کرکٹ ورلڈ کپ کو کرپٹ افراد سے بچانے کیلئے کوششیں تیز
نیوزی لینڈ میں کھیل کوداغدار کرنے والے7 برس تک سلاخوں کے پیچھے رہیں گے
خصوصی کرائم میچ فکسنگ ترمیمی بل منظور، باقاعدہ نفاذ 15 دسمبر سے ہوگا .فوٹو فائل
KARACHI:
نیوزی لینڈ کی حکومت نے فکسنگ کیخلاف خصوصی بل منظور کرلیا، ورلڈ کپ کو کرپٹ افراد سے بچانے کیلیے کوششیں تیز ہوگئیں،کھیل کو داغدار کرنے والے7 برس تک سلاخوں کے پیچھے رہیں گے۔
تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ میں جو بھی شخص میچ فکسنگ میں ملوث ہوا، اعانت کی یا اس کاکرپشن سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ثابت ہوگیا تو 7 برس کے لیے جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔ حکومت کی جانب سے تیار کردہ خصوصی کرائم میچ فکسنگ ترمیمی بل کو گذشتہ روز منظور کرلیا گیا، یہ کھیلوں کو کرپشن سے پاک کرنے کیلیے 12 ماہ سے جاری کوششوں کا ایک حصہ ہے، وزیر کھیل جوناتھن کولمین نے کہا کہ میچ فکسنگ کھیلوں کیلیے عالمی سطح پر ایک بہت بڑا مسئلہ اور انکی ساکھ و دیانتداری کیلیے بھی خطرہ ہے، ہم اس حوالے سے آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھ سکتے، ہم نے یہ بل کھیل کی ساکھ اور دیانتداری کو برقرار رکھنے اور اس کی حفاظت کے لیے پاس کیا ہے۔
واضح رہے کہ نئے قانون کا باقاعدہ نفاذ 15 دسمبر سے ہوگا اور خاص طور پر یہ آئندہ برس شیڈول کرکٹ ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، البتہ دائرہ کار تمام کھیلوں تک وسیع ہوگا۔ اس سلسلے میں حکومتی ایجنسیز، پولیس، فراڈ آفیسرز اور اسپورٹس سیکٹر ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کریں گے، بیٹنگ انڈسٹری سے بھی مسلسل رابطہ رکھا جائے گا تاکہ کوئی منفرد پیٹرن سامنے آئے تو فوری طور پر اس کے بارے میں تحقیقات کی جائیں۔ یاد رہے کہ اس وقت خود نیوزی لینڈکی کرکٹ کرپشن الزامات سے بوکھلائی ہوئی ہے، سابق اسٹار آل راؤنڈر کرس کینز کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے جبکہ لوونسنٹ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرچکے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی حکومت نے فکسنگ کیخلاف خصوصی بل منظور کرلیا، ورلڈ کپ کو کرپٹ افراد سے بچانے کیلیے کوششیں تیز ہوگئیں،کھیل کو داغدار کرنے والے7 برس تک سلاخوں کے پیچھے رہیں گے۔
تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ میں جو بھی شخص میچ فکسنگ میں ملوث ہوا، اعانت کی یا اس کاکرپشن سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ثابت ہوگیا تو 7 برس کے لیے جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔ حکومت کی جانب سے تیار کردہ خصوصی کرائم میچ فکسنگ ترمیمی بل کو گذشتہ روز منظور کرلیا گیا، یہ کھیلوں کو کرپشن سے پاک کرنے کیلیے 12 ماہ سے جاری کوششوں کا ایک حصہ ہے، وزیر کھیل جوناتھن کولمین نے کہا کہ میچ فکسنگ کھیلوں کیلیے عالمی سطح پر ایک بہت بڑا مسئلہ اور انکی ساکھ و دیانتداری کیلیے بھی خطرہ ہے، ہم اس حوالے سے آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھ سکتے، ہم نے یہ بل کھیل کی ساکھ اور دیانتداری کو برقرار رکھنے اور اس کی حفاظت کے لیے پاس کیا ہے۔
واضح رہے کہ نئے قانون کا باقاعدہ نفاذ 15 دسمبر سے ہوگا اور خاص طور پر یہ آئندہ برس شیڈول کرکٹ ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، البتہ دائرہ کار تمام کھیلوں تک وسیع ہوگا۔ اس سلسلے میں حکومتی ایجنسیز، پولیس، فراڈ آفیسرز اور اسپورٹس سیکٹر ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کریں گے، بیٹنگ انڈسٹری سے بھی مسلسل رابطہ رکھا جائے گا تاکہ کوئی منفرد پیٹرن سامنے آئے تو فوری طور پر اس کے بارے میں تحقیقات کی جائیں۔ یاد رہے کہ اس وقت خود نیوزی لینڈکی کرکٹ کرپشن الزامات سے بوکھلائی ہوئی ہے، سابق اسٹار آل راؤنڈر کرس کینز کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے جبکہ لوونسنٹ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرچکے ہیں۔