نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری

جسٹس سردار محمد جان ان جرات مند جج صاحبان میں شامل تھے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔

الیکشن کمیشن کو زیادہ طاقتور اور اثر پذیر بنانے کے لیے جن قانونی و آئینی تقاضوں کی ضرورت ہے انھیں بروئے کار لایا جائے تو تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز مطمئن ہو سکتے ہیں۔

سولہ مہینے کی تاخیر اور صلاح مشوروں کے بعد بالآخر قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے چیف الیکشن کمشنر کی متفقہ طور پر منظوری دیدی ہے۔ریٹائرڈ جسٹس سردار محمد رضا خاں کو اس منصب پر فائز کیا گیا ہے۔صدر مملکت ممنون حسین نے ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

جسٹس سردار رضا پانچ سال تک اپنے فرائض منصبی انجام دیں گے۔ گزشتہ روز نئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) نے حلف اٹھا لیا۔ واضح رہے یہ اہم ترین تعیناتی سپریم کورٹ کی چوتھی مرتبہ دی جانے والی ڈیڈ لائن کے خاتمے سے محض ایک روز قبل عمل میں لائی گئی۔ جسٹس سردار محمد رضا خاں فی الوقت وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ اہم منصب فخر الدین جی ابراہیم کے مستعفی ہونے کے بعد سے خالی تھا۔ وہ 31 جولائی 2013 کومستعفی ہو گئے تھے۔


سردار محمد رضا خان سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں جب کہ قبل ازیں وہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ انھیں فروری 2010 میں سپریم کورٹ میں ریٹائر ہونا تھا لیکن اس سے پہلے انھیں 2009 میں دو مرتبہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا۔ ان کی شہرت ایک غیر جانبدار اور ایماندار شخصیت کی ہے۔ ستمبر 2007 میں جسٹس سردار محمد خان سپریم کورٹ کے اس بنچ میں شامل تھے جس نے صدر پرویز مشرف کی صدارت کو چیلنج کرنے والی پٹیشن کی سماعت کی تھی۔جب مشرف نے 2007 کو ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو جسٹس سردار محمد جان ان جرات مند جج صاحبان میں شامل تھے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔

انھوں نے این آر او پر بھی اعتراض اٹھایا تھا۔ ان کے اس پس منظر کی روشنی میں برملا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے حقیقی احترام پیدا کردیں گے۔ ان کی تقرری پر سیاسی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ تحریک انصاف نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے اسے مشاورت میں شریک نہیں کیا گیا۔

ادھر مسلم لیگ ق نے بھی ایسا ہی موقف اختیار کیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کو مسترد کر دیا۔ بہر حال چاہیے تو یہ تھا کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جاتا لیکن اب بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے' نئے چیف الیکشن کمشنر کی شخصیت اور پروفیشنل ازم پر کسی کو اعتراض نہیں ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کو زیادہ طاقتور اور اثر پذیر بنانے کے لیے جن قانونی و آئینی تقاضوں کی ضرورت ہے' انھیں بروئے کار لایا جائے تو تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز مطمئن ہو سکتے ہیں۔
Load Next Story