شعبہ صحت میں غفلت کا مظاہرہ
دنیا بھر میں صحت کے معاملات پر ہنگامی اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں معاملہ برعکس ہے۔
عوام کی صحت کے معاملے پر سیاست کسی طور قابل قبول نہیں ، وفاق اور صوبائی حکومتوں کو عوام کی صحت کے لیے فوراً میدان عمل میں آنا ہوگا ۔ فوٹو : ایکسپریس / فائل
عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت وقت کی ذمے داری ہوتی ہے، یہ پاکستانی عوام کی بدنصیبی ہے کہ ہر دور میں نہ صرف طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کا سامنا رہا ہے بلکہ نت نئے وائرس اور بیماریوں نے پاک وطن کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ دنیا بھر میں صحت کے معاملات پر ہنگامی اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں معاملہ برعکس ہے۔
یہاں لفظی مکالمے، کاغذی کارروائیوں کا غلغلہ تو خوب مچتا ہے لیکن عملی اقدامات خال ہی نظر آتے ہیں۔ پولیو، ڈنگی، برڈ فلو،کانگو وائرس ، اینتھراکس کے بعد ایبولا وائرس پھیلنے کے خدشات نے عوام میں اضطراب کو جنم دیا ہے لیکن حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات غیر تسلی بخش نظر آتے ہیں۔ بدھ کو عالمی ادارہ صحت کی ٹیم نے صوبائی محکمہ صحت سندھ کے افسران کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ کے آئیسولیشن وارڈ کا دورہ کیا اور ایبولا وائرس کے ممکنہ مریض کی آمد کے سلسلے میں آئیسولیشن یونٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ یہ خدشہ ماہرین پہلے ہی ظاہر کرچکے ہیں کہ بیرون ملک سے ایبولا وائرس سے متاثر کوئی بھی مریض شہر میں داخل ہوا تو یہ وائرس وبائی صورت اختیار کرسکتا ہے۔
علاوہ ازیں اخباری اطلاعات کے مطابق پنجاب میں تھیلیسیمیا کے مرض کا شکار 15 بچے مبینہ طور پر انفیکشن زدہ خون لگنے سے ایڈز میں مبتلا ہوگئے، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے مشیر صحت اور سیکریٹری صحت سے رپورٹ طلب کی۔ محکمہ صحت پنجاب نے واقعات کی تحقیقات کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کی رپورٹ میں مذکورہ مریضوں میں ایڈز وائرس کی موجودگی کی تردید کی گئی ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سرکاری و نجی اسپتالوں میں اسکریننگ شدہ خون کی فراہمی بڑا مسئلہ ہے، ملک میں بے شمار لوگوں کو غیر محفوظ طریقے سے خون منتقل کیا جاتا ہے جس سے ہیپاٹائٹس اور دیگر جان لیوا امراض جنم لے رہے ہیں ۔ دوسری جانب تھرپارکر میں جاری بدترین قحط نے مزید 2 بچوں کی جان لے لی ہے۔
65 روز میں 140 بچوں سمیت 148 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ تھرپارکر میں اس وقت سندھ سرکار کی جانب سے امدادی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں ۔ عوام کو سہولیات پہنچانے کے بجائے روایتی الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے اور وفاق و صوبائی حکومتیں معاملے کی نزاکت کو سمجھے بغیر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں ۔ عوام کی صحت کے معاملے پر سیاست کسی طور قابل قبول نہیں ، وفاق اور صوبائی حکومتوں کو عوام کی صحت کے لیے فوراً میدان عمل میں آنا ہوگا ۔
یہاں لفظی مکالمے، کاغذی کارروائیوں کا غلغلہ تو خوب مچتا ہے لیکن عملی اقدامات خال ہی نظر آتے ہیں۔ پولیو، ڈنگی، برڈ فلو،کانگو وائرس ، اینتھراکس کے بعد ایبولا وائرس پھیلنے کے خدشات نے عوام میں اضطراب کو جنم دیا ہے لیکن حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات غیر تسلی بخش نظر آتے ہیں۔ بدھ کو عالمی ادارہ صحت کی ٹیم نے صوبائی محکمہ صحت سندھ کے افسران کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ کے آئیسولیشن وارڈ کا دورہ کیا اور ایبولا وائرس کے ممکنہ مریض کی آمد کے سلسلے میں آئیسولیشن یونٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ یہ خدشہ ماہرین پہلے ہی ظاہر کرچکے ہیں کہ بیرون ملک سے ایبولا وائرس سے متاثر کوئی بھی مریض شہر میں داخل ہوا تو یہ وائرس وبائی صورت اختیار کرسکتا ہے۔
علاوہ ازیں اخباری اطلاعات کے مطابق پنجاب میں تھیلیسیمیا کے مرض کا شکار 15 بچے مبینہ طور پر انفیکشن زدہ خون لگنے سے ایڈز میں مبتلا ہوگئے، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے مشیر صحت اور سیکریٹری صحت سے رپورٹ طلب کی۔ محکمہ صحت پنجاب نے واقعات کی تحقیقات کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کی رپورٹ میں مذکورہ مریضوں میں ایڈز وائرس کی موجودگی کی تردید کی گئی ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سرکاری و نجی اسپتالوں میں اسکریننگ شدہ خون کی فراہمی بڑا مسئلہ ہے، ملک میں بے شمار لوگوں کو غیر محفوظ طریقے سے خون منتقل کیا جاتا ہے جس سے ہیپاٹائٹس اور دیگر جان لیوا امراض جنم لے رہے ہیں ۔ دوسری جانب تھرپارکر میں جاری بدترین قحط نے مزید 2 بچوں کی جان لے لی ہے۔
65 روز میں 140 بچوں سمیت 148 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ تھرپارکر میں اس وقت سندھ سرکار کی جانب سے امدادی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں ۔ عوام کو سہولیات پہنچانے کے بجائے روایتی الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے اور وفاق و صوبائی حکومتیں معاملے کی نزاکت کو سمجھے بغیر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں ۔ عوام کی صحت کے معاملے پر سیاست کسی طور قابل قبول نہیں ، وفاق اور صوبائی حکومتوں کو عوام کی صحت کے لیے فوراً میدان عمل میں آنا ہوگا ۔