حکومت سندھ کو فنڈز میں کمی کا سامنا
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کو پہلے ہی اس سال پی ایس ڈی پی کے تحت مختص کردہ فنڈز میں کمی کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے افسران سے کہا کہ وہ صوبہ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کریں۔ فوٹو: فائل
لاہور:
اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت سندھ کو میگا پروجیکٹس کی تکمیل کے لیے فنڈز میں کمی کا سامنا ہے، اس سلسلے میں بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں میگا ڈیولپمنٹ پروجیکٹس سے متعلق مسائل کے بارے میں قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کو پہلے ہی اس سال پی ایس ڈی پی کے تحت مختص کردہ فنڈز میں کمی کا سامنا ہے، سندھ حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے متعلق منصوبوں کی لاگت برداشت کرسکے اور نہ ہی وعدہ کیے گئے فنڈز کے عدم اجرا کے باعث ان میگا ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی متحمل ہوسکتی ہے۔
قائم علی شاہ نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ وعدے کے مطابق فنڈز فراہم کرے اور منصوبے پر عملدرآمد کے لیے اتھارٹی سندھ حکومت کو دے تاکہ وہ کراچی میں گرین بس لائن کوریڈور پرکام کا آغاز کرسکے، جب کہ دریائے سندھ پر قاضی احمد آمری پل کی توسیع کے منصوبے پرخرچ کیے گئے 3.6 ارب روپے بھی برداشت کرے۔ واضح رہے کہ قاضی احمد آمری پل کی 2 لین کو 4 لین سڑک بنانے کی نظرثانی شدہ اسکیم سابق صدر پاکستان کی ہدایت کے تحت شروع کی گئی تھی، اس پل کی بدولت ملک بھر سے لعل شہباز قلندر کے مزار پر آنے والے زائرین کو سہولت میسر ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 25 ارب روپے کی مالیت کا K-4 میگا واٹر پروجیکٹ ایک علیحدہ منصوبہ ہے جوکہ 50 فیصد شراکت کی بنیاد پر وفاقی حکومت اور سندھ حکومت نے شروع کرنا ہے، مگر اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت سے سفارش کی کہ وہ اپنے حصہ کا 50 فیصد رقم جاری کرے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے افسران سے کہا کہ وہ صوبہ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کریں۔ مذکورہ تمام میگا پروجیکٹس اپنی جگہ پر اہمیت کے حامل ہیں جن کی بروقت تکمیل سے سندھ کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے گا، وفاقی حکومت کو سندھ حکومت کی مجبوریاں مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد فنڈز کی فراہمی کو ممکن بنانا چاہیے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت سندھ کو میگا پروجیکٹس کی تکمیل کے لیے فنڈز میں کمی کا سامنا ہے، اس سلسلے میں بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں میگا ڈیولپمنٹ پروجیکٹس سے متعلق مسائل کے بارے میں قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کو پہلے ہی اس سال پی ایس ڈی پی کے تحت مختص کردہ فنڈز میں کمی کا سامنا ہے، سندھ حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے متعلق منصوبوں کی لاگت برداشت کرسکے اور نہ ہی وعدہ کیے گئے فنڈز کے عدم اجرا کے باعث ان میگا ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی متحمل ہوسکتی ہے۔
قائم علی شاہ نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ وعدے کے مطابق فنڈز فراہم کرے اور منصوبے پر عملدرآمد کے لیے اتھارٹی سندھ حکومت کو دے تاکہ وہ کراچی میں گرین بس لائن کوریڈور پرکام کا آغاز کرسکے، جب کہ دریائے سندھ پر قاضی احمد آمری پل کی توسیع کے منصوبے پرخرچ کیے گئے 3.6 ارب روپے بھی برداشت کرے۔ واضح رہے کہ قاضی احمد آمری پل کی 2 لین کو 4 لین سڑک بنانے کی نظرثانی شدہ اسکیم سابق صدر پاکستان کی ہدایت کے تحت شروع کی گئی تھی، اس پل کی بدولت ملک بھر سے لعل شہباز قلندر کے مزار پر آنے والے زائرین کو سہولت میسر ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 25 ارب روپے کی مالیت کا K-4 میگا واٹر پروجیکٹ ایک علیحدہ منصوبہ ہے جوکہ 50 فیصد شراکت کی بنیاد پر وفاقی حکومت اور سندھ حکومت نے شروع کرنا ہے، مگر اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت سے سفارش کی کہ وہ اپنے حصہ کا 50 فیصد رقم جاری کرے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے افسران سے کہا کہ وہ صوبہ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کریں۔ مذکورہ تمام میگا پروجیکٹس اپنی جگہ پر اہمیت کے حامل ہیں جن کی بروقت تکمیل سے سندھ کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے گا، وفاقی حکومت کو سندھ حکومت کی مجبوریاں مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد فنڈز کی فراہمی کو ممکن بنانا چاہیے۔