حفیظ کی کپتانی اوربیٹنگ میں اعتمادکافقدان نظر آیا عاقب جاوید

ٹیم کاکوئی گیم پلان نہیں تھا:محمدعامر،بلے باز دبائو میں تھے، زاہد مسعود

ٹیم کاکوئی گیم پلان نہیں تھا:محمدعامر،بلے باز دبائو میں تھے، زاہد مسعود

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بائولر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ کرکٹ ٹیم کے کپتان حفیظ کا بیٹنگ کرنے کا فیصلہ درست تھا مگران کی کپتانی اور بیٹنگ میں اعتماد کا فقدان نظر آیا۔

انھوں نے منفی بیٹنگ کی، بہت زیادہ بال ضائع کیے اور اپنے اوپر پریشر کو طاری کیا۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار کے میزبان عمران خان سے ٹی20 میچ میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں شکست پر گفتگو کرتے ہوئے عاقب کا کہنا تھا کہ جب کپتان اپنے آپ کو بچائے گا تو اس کی جگہ کون لڑے گا۔ ناصر جمشید بہت فارم میں ہے، اس کی بجائے آئوٹ آف فارم شاہد آفریدی کو بھیجنا غلط تھا۔ نئے بال کا بھی درست استعمال نہیں کیا گیا۔ جب مصباح الحق ٹی 20 کے کپتان تھے تو حفیظ نئے گیند سے بولنگ کرتے تھے۔ جب سے کپتان بنے ہیں ایسا کرنا چھوڑ دیا ہے۔


عمر گل نے کبھی نئے بال سے پرفارمنس نہیں دی۔ سمیع اور عمران نذیر کی سلیکشن سوالیہ نشان ہے۔ منگل کو آسٹریلیا کے ساتھ میچ میں پاکستان کی حکمت عملی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اوپننگ کامران اکمل یا ناصر جمشید سے کرائی جائے۔ سہیل تنویر سے نئے بال سے اٹیک کرایا جائے۔ حفیظ خود بھی نئے بال سے بولنگ کرائے۔ پھر عمر گل، شاہد آفریدی، اجمل اور حسن رٖضا کو استعمال کیا جائے۔ سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے کہا میچ میں پاکستان ٹیم کا کوئی گیم پلان نظر نہیں آیا۔ اگر بھارت اچھی بیٹنگ اور بولنگ کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے تھے۔ کرکٹ کے تجزیہ نگار زاہد مسعود نے کہا کہ ہمارے بلے باز دبائو میں تھے۔ حفیظ اٹیکنگ کرتے نظر نہیں آئے۔

ہمارے پاس مڈل آرڈر بلے باز نہیں۔ شاہد آفریدی بالکل آئوٹ آف فارم ہیں۔ پروگرام میں فون کرنے والے ناظرین عثمان رضا، محمد اکرم، منصور، حافظ الیاس اور سکندر نے کہا کہ پاکستان ٹیم کی کارکردگی بہت ہی مایوس کن تھی۔ آفریدی کو تیسرے نمبر پر بھیجنے کا فیصلہ غلط تھا۔ 10 اوور بنا رن بنائے ضائع کیے گئے۔ سینئر کھلاؔڑی عبدالرزاق کو باہر بٹھا کر یاسر عرفات کو کھلایا گیا۔ پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی بجائے بولنگ کرنی چاہیے تھی۔
Load Next Story