زرداری کے ہوتے آزادانہشفاف الیکشن نہیں ہو سکتےمنورحسن
فضل الرحمن کو اسلامی انقلاب نہیںچاہیے، طالبان کی فتح مسلمانوںکی جیت ہے
توہین آمیزخاکے،فلمیںحرمت رسولؐ کم نہیں کر سکتے،امریکی غلامی سے نجات کاوقت آگیا۔ فوٹو: ثناء
جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوںکے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے ہم مولانا فضل الرحمن کا اسلامی انقلاب نہیں چاہتے۔
فلسطین اورکشمیرمیں جذبہ جہاد نے ہرقسم کے جدید ہتھیاروںکوشکست دی ہے، طالبان کی فتح مسلمانوںکی فتح ہے۔ مردان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بشمول جماعت اسلامی تمام جماعتیں صاف اورشفاف الیکشن چاہتی ہیں تاہم صدر زرداری کے ہوتے ہوئے آزادانہ اور شفاف الیکشن دکھائی نہیں دے رہے۔ انھوں نے کہاکہ مغرب اور امریکا قرآن پاک اور توہین رسالت پرمبنی خاکے اور فلمیں بناکرحرمت رسولؐؐکوکم نہیں کر سکتے۔
انھوں نے کہاکہ ہمیں مولانا فضل الرحمن والی شریعت نہیں چاہیے جس میں عہدوںکی بندر بانٹ ہوں امریکی غلامی سے نجات کاوقت اب آگیاہے۔جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے قائم مقام امیر شبیر احمد خان اور نائب امیر مشتاق احمد خان نے کہاکہ امریکا کو پاکستان سے بھگا کر دم لیںگے موجودہ حکمرانوں کے ہاتھ اسامہ بن لادن کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ڈرون حملوں میں 45 ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کردیا گیا جس کا بدلہ آئندہ الیکشن میں لیا جائیگا امریکا کے ایک طرف پختونوں کے نام نہاد علمبردار اسفندیار ولی خان اور دوسری جانب پختونوں کے سروں کا سواد کرنے والے آصف زرداری بیٹھے ہیں ۔
فلسطین اورکشمیرمیں جذبہ جہاد نے ہرقسم کے جدید ہتھیاروںکوشکست دی ہے، طالبان کی فتح مسلمانوںکی فتح ہے۔ مردان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بشمول جماعت اسلامی تمام جماعتیں صاف اورشفاف الیکشن چاہتی ہیں تاہم صدر زرداری کے ہوتے ہوئے آزادانہ اور شفاف الیکشن دکھائی نہیں دے رہے۔ انھوں نے کہاکہ مغرب اور امریکا قرآن پاک اور توہین رسالت پرمبنی خاکے اور فلمیں بناکرحرمت رسولؐؐکوکم نہیں کر سکتے۔
انھوں نے کہاکہ ہمیں مولانا فضل الرحمن والی شریعت نہیں چاہیے جس میں عہدوںکی بندر بانٹ ہوں امریکی غلامی سے نجات کاوقت اب آگیاہے۔جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے قائم مقام امیر شبیر احمد خان اور نائب امیر مشتاق احمد خان نے کہاکہ امریکا کو پاکستان سے بھگا کر دم لیںگے موجودہ حکمرانوں کے ہاتھ اسامہ بن لادن کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ڈرون حملوں میں 45 ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کردیا گیا جس کا بدلہ آئندہ الیکشن میں لیا جائیگا امریکا کے ایک طرف پختونوں کے نام نہاد علمبردار اسفندیار ولی خان اور دوسری جانب پختونوں کے سروں کا سواد کرنے والے آصف زرداری بیٹھے ہیں ۔