سیاسی بحران… ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کریں
ملک کے فہمیدہ حلقوں کو تشویش ہے کہ یہ تلخی بڑھتے بڑھتے تصادم تک نہ پہنچ جائے۔۔۔۔
ملک کے فہمیدہ حلقوں کو تشویش ہے کہ یہ تلخی بڑھتے بڑھتے تصادم تک نہ پہنچ جائے۔. این این آئی/فائل
لاہور:
ملکی سیاست میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ابھی تک کشیدگی اور تناؤ کی کیفیت برقرار ہے اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ اگست سے شروع ہونے والا سیاسی بحران کسی نہ کسی شکل میں اب بھی جاری ہے۔ اسلام آباد میں تحریک انصاف بدستور اپنا دھرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات' جمہوریت کا حصہ ہوتے ہیں لیکن ان اختلافات کو گھیراؤ جلاؤ کے مقام تک نہیں پہنچنا چاہیے۔
تحریک انصاف نے جو چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اگر اس کو ابتداء میں ہی پورا کر دیا جاتا تو شاید حالیہ سیاسی بحران جنم نہ لیتا اور حکومت پوری یکسوئی سے اپنے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہوتی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ بات بڑھتے بڑھتے دھرنوں تک آ گئی۔ تحریک انصاف کے ساتھ عوامی تحریک بھی شامل ہو گئی۔ مسلم لیگ (ق) اور مجلس وحدت المسلمین بھی اس کا حصہ بن گئیں۔ یوں معاملہ اسلام آباد میں دھرنوں تک جا پہنچا۔ عوامی تحریک نے دھرنا ختم کر دیا۔ اس کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ شاید تحریک انصاف بھی دھرنا ختم کر دے گی اور حکومت اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے طے کر لے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یوں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
ملک کے فہمیدہ حلقوں کو تشویش ہے کہ یہ تلخی بڑھتے بڑھتے تصادم تک نہ پہنچ جائے۔ اس صورت حال سے ملک کی سیاسی قیادت کو بچنا چاہیے۔ جب سے موجودہ سیاسی بحران شروع ہوا ہے اس کے اثرات ملکی معیشت پر بھی پڑے ہیں' سرمایہ کار گومگو کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ملک میں بے روزگاری اور غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گو حکومت نے کئی اچھے اقدامات بھی کیے ہیں' ان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور گزشتہ روز ہزارہ موٹروے کا سنگ بنیاد رکھنا ہے۔
یہ اچھے اقدام ہیں۔ اس پر حکومت کی تحسین کی جانی چاہیے۔ ہزارہ موٹروے بننے سے اس علاقے کے عوام کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا۔ اب ہزارہ ڈویژن کے عوام کی دیگر شہروں تک رسائی بہت آسان ہو جائے گی جس سے ہزارہ ڈویژن کے عام آدمی اور کاروباری طبقے کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے بھی اچھا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں۔ اصولی طور پر حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کرنی چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات جتنی سستی ہوں گی ملکی معیشت اتنی بہتر انداز میں آگے بڑھے گی۔
موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو عوام کو اس سے امید تھی کہ وہ ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کرے گی۔ وزیراعظم نواز شریف نے قوم کو ترقی کا ایک ویژن بھی دیا۔ اسی ویژن کے تحت ہزارہ موٹروے کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے لیکن دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حالیہ سیاسی بحران کی وجہ سے حکومت کے اچھے کام بھی پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ملکی معیشت کی ترقی کے لیے سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے۔ جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا اس وقت تک سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہو گا۔
ملک میں جمہوریت موجود ہے' جمہوری قیادت ہی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کرے۔ ماضی میں جب بھی سیاسی بحران پیدا ہوا' اس کے زیادہ تر ذمے دار سیاست دانوں کے باہمی اختلافات تھے۔ ان اختلافات سے ہمیشہ غیرجمہوری قوتوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ سیاسی قیادت یہ کہہ کر اپنی ناکامیوں کو نہیں چھپا سکتی کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ نے کام نہیں کرنے دیا۔ سیاسی قیادت کی ذہانت اور زیرکی ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرے جن کے باعث غیرجمہوری قوتوں کے عزائم ناکام ہو جائیں۔ حالیہ بحران کا بھی یہ تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت معاملہ فہمی اور تدبر کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت جو بحران پیدا ہوا ہے' ایسا نہیں ہے کہ یہ ناقابل حل ہے۔
فریقین اگر اپنی اپنی ضد اور انا کے بتوں کو توڑ کر جمہوریت کی بقاء کو اولیت دیں تو سارے معاملے خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ سیاسی بحران پیدا ہوا' جلاؤ گھیراؤ ہوا اور پھر فریقین کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا لیکن یہ مذاکرات اتنے طویل ہوئے کہ ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا۔ 1977ء کے بحران میں بھی اگر سیاسی قوتیں جمہوریت کو اپنی اولین ترجیح بناتیں اور مذاکرات کے عمل کو طویل نہ کرتیں تو شاید ملک میں مارشل لاء نہ لگتا۔
اس وقت گو حالات ماضی کی نسبت بہت بہتر ہیں۔ حکومت کو پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل ہے۔ ملک کی بڑی پارٹیوں کی بھاری اکثریت حکومت کے ساتھ ہے لیکن اس کے باوجود بھی اگر سیاسی بحران موجود ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ کہیں نہ کہیں خرابی کا بیج موجود ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کو چاہیے کہ وہ ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کریں اور اپنے اختلافات کو مذاکرات کی میز پر طے کریں۔
ملکی سیاست میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ابھی تک کشیدگی اور تناؤ کی کیفیت برقرار ہے اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ اگست سے شروع ہونے والا سیاسی بحران کسی نہ کسی شکل میں اب بھی جاری ہے۔ اسلام آباد میں تحریک انصاف بدستور اپنا دھرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات' جمہوریت کا حصہ ہوتے ہیں لیکن ان اختلافات کو گھیراؤ جلاؤ کے مقام تک نہیں پہنچنا چاہیے۔
تحریک انصاف نے جو چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اگر اس کو ابتداء میں ہی پورا کر دیا جاتا تو شاید حالیہ سیاسی بحران جنم نہ لیتا اور حکومت پوری یکسوئی سے اپنے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہوتی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ بات بڑھتے بڑھتے دھرنوں تک آ گئی۔ تحریک انصاف کے ساتھ عوامی تحریک بھی شامل ہو گئی۔ مسلم لیگ (ق) اور مجلس وحدت المسلمین بھی اس کا حصہ بن گئیں۔ یوں معاملہ اسلام آباد میں دھرنوں تک جا پہنچا۔ عوامی تحریک نے دھرنا ختم کر دیا۔ اس کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ شاید تحریک انصاف بھی دھرنا ختم کر دے گی اور حکومت اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے طے کر لے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یوں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
ملک کے فہمیدہ حلقوں کو تشویش ہے کہ یہ تلخی بڑھتے بڑھتے تصادم تک نہ پہنچ جائے۔ اس صورت حال سے ملک کی سیاسی قیادت کو بچنا چاہیے۔ جب سے موجودہ سیاسی بحران شروع ہوا ہے اس کے اثرات ملکی معیشت پر بھی پڑے ہیں' سرمایہ کار گومگو کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ملک میں بے روزگاری اور غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گو حکومت نے کئی اچھے اقدامات بھی کیے ہیں' ان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور گزشتہ روز ہزارہ موٹروے کا سنگ بنیاد رکھنا ہے۔
یہ اچھے اقدام ہیں۔ اس پر حکومت کی تحسین کی جانی چاہیے۔ ہزارہ موٹروے بننے سے اس علاقے کے عوام کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا۔ اب ہزارہ ڈویژن کے عوام کی دیگر شہروں تک رسائی بہت آسان ہو جائے گی جس سے ہزارہ ڈویژن کے عام آدمی اور کاروباری طبقے کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے بھی اچھا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں۔ اصولی طور پر حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کرنی چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات جتنی سستی ہوں گی ملکی معیشت اتنی بہتر انداز میں آگے بڑھے گی۔
موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو عوام کو اس سے امید تھی کہ وہ ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کرے گی۔ وزیراعظم نواز شریف نے قوم کو ترقی کا ایک ویژن بھی دیا۔ اسی ویژن کے تحت ہزارہ موٹروے کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے لیکن دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حالیہ سیاسی بحران کی وجہ سے حکومت کے اچھے کام بھی پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ملکی معیشت کی ترقی کے لیے سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے۔ جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا اس وقت تک سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہو گا۔
ملک میں جمہوریت موجود ہے' جمہوری قیادت ہی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کرے۔ ماضی میں جب بھی سیاسی بحران پیدا ہوا' اس کے زیادہ تر ذمے دار سیاست دانوں کے باہمی اختلافات تھے۔ ان اختلافات سے ہمیشہ غیرجمہوری قوتوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ سیاسی قیادت یہ کہہ کر اپنی ناکامیوں کو نہیں چھپا سکتی کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ نے کام نہیں کرنے دیا۔ سیاسی قیادت کی ذہانت اور زیرکی ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرے جن کے باعث غیرجمہوری قوتوں کے عزائم ناکام ہو جائیں۔ حالیہ بحران کا بھی یہ تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت معاملہ فہمی اور تدبر کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت جو بحران پیدا ہوا ہے' ایسا نہیں ہے کہ یہ ناقابل حل ہے۔
فریقین اگر اپنی اپنی ضد اور انا کے بتوں کو توڑ کر جمہوریت کی بقاء کو اولیت دیں تو سارے معاملے خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ سیاسی بحران پیدا ہوا' جلاؤ گھیراؤ ہوا اور پھر فریقین کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا لیکن یہ مذاکرات اتنے طویل ہوئے کہ ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا۔ 1977ء کے بحران میں بھی اگر سیاسی قوتیں جمہوریت کو اپنی اولین ترجیح بناتیں اور مذاکرات کے عمل کو طویل نہ کرتیں تو شاید ملک میں مارشل لاء نہ لگتا۔
اس وقت گو حالات ماضی کی نسبت بہت بہتر ہیں۔ حکومت کو پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل ہے۔ ملک کی بڑی پارٹیوں کی بھاری اکثریت حکومت کے ساتھ ہے لیکن اس کے باوجود بھی اگر سیاسی بحران موجود ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ کہیں نہ کہیں خرابی کا بیج موجود ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کو چاہیے کہ وہ ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کریں اور اپنے اختلافات کو مذاکرات کی میز پر طے کریں۔