مقتدر قوتیں فیصلے نہ مانیں تو عام آدمی بھی احترام نہیں کرے گا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ

حقوق کااحترام کیے بغیرریاست شہریوں سے وفاداری کی توقع نہیں رکھ سکتی،عدالتیں بلاامتیازانصاف فراہم کررہی ہیں

وجوہات ختم کیے بغیردہشتگردی ختم نہیں کی جاسکتی، جسٹس آغارفیق، سندھ بارکے تحت کانفرنس،منصورخان و دیگرنے بھی خطاب کیا۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے کہا ہے کہ شہریوں کے حقوق کا احترام کیے بغیر ریاست شہریوں سے وفاداری کی توقع نہیں رکھ سکتی۔

دہشت گردی کے خاتمے کا ایک ہی حل ہے کہ معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم کی جائے تاہم جب مقتدرقوتیں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں سے روگردانی کریں تو عام آدمی سے بھی قانون پر عمل درآمد اور احترام کی توقع نہیں کرناچاہیے۔ وہ اتوار کو سندھ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے زیراہتمام '' انسداد دہشت گردی بذریعہ قانون'' کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کررہے تھے، تقریب سے وفاقی شریعت عدالت کے چیف جسٹس آغارفیق احمد خان نے بھی خطاب کیا، چیف جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ قانون کے نفاذ کے ذریعے ہی دہشت گردی کا مقابلہ کیاجاسکتا ہے۔


دہشت گردی،بغاوت، مجاہدین آزادی سمیت دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مختلف اقسام اور تشریحات سامنے آئی ہیں لیکن سب کا حل یہ ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کیاجائے،کوئی بھی حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے کیلیے تیار نہیں ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ مختلف طبقات کو ریاست سے محاذ آرائی پر مجبور کیاجاتا ہے۔ احساس محرومی بھی ریاست سے تصادم کی وجہ بنتی ہے،انھوں نے کہا کہ عدالتیں بلاامتیاز انصاف فراہم کررہی ہیں اورکرتی رہیں گی، انسداد دہشت گردی سمیت دیگرخصوصی عدالتیں اور ٹریبونلزکی حالت زارتوجہ کی متقاضی ہے،سستا اورتیزانصاف کاحصول شہری کا بنیادی حق ہے اور عدلیہ مثبت کردار اداکرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔

آزاد عدلیہ صرف کاغذوں پر نہیں بلکہ مثبت اقدامات سے یہ ثابت ہونا چاہیے کہ عدلیہ آزادانہ فیصلے کررہی ہے،وفاقی شریعت عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق احمد خان نے کہا کہ دہشت گردی کا شکار پوری دنیا ہے مگر مسلمانوں کوسب سے زیادہ اس دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے،دہشت گردی سے زیادہ متاثرمسلمان ہی ہوئے ہیں،انھوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلیے اس کی جڑوں کو ختم کرناہوگا، دہشت گردی کی وجوہات ختم کیے بغیر دہشت گردی ختم نہیں کی جاسکتی،انھوں نے کہاکہ کوئی ملک تنہا اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کرسکتا،دنیا اب ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے اس لیے ایسے چیلنجز سے نمٹنے کیلیے اشتراک عمل ضروری ہے۔

جسٹس آغارفیق احمد خان نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے کسی حد تک اس ناسور پرقابوپایاجاسکتا ہے، موجودہ قوانین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں،انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے ،کانفرنس سے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور منصور خان، سیکریٹری شہاب سرکی ، سابق جسٹس عامر رضا نقوی ، ایس ایم اقبال ، ولید احمد ایڈووکیٹ ،لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر احمداویس اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
Load Next Story