احتجاجی دھرنے نے حکومت کو کام کرنے پر مجبور کردیا
دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت و سرمایہ کاری کو نقصان ضرور پہنچا ہے مگر ان دھرنوں نے حکومت میں بھی ایک نئی روح پھونکی ہے
دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت و سرمایہ کاری کو نقصان ضرور پہنچا ہے مگر ان دھرنوں نے حکومت میں بھی ایک نئی روح پھونکی ہے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
وزیراعظم میاں نواز شریف سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے بعد سرکاری دورے پر برطانیہ روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ افغانستان کے سلسلے میں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم نے برطانیہ روانگی سے اعلی سطح کے اجلاس میں خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ایک ہزار سکولوں کی تعمیر کیلئے آٹھ ارب روپے کی منظوری دی ۔ اجلاس میں وزیراعظم نے واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی توجہ پاکستان کی ترقی پر ہے، 2018 میں قوم کو مستحکم اور خوشحال پاکستان دیں گے، ہم روشن خیبر پختونخوا کے ساتھ روشن پاکستان بنائیں گے۔ اس سے قبل حویلیاں میں بڑے اجتماع سے خطاب میں وزیراعظم نے 33 ارب روپے سے زائد لاگت سے موٹر وے کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کیا۔
اس منصوبے کی تعمیر کے علاوہ ڈرائی پورٹ بھی قائم کیا جائیگا۔ وزیراعظم چین سمیت دیگر ممالک کے بھی دورے کرچکے ہیں جن میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اربوں ڈالر کے معاہدے ہوئے ہیں، وہیں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے پُرکشش مواقع بارے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت و سرمایہ کاری کونقصان ضرور پہنچا ہے مگر ان دھرنوں نے حکومت میں بھی ایک نئی روح پھونکی ہے اور حکومت اور اسکی پوری مشینری بہت زیادہ متحرک ہوگئی جس کے ذریعے دھرنوں سے پہنچنے والے نقصان کے ازالہ کی کوششیں کی جارہی ہیں اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حالیہ دورے بھی انہی کوششوں کا تسلسل ہے۔
ان کوششوں کے ثمرات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور حکومت اکتیس دسمبر تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پندرہ ارب ڈالر تک کرنے کا ایک اور وعدہ مکمل کرنے جا رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ نجکاری پروگرام کے تحت الائیڈ بینک کے حکومتی حصص بھی اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے فروخت کیلئے جلد پیش کئے جانے کا امکان ہے اور آئی ایم ایف سے بھی ایک ارب دس کروڑ ڈالرکی دو اقساط یکمشت ملنے کی توقع ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر مضبوط ہوگی۔
رواں ماہ بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے جن کو قابو کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کی دھرنا سیاست نے ایک مرتبہ حالات کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔ یہ کریڈٹ پارلیمنٹ و جمہوری و سیاسی قوتوں کو جاتا ہے جو ڈٹ گئیں اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئیں۔ اب پلان اے و بی کی ناکامی کے بعد پلان سی دیا گیا ہے جسکی ناکامی کی صورت میں پلان ڈی کی بھی ایڈوانس میں نوید سنادی گئی ہے لیکن نہیں معلوم کہ تحریک انصاف سے غلطیاں کروائی جارہی ہیں یا تحریک انصاف دانستہ طور پر غلطیاں دہُرا رہی ہے۔
اگرچہ جماعۃ الدعوۃ نے اپنے اجتماع کے باعث تحریک انصاف کو لاہور بند کرنے کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست کی اور پہلی مرتبہ تحریک انصاف کو کسی سیانے نے درست مشورہ دیا اور پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے اعلان کردہ شیڈول کو تبدیل بھی کردیا ۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ پلان اے اور بی کی ناکامی کی خوش فہمی میں پلان سی اور ڈی کی ناکامی کا انتظار کئے بغیر مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔
اگر ایک طرف برف پگھلنا شروع ہوئی ہے اور تحریک انصاف کی قیادت الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے نتائج سے وزیراعظم کے استعفٰی کو منسلک کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے تو حکومت کو آگے بڑھ کر مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے اورمعاملہ کو حل کرکے تحریک انصاف کو واپس پارلیمنٹ میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دوسری جانب حکومت ملک و قوم کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے بھی پُرعزم دکھائی دیتی ہے ۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک و قوم کو توانائی کے بحران سے نجات دلائی جائے کیونکہ مسلم لیگ ن توانائی کا مسئلہ حل کریگی تو 2018 کے الیکشن میں جاسکے گی، اگر توانائی بحران حل نہ کرسکی تو 2018 کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کا حال بھی وہی ہوگا جو 2013 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کا ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت چین کے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر بہت سنجیدہ دکھائی دیتی ہے اور چین کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوبارہ سے شیڈول کے تعین کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، مگر اس کے ساتھ ہی وزیراعظم سیکرٹریٹ و حکومتی ٹیم چین کے ساتھ معاہدوں کے حوالے سے مسلسل فالو اپ کر رہے ہیں جس کی جھلک پیر کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والی کابینہ کی خصوصی کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں بھی دکھائی دی جس میں وزیراعظم کے ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد اور فاقی سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگہ سمیت دیگر اعلی حکام پر مشتمل ٹیم کے چین کے حالیہ دورہ میں ہونے والی فالو اپ میٹنگز اور اس بارے ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چین کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کے تحت توانائی کے منصوبوں کی گراونڈ بریکنگ اور2017 تک توانائی کے منصوبے مکمل کرکے قومی گرڈ میں اضافی بجلی شامل کرنے کی حکمت عملی زیر غور آئی۔ اس کے علاوہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت سفارتی سطح پر بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دے رہی ہے۔
ایک طرف وزیراعظم میاں نواز شریف غیر ملکی دورے کر رہے ہیں تو دوسری جانب آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی بھی افغانستان اور امریکہ کے دورے کررہے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کی الگ الگ سفارتکاری قوجی و سیاسی قیادت میں پائی جانے والی خلیج کا عکاس ہے مگر وہیں مقتدر حلقے اس سفارتکاری کو عسکری و سیاسی قیادت میں ہم آہنگی و مضبوط تعاون سے تعبیر کررہے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف بھی اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ کیمرون کی دعوت پر لندن پہنچ چُکے ہیں جہاں وہ افغانستان کے سلسلے میں ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ لندن میں قیام کے دوران وزیراعظم نوازشریف برطانوی قیادت اورعالمی بینک کے اعلیٰ حکام کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بھی ملاقات کریں گے جس میں خطے کی صورتحال بالخصوص افغانستان کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا اورامریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی جمعرات کو لندن پہنچیں گے جہاں وہ سائیڈ لائن میٹنگز میں وزیر اعظم نواز شریف سے بات چیت کریں گے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے بعد سرکاری دورے پر برطانیہ روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ افغانستان کے سلسلے میں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم نے برطانیہ روانگی سے اعلی سطح کے اجلاس میں خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ایک ہزار سکولوں کی تعمیر کیلئے آٹھ ارب روپے کی منظوری دی ۔ اجلاس میں وزیراعظم نے واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی توجہ پاکستان کی ترقی پر ہے، 2018 میں قوم کو مستحکم اور خوشحال پاکستان دیں گے، ہم روشن خیبر پختونخوا کے ساتھ روشن پاکستان بنائیں گے۔ اس سے قبل حویلیاں میں بڑے اجتماع سے خطاب میں وزیراعظم نے 33 ارب روپے سے زائد لاگت سے موٹر وے کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کیا۔
اس منصوبے کی تعمیر کے علاوہ ڈرائی پورٹ بھی قائم کیا جائیگا۔ وزیراعظم چین سمیت دیگر ممالک کے بھی دورے کرچکے ہیں جن میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اربوں ڈالر کے معاہدے ہوئے ہیں، وہیں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے پُرکشش مواقع بارے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت و سرمایہ کاری کونقصان ضرور پہنچا ہے مگر ان دھرنوں نے حکومت میں بھی ایک نئی روح پھونکی ہے اور حکومت اور اسکی پوری مشینری بہت زیادہ متحرک ہوگئی جس کے ذریعے دھرنوں سے پہنچنے والے نقصان کے ازالہ کی کوششیں کی جارہی ہیں اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حالیہ دورے بھی انہی کوششوں کا تسلسل ہے۔
ان کوششوں کے ثمرات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور حکومت اکتیس دسمبر تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پندرہ ارب ڈالر تک کرنے کا ایک اور وعدہ مکمل کرنے جا رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ نجکاری پروگرام کے تحت الائیڈ بینک کے حکومتی حصص بھی اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے فروخت کیلئے جلد پیش کئے جانے کا امکان ہے اور آئی ایم ایف سے بھی ایک ارب دس کروڑ ڈالرکی دو اقساط یکمشت ملنے کی توقع ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر مضبوط ہوگی۔
رواں ماہ بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے جن کو قابو کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کی دھرنا سیاست نے ایک مرتبہ حالات کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔ یہ کریڈٹ پارلیمنٹ و جمہوری و سیاسی قوتوں کو جاتا ہے جو ڈٹ گئیں اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئیں۔ اب پلان اے و بی کی ناکامی کے بعد پلان سی دیا گیا ہے جسکی ناکامی کی صورت میں پلان ڈی کی بھی ایڈوانس میں نوید سنادی گئی ہے لیکن نہیں معلوم کہ تحریک انصاف سے غلطیاں کروائی جارہی ہیں یا تحریک انصاف دانستہ طور پر غلطیاں دہُرا رہی ہے۔
اگرچہ جماعۃ الدعوۃ نے اپنے اجتماع کے باعث تحریک انصاف کو لاہور بند کرنے کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست کی اور پہلی مرتبہ تحریک انصاف کو کسی سیانے نے درست مشورہ دیا اور پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے اعلان کردہ شیڈول کو تبدیل بھی کردیا ۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ پلان اے اور بی کی ناکامی کی خوش فہمی میں پلان سی اور ڈی کی ناکامی کا انتظار کئے بغیر مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔
اگر ایک طرف برف پگھلنا شروع ہوئی ہے اور تحریک انصاف کی قیادت الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے نتائج سے وزیراعظم کے استعفٰی کو منسلک کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے تو حکومت کو آگے بڑھ کر مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے اورمعاملہ کو حل کرکے تحریک انصاف کو واپس پارلیمنٹ میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دوسری جانب حکومت ملک و قوم کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے بھی پُرعزم دکھائی دیتی ہے ۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک و قوم کو توانائی کے بحران سے نجات دلائی جائے کیونکہ مسلم لیگ ن توانائی کا مسئلہ حل کریگی تو 2018 کے الیکشن میں جاسکے گی، اگر توانائی بحران حل نہ کرسکی تو 2018 کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کا حال بھی وہی ہوگا جو 2013 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کا ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت چین کے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر بہت سنجیدہ دکھائی دیتی ہے اور چین کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوبارہ سے شیڈول کے تعین کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، مگر اس کے ساتھ ہی وزیراعظم سیکرٹریٹ و حکومتی ٹیم چین کے ساتھ معاہدوں کے حوالے سے مسلسل فالو اپ کر رہے ہیں جس کی جھلک پیر کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والی کابینہ کی خصوصی کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں بھی دکھائی دی جس میں وزیراعظم کے ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد اور فاقی سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگہ سمیت دیگر اعلی حکام پر مشتمل ٹیم کے چین کے حالیہ دورہ میں ہونے والی فالو اپ میٹنگز اور اس بارے ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چین کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کے تحت توانائی کے منصوبوں کی گراونڈ بریکنگ اور2017 تک توانائی کے منصوبے مکمل کرکے قومی گرڈ میں اضافی بجلی شامل کرنے کی حکمت عملی زیر غور آئی۔ اس کے علاوہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت سفارتی سطح پر بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دے رہی ہے۔
ایک طرف وزیراعظم میاں نواز شریف غیر ملکی دورے کر رہے ہیں تو دوسری جانب آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی بھی افغانستان اور امریکہ کے دورے کررہے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کی الگ الگ سفارتکاری قوجی و سیاسی قیادت میں پائی جانے والی خلیج کا عکاس ہے مگر وہیں مقتدر حلقے اس سفارتکاری کو عسکری و سیاسی قیادت میں ہم آہنگی و مضبوط تعاون سے تعبیر کررہے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف بھی اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ کیمرون کی دعوت پر لندن پہنچ چُکے ہیں جہاں وہ افغانستان کے سلسلے میں ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ لندن میں قیام کے دوران وزیراعظم نوازشریف برطانوی قیادت اورعالمی بینک کے اعلیٰ حکام کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بھی ملاقات کریں گے جس میں خطے کی صورتحال بالخصوص افغانستان کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا اورامریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی جمعرات کو لندن پہنچیں گے جہاں وہ سائیڈ لائن میٹنگز میں وزیر اعظم نواز شریف سے بات چیت کریں گے۔