سکھر دہشت گردی کا الم ناک واقعہ

دہشت گردی کے نیٹ ورک کا ہدف مذہبی ہم آہنگی اور رواداری ہے ...

دہشت گردی کے نیٹ ورک کا ہدف مذہبی ہم آہنگی اور رواداری ہے. فوٹو؛فائل

سکھر میں جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے رہنما اور سابق سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو قاتلانہ حملہ میں جاں بحق ہوگئے ۔ وہ '' پیغام امن کانفرنس '' میں شرکت کے لیے سکھر آئے تھے اور جان جان آفرین کے سپرد کردی ۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس الم ناک سانحہ نے ملک میں جاری دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں ملوث عناصر کے مذموم عزائم بے نقاب کر دیے ہیں ۔


میڈیا اس سے قبل سندھ میں بھی مذہبی اور مسلکی کشمکش اور کشیدگی کے خطرات سے آگاہ کرتا رہا ہے کیونکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کا ہدف مذہبی ہم آہنگی اور رواداری ہے ۔ ان عناصر نے ریاست کے خلاف اپنے خود ساختہ ایجنڈا کے تحت ہلاکتوں کا بازار گرم کر رکھا ہے، گذشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف شہروں میں جامعات و کالجوں کے پرنسپل ، سینئر اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر، سماجی کارکن، سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو ابدی نیند سلا دیا گیا ۔ یہ ہلاکتیں ارباب اختیار اور سیکیورٹی حکام کے لیے چشم کشا اور ہائی الرٹ رہنے کے لیے کافی تھیں مگر تمام تر اقدامات اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے دعوؤں کے باوجود نا معلوم قاتلوں کی گردنوں تک قانون کے لمبے ہاتھ پہنچنے سے قاصر ہیں ۔

دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ وہ علمائے کرام ، مذہبی اسکالر اور دینی شخصیات بھی بنیں جو انسانی جان اور قدروں کی حرمت اور دینی روایات کے احترام کا درس دیتی تھیں۔اسلام نے ایک عالِم کی موت کو موت العَالم قرار دیا ہے ۔ اور اب ملک دشمنوں نے دیگر صوبوں میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی سازشوں کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے سندھ کا رخ کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ سمیت پورے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول برقرار رکھنے کا مشترکہ مشن جاری رکھا جائے ۔ حالات کو بگاڑنے کی اندوہ ناک کوششوں میں ملوث عناصر اور دہشت گردی کی لہر کو کنٹرول کرتے ہوئے عسکریت پسند ی اور فرقہ واریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔
Load Next Story