کیوئسٹ محمد سجاد 80 لاکھ انعامی رقم کے منتظر
مسلسل حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود انعامی رقم کی عدم ا دائیگی حیران کن ہے، محمد آصف
مسلسل حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود انعامی رقم کی عدم ا دائیگی حیران کن ہے، محمد آصف۔ فوٹو: فائل
آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کے فائنل میں رسائی پانے والے قومی کیوئسٹ محمد سجاد حکومت کی جانب سے80 لاکھ روپے کی انعامی رقم کے منتظر ہیں۔
عالمی نمبر2 محمد سجاد نے سابق عالمی چیمپئن محمد آصف کے ہمراہ اکتوبر 2013 میں آئر لینڈ کے شہرکارلو میں ہونے والی آئی بی ایس ایف ورلڈ 6ریڈز و ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ جیتی تھی، قومی اسپورٹس پالیسی کے تحت عالمی ٹائٹل کے حصول پر دونوں کھلاڑی 50 لاکھ روپے فی کس انعام کے رقم کے حقدار ٹہرے، بعدازاںمحمد سجادآئی دسمبر 2013میں لوٹیا کے شہر ڈوگا پلس میں آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں رسائی پاکر سلور میڈل جیتنے کے ساتھ 30 لاکھ روپے کے انعام حقدار بنے۔
دوسری جانب سابق عالمی اسنوکر چیمپئن محمد آصف بھی عالمی اعزازت کے حصول پر2 کروڑ روپے کے حکومتی انعام کے لیے ہنوز پر امید ہیں، انھوں نے د سمبر2012 میں بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں منعقدہ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیت کر عالمی چیمپئن ہونے کے ساتھ ساتھ حکومتی فیصلہ کے مطابق 1کروڑ روپے انعام کا حق بھی حاصل کیا۔
بعدازاں محمد آصف مئی2013 میں قطر کے شہر دوحا میں ہونے والی ایشین 6 ریڈ اسنوکر چیمپئن شپ اپنے نام کر کے قومی اسپورٹس پالیسی کے تحت 50 لاکھ روپے انعامی رقم کے حقدار بھی ٹہرے،محمد آصف نے سجاد کی ہمراہی میں2013کی آئی بی ایس ایف ورلڈ 6 ریڈز و ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ جیتنے پر بھی 50 لاکھ روپے کے انعام کا حق حاصل کیا تھا، دریں اثنا سابق عالمی چیمپئن کا کہنا ہے کہ حکومت عالمی سطح پر نمایاں کاکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ان کے اعتماد میں اضافہ ہو اور وہ آئندہ بھی ملک و قوم کا نام روشن کرتے رہیں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ کی مسلسل یقین دہانیوں کے باوجود انعامی رقم کی عدم ا دائیگی حیران کن ہے، سابق عالمی چیمپئن نے کہا کہ قومی کیوئسٹ محمد سجاد کی بھارت میں اختتام پذیر ہونے والی آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کے فائنل میں رسائی قابل فخر ہے۔
عالمی نمبر2 محمد سجاد نے سابق عالمی چیمپئن محمد آصف کے ہمراہ اکتوبر 2013 میں آئر لینڈ کے شہرکارلو میں ہونے والی آئی بی ایس ایف ورلڈ 6ریڈز و ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ جیتی تھی، قومی اسپورٹس پالیسی کے تحت عالمی ٹائٹل کے حصول پر دونوں کھلاڑی 50 لاکھ روپے فی کس انعام کے رقم کے حقدار ٹہرے، بعدازاںمحمد سجادآئی دسمبر 2013میں لوٹیا کے شہر ڈوگا پلس میں آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں رسائی پاکر سلور میڈل جیتنے کے ساتھ 30 لاکھ روپے کے انعام حقدار بنے۔
دوسری جانب سابق عالمی اسنوکر چیمپئن محمد آصف بھی عالمی اعزازت کے حصول پر2 کروڑ روپے کے حکومتی انعام کے لیے ہنوز پر امید ہیں، انھوں نے د سمبر2012 میں بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں منعقدہ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیت کر عالمی چیمپئن ہونے کے ساتھ ساتھ حکومتی فیصلہ کے مطابق 1کروڑ روپے انعام کا حق بھی حاصل کیا۔
بعدازاں محمد آصف مئی2013 میں قطر کے شہر دوحا میں ہونے والی ایشین 6 ریڈ اسنوکر چیمپئن شپ اپنے نام کر کے قومی اسپورٹس پالیسی کے تحت 50 لاکھ روپے انعامی رقم کے حقدار بھی ٹہرے،محمد آصف نے سجاد کی ہمراہی میں2013کی آئی بی ایس ایف ورلڈ 6 ریڈز و ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ جیتنے پر بھی 50 لاکھ روپے کے انعام کا حق حاصل کیا تھا، دریں اثنا سابق عالمی چیمپئن کا کہنا ہے کہ حکومت عالمی سطح پر نمایاں کاکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ان کے اعتماد میں اضافہ ہو اور وہ آئندہ بھی ملک و قوم کا نام روشن کرتے رہیں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ کی مسلسل یقین دہانیوں کے باوجود انعامی رقم کی عدم ا دائیگی حیران کن ہے، سابق عالمی چیمپئن نے کہا کہ قومی کیوئسٹ محمد سجاد کی بھارت میں اختتام پذیر ہونے والی آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کے فائنل میں رسائی قابل فخر ہے۔