتظامی اور بحرانی کیفیت میں ہیں۔ ایک طرف سندھ کے ضلع تھرپارکر میں موت کا وحشیانہ اور خونیں رقص تاحال جاری ہے جس کے باعث جمعرات کو مزید6بچے دم توڑ گئے، صوبائی وزیر صحت نے دوسرے روز بھی تھر کا دورہ کیا جس پر لوگوں نے صحت کے حوالے سے مسائل کے انبار لگا دیے لیکن مجرمانہ غفلت کی نشاندہی اور عدالتی تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد کے بجائے مسئلہ کو دوسرا رنگ دینے کی کوششیں عروج پر ہیں ۔
ادھر عالمی ادارہ صحت پاکستان ریجن کے ہیڈ ڈاکٹر رچل نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں حالیہ مسلح افرا د کی فائرنگ سے 4 ورکرز جاں بحق ہوگئے تھے جس کی وجہ سے انھیں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کام کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور بلوچستان میں سرگرمیاں بند کرنے کے حوالے سے مراسلہ جاری کردیا گیا ہے۔ ایک مراسلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ عالمی ادارہ صحت کے ماتحت تمام اداروں کو فی الفور بند کردیا گیا اور عملے کو اسلام آباد طلب کرلیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ فول پروف سیکیورٹی ملنے تک سرگرمیاں بحال نہیں کریں گے ۔ بلوچستان حکومت نے تحقیقاتی ٹیم اگر تشکیل دی ہے تو اسے جلد اپنی رپورٹ دینی چاہیے تاکہ ملزمان کی نشاندہی ہو اور انھیں عبرت ناک سزا ملے ۔ اگلے روز سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو انسان نہیں سمجھا جاتا ، انھوں نے ایک مقدمہ میں ریمارکس دیے کہ کے پی، سندھ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہر روز گولیوں کانشانہ بنایاجا رہا ہے ۔
تین روز قبل بھی کوئٹہ میں4 لیڈی ہیلتھ ورکرز کو قتل کردیا گیا۔ اب طفل تسلیاں نہیں چلیں گی۔ پشاور سے نمایندہ کے مطابق حالیہ ایک روزہ انسداد پولیو مہم میں 12ہزار224 والدین نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کردیا ۔ ابھی تک ایسا سیکیورٹی میکنزم بھی سامنے نہیں آیا جس کے تحت پولیو مہم پھر سے منظم کی جاسکے۔ رواں سال کراچی سمیت سندھ میں ایڈز کے 3 مریض جاں بحق ہوئے، اکتوبر تک سندھ میں ایڈز کے 3 ہزار524 مریض رجسٹرڈ ہوئے، جب کہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ 11 فلاحی اداروں کو حکومت کی جانب سے 8 کروڑ 80 لاکھ روپے کے واجبات ادا نہیں کیے گئے ۔
گزشتہ دنوں عالمی سطح پر ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے الرٹ وارننگ جاری ہونے کے باوجود ملک کے تمام انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر مسافروں کی اسکریننگ کے لیے خاطر خواہ انتظامات انتہائی ضروری ہیں ، کراچی میں عالمی ماہرین کی ٹیم کے آنے کا عندیہ دیا گیا تھا جب کہ فیصل آباد میں بھی ایبولا کیس کے حوالے سے اطلاع ملی تاہم اس مرض میں مبتلا مبینہ مریض کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات مہیا نہیں کی گئیں ، جب کہ ڈنگی، کانگو اور روبیلا وائرس سے مزید ہلاکتوں کے اندیشے پھیل رہے ہیں ۔
ادھر تھر کے ساتھ ساتھ اندھی ڈولفن کی پر اسرار ہلاکت کی خبریں ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں، سندھ حکومت دریائے سندھ سمیت میٹھے پانیوں میں مچھلی کے شکا ر کے لیے ماہی گیروں کو دیے گئے لائسنسزمنسوخ کرنے پر غور کررہی ہے۔ حکومت کو علاج معالجہ سے محروم عوام کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں قابل تقلید پیش قدمی کرنی چاہیے ۔ تھر ٹریجیڈی کا خاتمہ ضروری ہے ۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کو بھی صوبائی حکومتوں کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔
ملک بھر کے صحت عامہ کے شعبے شدید بدانتظامی اور بحرانی کیفیت میں ہیں۔ ایک طرف سندھ کے ضلع تھرپارکر میں موت کا وحشیانہ اور خونیں رقص تاحال جاری ہے جس کے باعث جمعرات کو مزید6بچے دم توڑ گئے، صوبائی وزیر صحت نے دوسرے روز بھی تھر کا دورہ کیا جس پر لوگوں نے صحت کے حوالے سے مسائل کے انبار لگا دیے لیکن مجرمانہ غفلت کی نشاندہی اور عدالتی تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد کے بجائے مسئلہ کو دوسرا رنگ دینے کی کوششیں عروج پر ہیں ۔
ادھر عالمی ادارہ صحت پاکستان ریجن کے ہیڈ ڈاکٹر رچل نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں حالیہ مسلح افرا د کی فائرنگ سے 4 ورکرز جاں بحق ہوگئے تھے جس کی وجہ سے انھیں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کام کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور بلوچستان میں سرگرمیاں بند کرنے کے حوالے سے مراسلہ جاری کردیا گیا ہے۔ ایک مراسلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ عالمی ادارہ صحت کے ماتحت تمام اداروں کو فی الفور بند کردیا گیا اور عملے کو اسلام آباد طلب کرلیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ فول پروف سیکیورٹی ملنے تک سرگرمیاں بحال نہیں کریں گے ۔ بلوچستان حکومت نے تحقیقاتی ٹیم اگر تشکیل دی ہے تو اسے جلد اپنی رپورٹ دینی چاہیے تاکہ ملزمان کی نشاندہی ہو اور انھیں عبرت ناک سزا ملے ۔ اگلے روز سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو انسان نہیں سمجھا جاتا ، انھوں نے ایک مقدمہ میں ریمارکس دیے کہ کے پی، سندھ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہر روز گولیوں کانشانہ بنایاجا رہا ہے ۔
تین روز قبل بھی کوئٹہ میں4 لیڈی ہیلتھ ورکرز کو قتل کردیا گیا۔ اب طفل تسلیاں نہیں چلیں گی۔ پشاور سے نمایندہ کے مطابق حالیہ ایک روزہ انسداد پولیو مہم میں 12ہزار224 والدین نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کردیا ۔ ابھی تک ایسا سیکیورٹی میکنزم بھی سامنے نہیں آیا جس کے تحت پولیو مہم پھر سے منظم کی جاسکے۔ رواں سال کراچی سمیت سندھ میں ایڈز کے 3 مریض جاں بحق ہوئے، اکتوبر تک سندھ میں ایڈز کے 3 ہزار524 مریض رجسٹرڈ ہوئے، جب کہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ 11 فلاحی اداروں کو حکومت کی جانب سے 8 کروڑ 80 لاکھ روپے کے واجبات ادا نہیں کیے گئے ۔
گزشتہ دنوں عالمی سطح پر ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے الرٹ وارننگ جاری ہونے کے باوجود ملک کے تمام انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر مسافروں کی اسکریننگ کے لیے خاطر خواہ انتظامات انتہائی ضروری ہیں ، کراچی میں عالمی ماہرین کی ٹیم کے آنے کا عندیہ دیا گیا تھا جب کہ فیصل آباد میں بھی ایبولا کیس کے حوالے سے اطلاع ملی تاہم اس مرض میں مبتلا مبینہ مریض کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات مہیا نہیں کی گئیں ، جب کہ ڈنگی، کانگو اور روبیلا وائرس سے مزید ہلاکتوں کے اندیشے پھیل رہے ہیں ۔
ادھر تھر کے ساتھ ساتھ اندھی ڈولفن کی پر اسرار ہلاکت کی خبریں ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں، سندھ حکومت دریائے سندھ سمیت میٹھے پانیوں میں مچھلی کے شکا ر کے لیے ماہی گیروں کو دیے گئے لائسنسزمنسوخ کرنے پر غور کررہی ہے۔ حکومت کو علاج معالجہ سے محروم عوام کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں قابل تقلید پیش قدمی کرنی چاہیے ۔ تھر ٹریجیڈی کا خاتمہ ضروری ہے ۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کو بھی صوبائی حکومتوں کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔