مندر پر حملہ 9ملزمان کیخلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج

مقدمے میں 9ملزمان نامزدکیے گئے ہیں جن کاتعلق ایک سیاسی جماعت سے بتایاجارہاہے

مقدمے میں 9ملزمان نامزدکیے گئے ہیں جن کاتعلق ایک سیاسی جماعت سے بتایاجارہاہے ، فوٹو : فائل

گلشن معمار پولیس نے گڈاپ ٹاؤن میں مندرپرحملہ کرکے مورتیوں کی بے حرمتی، لوٹ مار اور پجاری کے قریبی عزیزکوزخمی کرنے پر درجنوں ملزمان کیخلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

مقدمے میں9 ملزمان نامزد ہیں جن کاتعلق ایک سیاسی جماعت سے بتایاجارہاہے،مقدمے کامدعی ملزمان سے خوفزدہ ہونے کے باعث ان کی نشاندہی نہیںکررہا۔گلشن معمارپولیس نے گڈاپ ٹاؤن آدم گوٹھ ہندوگوٹھ میں واقع شری کرشنا بھگوان مندر میں مورتیوں کی بے حرمتی،لوٹ مار اور مندر کے پجاری سندھا مہاراج کے کزن گوندا کو تشدد کانشانہ بناکر زخمی کرنے کا مقدمہ الزام نمبر 151/12 بجرم دفعہ 295/A کے تحت پجاری سندھا مہاراج کی مدعیت میں درج کر لیاگیا۔


ایس ایچ او گلشن معمار جعفر بلوچ نے ایکسپریس کو بتایا کہ21 ستمبر گستاخانہ فلم کے خلاف نکالی جانے والی ریلیوں کومنتشر کرنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی نفری ناردرن بائی پاس پرجلاؤ گھیراؤ کرانے والوں کومنتشر کر رہی تھی اسی وقت اطلاع ملی کہ وہاں سے منتشر ہونے والے مظاہرین نے ہندو گوٹھ میں ایک مندرمیں توڑ پھوڑ کی ہے جس پر پولیس وہاں پہنچ گئی اور توڑ پھوڑ کرنے والے متعدد افرادکومنتشر کر دیا ، مندر پر حملہ کرنے والوں نے 3مورتیوں کی بے حرمتی کی تھی جبکہ مندر میں چڑھایاجانے والا 2 تولہ سونابھی لوٹ لیا تھا جس پر پولیس نے مندرکے پجاری سندھامہاراج کے کہنے پر مولوی حبیب الرحمٰن،حفیظ الدین، حامد اور صابر خان سمیت 9 نامزدملزمان سمیت 100سے زائد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

مقدمے کے تفتیشی افسراے ایس آئی محمد حنیف نے بتایا کہ آدم گوٹھ میں زیادہ تر ایک سیاسی جماعت کے لوگ رہائش پزیرہیں جبکہ مقدمہ میں نامزدملزمان کاتعلق بھی ایک سیاسی جماعت سے ہے،مدعی اور ہندو برادری سے تعلق کرنے والے دیگرلوگ نامزد ملزمان سے خوفزدہ ہونے کے باعث ان کی نشاندہی نہیں کررہے جس کے باعث تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے اسی علاقے کے رہائشی بھگوان داس نے ایکسپریس کوبتایاکہ مندرپرحملے کے وقت ملزمان نے5مورتیوں کے گلے میں رسی کاپھندا ڈال کر انہیں سڑک پر گھسیٹاتھا،جس وقت شر پسندوں نے مندر پر حملہ کیا اس وقت پجاری کسی کام سے گیاہوا تھا ، مندر کو بچانے کے لیے خواتین پہنچ گئیں جس پر حملہ آوروں نے انہیں دھکے دیے،مندر پر حملہ اور مورتیوں کی بے حرمتی سرعام کی گئی،علاقے سیکٹروں مسلمانوں نے بھی یہ منظر دیکھا،پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے گریزکررہی ہے۔
Load Next Story