بینک منیجرز کو مختصر مدت کیلیے اغوا کرنیوالا گروہ گرفتار

خاتون اغواکاربینک جاکرمنیجرز سے مراسم بڑھاتی تھی،ملزمان مغویوں سے کیشئرز کو فون کراکر تاوان کی رقم منگوالیتے تھے

اغوا کاروں نے کئی بینک منیجروں کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا،پولیس پارٹی کے لیے 5 لاکھ روپے انعام اورتعریفی اسناد کا اعلان فوٹو: فائل

اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل پولیس نے ناظم آباد میں کارروائی کرتے ہوئے مختصر مدت کے اغوا میں ملوث خاتون اغوا کار سمیت 3 ملزمان کے گروہ کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ ، تاوان کی رقم اور موٹر سائیکل برآمد کر لی۔

یہ بات ایس ایس پی اے وی سی سی مقدس حیدر قریشی اور سی پی ایل سی کے سر براہ احمد چنائے نے پریس کانفرنس میں بتائی، ایس ایس پی مقدس حیدر نے بتایا کہ اے وی سی سی پولیس نے گزشتہ روز خفیہ اطلاع پر ناظم آباد ضیا الدین اسپتال کے قریب کارروائی کرتے ہوئے خاتون اغوا کار صابرہ زوجہ طالب طیب ، ندیم عباس ولد محمد شریف اور مزمل حسین عرف محمد وہاب کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 2 پستول، موبائل فونز اور موٹر سائیکل برآ مد کر لی، ملزمان مختصر مدت کے اغوا کی وارداتوں میں ملوث ہیں کراچی اور حیدر آباد میں وارداتیں کرتے تھے ۔

گرفتار اغوا کار تاجروں اور بینک منیجروں کے اغوا کرکے تاوان وصول کرتے تھے، ملزمان نے19ستمبر کو میزان بینک واٹر پمپ برانچ کے آپریشنل منیجر محمد عارف کو اغوا کرکے 9لاکھ روپے تاوان وصول کیا جس کا مقدمہ سرسید تھانے میں درج ہے اسی طرح رواں ماہ 19نومبر کو سندھ بینک کی بہادر آباد برانچ کے منیجر غلام قادر ہیرانی کو اغوا کیا اور6 لاکھ روپے تاوان وصول کیا جس کا مقدمہ بہادر آباد تھانے میں درج ہے، ملزمان اے وی سی سی پولیس کو2 اور مقدمات میں بھی مطلوب تھے۔


خاتون اغواکار صابرہ کا اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اہم کردار ہے، خاتون اغواکار اکاؤنٹ کھلوانے بینک جایا کرتی تھی اور بینک منیجرز سے تعلقات استوار کرتی تھی اور بعدازاں بینک مینجرز کو بہانے سے بینک سے باہر بلوا کر ساتھیوں سمیت اغوا کرکے سرجانی ٹاؤن میں واقع مکان میں مغوی کو رکھا کرتے تھے اور مغویوں سے بینک کیشیئرز کو فون کرواکر تاوان کی رقم منگوایا کرتے تھے اور چند گھنٹوں میں 5 سے 10لاکھ روپے تاوان کی رقم حاصل کرتے تھے، اغوا کاروں کا آئندہ چند روز میں حبیب بینک حیدر آباد ، یونا ئیڈ بینک کینٹ برانچ، ٹمبر مارکیٹ برانچ، حبیب میٹرو پولیٹن بینک، ٹاور برانچ، میزان بینک کراچی اور حبیب بینک کے مینجروں کو اغوا کرنے کا منصوبہ تھا، ڈی آئی جی سی آئی اے نے اے وی سی سی کی پولیس پارٹی کے لیے 5 لاکھ روپے انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

اغوا کاروں کا نشانہ بننے والے سندھ بینک بہادر آباد کے منیجر محمد قادر ہیرانی نے بتایا کہ گرفتار خاتون جب پہلی بار بینک آئی تو اس نے اپنا نام زینب بتایا اور کہا کہ وہ سندھ بینک کی برانچ میں اکاؤئنٹ کھلوانا چاہتی ہیں ، اگلے روز خاتون نے انھیں کال کی اور کہا کہ وہ اکاؤئنٹ فارم لے جانا بھول گئیں لہٰذا اپ فارم ان کے گھر پہنچادیں جس پر میں نے انکار کردیا، خاتون تیسری بار فون کرکے بتایا کہ وہ بینک آرہی تھیں دھوراجی کالونی میں ان کا رکشا خراب ہوگیا ہے ، لہذا آپ دھوراجی آکر فارم دے جائیں۔

جب میں فارم دینے دھوراجی کالونی پہنچا تو 2 موٹر سائیکلوں پر سوار3 ملزمان آئے اور اغوا کر کے لے گئے، 8 گھنٹے تک انھوں نے اپنے پاس رکھا اور جب بینک کیشیئر 6 لاکھ روپے لے آیا تو اغوا کاروں نے انھیں رہا کردیا، میزان بینک واٹر پمپ کے منیجر محمد عارف نے بتایا کہ مذکورہ خاتون کو ان کے پاس بھی آئیں اور کہا کہ ان کی ساس بینک میں اکاؤئنٹ کھولنا چاہتی ہیں جس پر انھیں فارم دے دیا خاتون چلی گئی ، پھر خاتون کا دوبارہ فون آیا اور کہا کہ ان کی ساس کی طبعیت خراب ہے اگر ممکن ہوسکے تو آپ گھر آکر فارم دے جائیں اور جب وہ فارم دینے کے لیے ناگن چورنگی کے قریب پہنچے تو مسلح ملزمان نے انھیں اغوا کرکے 6 لاکھ روپے تاوان لے کر رہا کیا۔
Load Next Story