حکومت کے مستحسن اقدامات

عام آدمی کے نزدیک گڈگورننس کا تصور یہ ہے کہ حکومت اسے کتنا ریلیف دے اور اس کے روز مرہ کے مسائل کتنا حل کر رہی ہے۔

موٹرویز خوشحالی کا پیغام ضرور ہیں مگر حکومت کو اندرون ملک شہروں اور دیہات میں خستہ حال سڑکوں پر بھی توجہ دینی چاہیے، فوٹو/ پی آئی ڈی فائل

لاہور:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو حویلیاں میں ہزارہ موٹروے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد جلسہ عام سے خطاب کے دوران قوم کو نئی خوشخبری سناتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10.18 روپے فی لیٹر اور پٹرول کی قیمت میں 9.66 روپے کی کمی کا اعلان کیا۔ اس طرح اب پٹرول کی نئی قیمت 84.53 روپے ہو گئی ہے۔

وزیراعظم کا یہ اعلان یقیناً خوش کن ہے جس کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چار ہفتوں کے دوران دو بار کمی کر کے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ جولائی2011ء میں پٹرول کی قیمت 83.71روپے فی لیٹر تھی اس طرح حالیہ کمی سے اس کی قیمت 3سال والی پرانی سطح پر واپس آ گئی ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب آیا ہوا ہے سبزیوں' پھلوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے عام آدمی کے مسائل کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں پٹرول کی قیمت میں کمی ہونے کے بعد عوام کو توقع تھی کہ اب روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ہوگی اور انھیں خاطر خواہ ریلیف ملے گا مگر ایسا نہ ہونے پر عوام کی طرف سے صدائے احتجاج بلند ہوئی کہ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ہر چیز کی قیمت میں فوری طور پر اضافہ ہو جاتا ہے مگر جب پٹرول کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو مہنگائی کا گراف اپنی سطح پر بدستور قائم رہتا ہے۔ اب حکومت نے ایک بار پھر پٹرول کی قیمت میں کمی کی ہے تو اس کے اثرات روز مرہ کی دیگر اشیا پر بھی مرتب ہونے چاہئیں۔

عام آدمی کے نزدیک گڈگورننس کا تصور یہ ہے کہ حکومت اسے کتنا ریلیف دے اور اس کے روز مرہ کے مسائل کتنا حل کر رہی ہے۔ اب اگر مہنگائی کا گراف واضح طور پر نیچے آتا ہے تو اس سے عام آدمی کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملے گا۔ حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ مہنگائی کو بھی قابو کیا جاسکے گا، انھوں نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ اب وہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کروائیں۔


ہزارہ موٹروے منصوبے سے ملکی ترقی میں نئے باب کا اضافہ ہوا ہے' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مطابق یہ موٹروے حویلیاں کو برہان سے ملائے گی اس کے بعد یہی موٹروے ایبٹ آباد' مانسہرہ اور بٹ گرام، ڈرائی پورٹ گلگت بلتستان بھی جائے گی' حویلیاں سے مارگلہ کی پہاڑیوں سے سرنگوں کے ذریعے اسلام آباد شہر اور پھر لاہور تک جائے گی اس پر 33 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ لاہور سے کراچی موٹروے کا دسمبر میں سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا' کٹھمنڈو میں افغانستان کے صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران یہ طے ہوا کہ موٹروے کابل تک لے جائیں گے جسے پھر وسطی ایشیاء تک لیجایا جائے گا، ساری تجارت پاکستان سے ہوتی ہوئی کراچی' گوادر تک جائے گی۔ موٹرویز بننے سے یقیناً پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافہ ہو گا اور یہ ملک تجارت کا مرکز بن جائے گا جس سے خوشحالی اور ترقی آنے سے پسماندگی اور غربت کو ختم کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔

موٹرویز خوشحالی کا پیغام ضرور ہیں مگر حکومت کو اندرون ملک شہروں اور دیہات میں خستہ حال سڑکوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ دیہات اور منڈیوں کے درمیان سڑکوں کے رابطے بھی خاصے کمزور ہیں اگر ان سڑکوں کو بھی بہتر بنا دیا جائے تو ملک میں تجارت کا حجم کئی گنا بڑھ سکتا اور خوشحالی آ سکتی ہے۔ دوسری جانب صحت اور تعلیم کا شعبہ بھی زبوں حالی کا شکار ہے' توانائی کا بحران اپنی جگہ معیشت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

بجلی کا بحران جس قدر شدید ہے اسے یقیناً راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اس پر قابو پانے کے لیے حکومت کو قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبے تشکیل دینا ہوں گے لیکن ان منصوبوں میں اس امر پر خصوصی خیال رکھا جائے کہ بجلی وافر ہونے کے ساتھ ساتھ سستی بھی ہو کیونکہ بجلی جتنی مہنگی ہو گی ملکی معیشت پر اس کے اتنے ہی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

بجلی کے بحران پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اکیلا اس بحران سے نہیں نمٹ سکتا لہٰذا اس کے لیے وہ چین سے مدد لے رہا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران اپوزیشن کے دھرنوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پرامن احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے' احتجاج کے دوران اپنائے گئے رویے اور کردار ہی سے ہر سیاسی جماعت کی سوچ اور لائحہ عمل کا پتہ چلتا ہے لیکن اس امر کا خیال رکھا جائے کہ احتجاج اور تنقید کے دوران تہذیب' اخلاق اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔
Load Next Story