دہشت گردی کے نئے خطرات ہوشیار رہنے کی ضرورت

اگرپاکستان میں داعش کا کوئی وجودہےخواہ وہ معمولی سطح ہی پرکیوں نہ ہو اس سےنمٹنے کے لیےابھی سے پالیسی تشکیل دینا ہو گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا عذاب بھی امریکا اور اتحادی ممالک ہی کا پیدا کردہ ہے، انتہا پسند تنظیموں کو اسلحہ اور تربیت امریکا ہی نے دی، فوٹو: فائل

اس وقت یورپ عالمی سطح پر القاعدہ اور طالبان کے بعد داعش کو اپنے لیے بڑا خطرہ تصور کر رہا ہے کیونکہ ایسی اطلاعات منظرعام پر آ چکی ہیں کہ یورپ' امریکا' آسٹریلیا' بھارت اور دیگر ممالک سے مسلمان نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد داعش میں شمولیت کے لیے عراق جا رہی ہے اس لیے یورپ کو خدشہ ہے کہ یہ نوجوان مسلح تربیت اور انتہا پسندانہ نظریات لے کر جب واپس آئیں گے تو اس سے یورپ میں انتہا پسندی کو تقویت مل سکتی ہے جو مستقبل میں اس کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔

لہٰذا یہی وجہ ہے کہ وہ داعش کے خاتمے کے لیے متحرک ہو چکا ہے۔ بدھ کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں یورپی یونین کے سفیر وگ مارک نے اسی خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان اور داعش ایک ہی ہیں'دہشت گردی کو کچلنے کے لیے پاکستان کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں' داعش کا یورپ سے جنگجوؤں کو بھرتی کرنا تشویشناک ہے۔

پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے اور وہ اس عفریت سے نمٹنے کے لیے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے بڑے پیمانے پر آپریشن بھی کر رہا ہے، اس آپریشن کے شروع ہونے کے بعد انتہا پسندوں کی ایک بڑی تعداد ماری گئی یا فرار ہو گئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اب گزشتہ چند ماہ سے پاکستان میں داعش کی موجودگی کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اس سلسلے میں مختلف شہروں میں داعش کی حمایت میں وال چاکنگ بھی منظرعام پر آئی اور چند افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان میں داعش کی موجودگی پر تشویش کا مسلسل اظہار کیا جا رہا ہے جس پر حکومتی ارکان کی جانب سے بارہا یہ وضاحت آ چکی ہے کہ یہاں داعش کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔ حکومت پاکستان کو اس خطرے کے حوالے سے روایتی نظر اندازی کے رویے کو ترک کر کے کھل کر وضاحت کرنا ہو گی۔ اگر پاکستان میں داعش کا کوئی وجود ہے خواہ وہ معمولی سطح ہی پر کیوں نہ ہو اس سے نمٹنے کے لیے ابھی سے پالیسی تشکیل دینا ہو گی۔


اسے معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنا قطعی طور پر درست عمل نہیں اگر یہی رویہ رہا تو آنے والے دنوں میں یہ بڑھ کر بڑے خطرے کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ پاکستان میں عملی طور پر داعش کا کوئی وجود نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایک عالمی سازش کے تحت داعش کی موجودگی کو پاکستان میں ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا اور اس کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہو۔ پاکستان کو اس حوالے سے بہت زیادہ چاک و چوبند اور ہوشیار رہنا ہو گا۔ یورپی یونین کے سفیر کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا ہو گا اور ایک مربوط پالیسی اختیار کرنی ہو گی۔

گزشتہ روز بیلجیم میں اتحادی ممالک کے اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ اتحادی ممالک کے جاری فضائی حملوں میں داعش کی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا تاہم اس عسکری گروہ پر قابو پانے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔ امریکا افغانستان میں ایک طویل عرصے تک جنگ لڑنے کے باوجود طالبان کا خاتمہ نہیں کر سکا اور وہ اب بھی ایک بڑے خطرے کی صورت میں موجود ہیں اور نیٹو افواج پر حملے کر کے اپنی قوت کا اظہار کرتے رہتے ہیں اب عراق میں داعش امریکا اور اتحادی افواج کے خلاف نبرد آزما ہے۔

امریکا خود اعتراف کر رہا ہے کہ تمام تر عسکری صلاحیت کے باوجود داعش پر قابو پانے میں اسے کئی برس لگ سکتے ہیں۔ یورپی یونین کے سفیر وگ مارک نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کہا کہ اس مسئلے سمیت بھارت کے ساتھ دیگر معاملات پر بھی مذاکرات ہونے چاہئیں۔ یورپی یونین کو بخوبی علم ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک منصوبے کے تحت برطانیہ ہی کا پیدا کردہ ہے اگر امریکا اور دیگر عالمی قوتیں آج اپنا متحرک کردار ادا کریں تو یہ مسئلہ چند ماہ میں حل ہو سکتا ہے لیکن جو صورت حال اب تک سامنے آ رہی ہے اس کے مطابق عالمی طاقتیں اس مسئلے کو حل ہی کرنا نہیں چاہتیں۔ یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں بہت قربانیاں دیں جس کو یورپی یونین قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

امریکا اور یورپی یونین دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی تو کئی بار توصیف کر چکے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر اپنا دباؤ جاری رکھنے کے لیے مختلف حربے بھی استعمال کرتے رہتے ہیں' ڈرون حملے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا عذاب بھی امریکا اور اتحادی ممالک ہی کا پیدا کردہ ہے، انتہا پسند تنظیموں کو اسلحہ اور تربیت امریکا ہی نے دی۔

اب یہ تنظیمیں اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہیں اور ان پر امریکا کا کوئی کنٹرول نہیں رہا۔ پاکستان کو امریکا اور اتحادی ممالک سے یہ مطالبہ کرنا ہو گا کہ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کو پاکستان سے نتھی کر کے عالمی سطح پر اسے بدنام کرنے کی کوئی کوشش بھی قابل قبول نہ ہو گی۔ یہ پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے تمام قوتوں کو آگے آنا ہو گا۔
Load Next Story