مذاکرات کی پیشکش خوش آیند

پاکستان کی بنیاد جمہوریت اور جمہوریت کی بنیاد شفاف الیکشن ہیں، اس کے بغیر ملکی سلامتی رہے گی نہ آئینی ادارے۔

سیاسی حریفوں میں یہ سوچ تقویت پا رہی ہے کہ اب مذاکرات کا آپشن اختیار کیا جائے، اس لیے بلاتاخیر بات چیت سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ شروع ہو، ڈبل گیم نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف سے حکومتی مذاکرات کی پیشکش اور پی ٹی آئی کا احتجاج منسوخ کرنے پر رضامندی کی میڈیا میں اطلاعات خوش آیند اور مثبت ہیں ، در اصل جس اعصاب شکن سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس پیش رفت کو عملی نتائج سے ہمکنار کیا جائے گا وہ نہ صرف تقاضائے وقت ہوگا بلکہ بادی النظر میں قوم اسے مفاہمانہ مکالمہ کی امکانی صورتحال کی جانب پیش قدمی کا ایک اہم قدم اور تصفیہ کی سمت بلیغ اشارہ بھی سمجھے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ چند ماہ سے ملک میں سیاسی بحران اور کشیدگی کے تسلسل و اسباب کا اگر اجمالاً جائزہ لیا جائے تو اس میں اس وقت اضافہ ہوا جب عمران خان نے پہیہ جام ہڑتال کی کال دی ، صورتحال اتنی زلزلہ خیزنہ تھی مگر اس شو ڈاؤن کے اندیشہ سے اس میں مزید شدت آگئی، اس صورتحال میں تصادم کے خدشات بھی سر اٹھانے لگے اور نظر ایسا آنے لگا کہ جمہوری عمل کے گرداب میں پھنسنے اور ملکی سیاسی و سماجی حالات کے ایک اندوہ ناک اور تہلکہ خیز رخ اختیار کرنے کے خطرات بڑھتے جائیں گے، مگر اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے افہام وتفہیم اور مذاکرات کے عملیت پسندانہ اشارے بھی سامنے آنے شروع ہوئے، جس سے یہ امید بندھی کہ سیاسی مصالحت ناممکن نہیں اور رابطوں ، مختلف چینلز سے مفاہمت اور مسائل و تنازعات کے حل کی کوششیں خوشگوار انجام پر منتج ہوسکتی ہیں ۔

قبل ازیں اسلام آباد دھرنے میں عمران خان نے پر شور ماحول میں اس امر کا عندیہ دیا کہ وہ مذاکرات پر تیار ہیں ۔اسی دوران میڈیا نے وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مابین ملاقات کی اطلاع دی جس میں جاری سیاسی صورتحال کے حل کے لیے مختلف آپشنز زیر غور لائے جانے اور بات چیت پر رضامندی کا حکومتی اشارہ بھی ملا، ادھر تحریک انصاف کی قیادت نے واضح کردیا کہ دھرنوں سے ان کا مقصد اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا ہے تصادم ہر گز نہیں ۔ چنانچہ محسوس ہونے لگا کہ فریقین بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔ واضح رہے عمران نے 30 نومبر کے جلسہ کے بعد دسمبر کے اوائل میں اپنے مختلف احتجاجی پلانز بھی ترتیب نو کے ساتھ پیش کیے، رویوں اور بدن بولی میں ان مثبت تبدیلیوں کے پیش نظر وزیراعظم نواز شریف کا منگل کو لندن سے یہ خوش آیند بیان آیا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔


گزشتہ روز ہی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، وزیراعظم سے مشاورت کے بعد مذاکرات کی تاریخ دی جا سکتی ہے ، اگر ہم چھ دسمبرکو بیٹھتے ہیں تو تحریک انصاف آٹھ دسمبرکا احتجاج منسوخ کردے، جب کہ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات کے آغاز سے ہی پی ٹی آئی احتجاج کی کال منسوخ کرسکتی ہے ۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پانچ دسمبر تک حکومت کی ترجیح چیف الیکشن کمشنرکی تقرری ہے، چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی اور وزیراعظم کی بیرونی دورے سے واپسی کے بعد بات ہوسکتی ہے، پی ٹی آئی کا اصل ایشو انتخابی اصلاحات ہے ۔ بہر کیف دو طرفہ کشمکش ،کشیدگی اور تلخ بیانی سے بات چیت کی طرف مراجعت خوش آیند بات ہے، حکومت اور تحریک انصاف کی ایک دوسرے کے قریب آنے کی خواہش جمہوری روایات اور اقدار کی آئینہ دار ہے۔

اس کی تحسین کی جانی چاہیے، یہ اس حقیقت کا بھی اظہار ہے کہ سیاسی حریفوں میں یہ سوچ تقویت پا رہی ہے کہ اب مذاکرات کا آپشن اختیار کیا جائے، اس لیے بلاتاخیر بات چیت سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ شروع ہو، ڈبل گیم نہیں ہونی چاہیے، تمام سیاسی قیادتوں کو اس مذاکراتی عمل کے سلسلہ میں اعتماد میں لیا جائے، اس وقت سیاسی گہما گہمی صرف تند و تیز بیانات اور اشاروں ،کنایوں تک محدود ہے جسے نتیجہ خیز بنانے کے لیے فیصلہ کن پیش رفت کی ضرورت ہے ۔ پچھلے انتخابات کے حوالہ سے دھاندلی اہم ایشو بلکہ سارے ایشوز کی ماں ہے۔ ادھر سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کے متعلق تحریک انصاف کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ پاکستان کی بنیاد جمہوریت اور جمہوریت کی بنیاد شفاف الیکشن ہیں، اس کے بغیر ملکی سلامتی رہے گی نہ آئینی ادارے اور ان کی روح زندہ رہے گی ۔ لہٰذا اس کا تصفیہ بھی اشد ضروری ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ وزیراعظم نواز شریف پاکستان تحریک انصاف کو باقاعدہ مذاکرات کی دعوت دیں ۔ عمران بھی اپنے اندر لچک پیدا کریں، سیاست امکانات کا فن ہے، ملک کے عظیم تر مفاد کا تقاضہ ہے کہ اس اہم موڑ پر روایتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کے بجائے دونوں سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت اور حکومت کے اکابرین روبرو بیٹھیں ، تصفیہ طلب امور پر غیر جذباتی اور انتہائی ٹھنڈے مزاج اور صبر و تحمل سے مصالحت کا کوئی پائیدار اور باوقار درمیانی راستہ نکالا جائے تاکہ دو طرفہ گفتگو نشستند و گفتند و برخاستند کے طعنوں سے بھی پاک ہو ۔ ملکی سلامتی ، معیشت اور سماجی ترقی کے اہداف پورے ہوں ، عوام سکون کا سانس لے سکیں ۔عظیم یونانی فلسفی ہیرو ڈوٹس نے کہا تھا کہ ''کوئی اتنا احمق نہیں ہوتا کہ امن کے بجائے جنگ کا انتخاب کرے ۔ حالت امن میں بیٹے باپ کی تدفین کرتے ہیں جب کہ جنگ میں باپ بیٹوں کو لحد میں اتارتے ہیں ''۔ اس مقولہ میں دریائے معانی کا ایک طلسم چھپا ہوا ہے ، ہمارے مقتدر سیاسی رہنماؤں اور حکمرانوں کو اس کے ادراک کی ضرورت ہے ۔
Load Next Story