بھارتی حکام کی پاکستان کے خلاف زہر افشانی

بھارت کے اپنے دو ہمسایہ ممالک چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں۔

چین بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات تمام تر تنازعات کے باوجود بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے‘ اس نے بھارت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے، فوٹو فائل

KARACHI:
بھارت کی اہم ترین سرکاری شخصیات نے ایک بار پھر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دی ہے۔ ان تین اہم بھارتی شخصیات میں ایک تو بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ہیں اور دوسرے بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل اروپ راہا ہیں جب کہ تیسری شخصیت بھارتی خفیہ ایجنسی آئی بی کے سربراہ آصف ابراہیم ہیں۔ان تینوں شخصیات نے پاکستان کے حوالے سے بھارت کی روایتی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اسے خطرہ قرار دیا ہے۔

بھارتی ائر چیف اروپ راہا نے کہا ہے کہ بھارت کو چین کی جارحیت اور پاکستان کی مداخلت کے باعث سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم بھارت اس حوالے سے لاپرواہ نہیں بلکہ پوری طرح ہوشیارہے۔ انھوں نے پاکستان کو دہشتگردی کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ ہونے کے باوجود دہشتگردی کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

اگلے روز نئی دہلی میں ایک تقریب میں لیکچر کے دوران بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ اسٹرٹیجک کشش ثقل مغرب سے مشرق خصوصاً ایشیا سے ایشیا بحرالکاہل کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ لیکن بھارت کو چین کی طرف سے جارحیت جب کہ پاکستان کی طرف سے دخل اندازی کی وجہ سے خطے میں سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارتی ائر چیف نے مزید کہا کہ افغانستان سے اتحادی افواج کا انخلا بھارت کو درپیش روایتی خطرات کے حوالے سے نازک صورتحال پیدا کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کے کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں ماسوائے ان علاقوں کو واپس لینے کے جو تاریخی وجوہات کے باعث ہمارے قبضہ میں نہیں رہے۔ بھارتی ائر چیف کا یہ بیان در اصل ''اکھنڈ بھارت'' کے نظریے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے قیام پاکستان کو روز اول سے ہی تسلیم نہیں کیا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے روایتی الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو غیر مستحکم کرنیکی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ریاستی عناصر بھارت کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور آرینہ سیکٹر میں حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وادی کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے کو نظر انداز کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان کو کشمیر میں دہشتگرد گروپوں کی حمایت پر مورد الزام ٹھہرایا۔ اسی تقریب میں بھارتی خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آصف ابراہیم نے بھی خطاب کیا اور پاکستان کے خلاف وہی زہریلا لہجہ اختیار کیا جو بھارتی حکومت کا وتیرہ ہے۔


ڈی جی آصف ابراہیم نے کہا کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد ہماری قومی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔ ادھر بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ اور سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دوست نہیں ہمسایہ ملک ہے، بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن سیکیورٹی کی قیمت پر نہیں۔

بھارتی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا فی الوقت کوئی امکان نہیں۔ بھارت میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ پاکستان مخالف رہا ہے' بھارتی حکومتی مشینری کی اہم ترین شخصیات نے پاکستان کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا ہے' اس سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا' وزیراعظم نریندر مودی ہوں یا من موہن سنگھ' وہ اسٹیبلشمنٹ کے خیالات و پالیسی سے انحراف نہیں کر سکتے۔

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی لائن کو میک موہن لائن کہا جاتا ہے ۔یہ تبت کے ساتھ ساتھ چلتی ہے' اس سرحد سے ملحق علاقے کو بھارت نے ارونا چل پردیش کا نام دے کر اپنی ریاست بنایا ہوا ہے جب کہ چین اس علاقے پر اپنے تسلط کا دعویٰ کرتا ہے جس بنا پر دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ چلا آ رہا ہے اور اس علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے جس میں بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارت نے چین دشمنی میں چین مخالف نظریات کے حامل تبتی بدھ رہنما اور روحانی پیشوا دلائی لامہ کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔ بھارت کے اپنے دو ہمسایہ ممالک چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں۔ اس کی دونوں ممالک کے ساتھ علاقائی تنازعات کے حوالے سے جنگیں ہو چکی ہیں ۔چین بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات تمام تر تنازعات کے باوجود بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے' اس نے بھارت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔

دوسری جانب پاکستان بھی تمام تر اختلافات اور کشیدگی کے باوجود بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات خوشگوار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان حالات میں بھارتی اعلیٰ سرکاری شخصیات کی جانب سے چین اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی خطے کی سلامتی کے لیے تشویشناک اور بہتر تعلقات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔بھارت اگر واقعی خطے میں امن چاہتا ہے تو اسے اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف اس قسم کے منفی اور شرانگیز بیانات سے ہر ممکن گریز کرنا چاہیے۔
Load Next Story