نوجوانوں کی ہلاکتیں
پیپلزپارٹی تمام تر مشکل کے باوجود وفاق کی حامی رہی، سندھ کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
tauceeph@gmail.com
سرویج پیرزادہ کا تعلق لاڑکانہ کے علمی گھرانے سے ہے، اس کے تایا انور پیر زادہ کا شمار سندھ کے معروف ادیبوں میں ہوتا تھا۔ انور پیر زادہ نے ساری زندگی قلم سے روزی کمائی تھی، سرویج پیر زادہ کے والد لطف پیر زادہ معروف سندھی اخبار سے وابستہ ہیں، ایم آرڈی کی تحریک میں وہ دو دفعہ گرفتار ہوئے تھے، سرویج پیرزادہ کراچی میں ایک میڈیکل کمپنی میں ملازم تھا کہ 20 ستمبر کو ایمپریس مارکیٹ سے لاپتہ ہوا، اس کے والدین نے تھانوں، اسپتالوں اور مردہ خانوں کی خاک چھانی مگر کہیں سے بھی سرویج کا پتہ نہیں مل سکا۔
اس کے والد نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں عرضداشت دائر کی، صوبے کی اعلیٰ ترین عدالت نے پولیس حکام کو طلب کیا۔ پولیس حکام نے سرویج کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا، سندھ ہائی کورٹ اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے والا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد کے درمیان واقع صنعتی علاقے نوری آباد سے تین مسخ شدہ لاشیں ملیں اس میں سے ایک لاش سرویج کی تھی، دوسری لاش کی شناخت واجد لانگا کے نام سے ہوئی۔ تیسرا شخص اللہ واڈیو جب زخمی حالت میں ملا تھا اس کو سول اسپتال کراچی میں داخل کیا گیا تھا جہاں سے مسلح افراد اس کو اغواء کر کے لے گئے، سرویج جئے سندھ متحدہ محاذ سے منسلک تھا۔
وہ اپنی ملازمت کے بعد کچھ وقت سیاسی کاموں کے لیے دیتا تھا، سندھ قوم پرست تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 70 کارکنوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔ اندرون سندھ قوم پرست کارکنوں کے قتل پر سخت احتجاج ہوا ہے، شہر اور دیہات تک بند کیے گئے، ادھر ایم کیو ایم کا ایک کارکن ساجد دبئی جانے کے لیے کراچی ایئر پورٹ روانہ ہوا، راستے میں ڈبل کیبن کار میں سوار افراد ساجد کو اپنے ساتھ لے گئے چند گھنٹوں بعد ساجد کی لاش برآمد ہوئی۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک سال میں 100 کے قریب کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ اگرچہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اس حکو مت کو زیریں سندھ کے لوگوں کی حمایت حاصل ہے مگر پیپلز پارٹی کے اقتدار کو 6 سال ہونے کے باوجود انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔
لیاری میں الگ ماورائے عدالت قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے، ہر روز دو تین نوجوانوں کی لاشیں کہیں پڑی نظر آتی ہیں۔ بڑے گینگ وار کمانڈر ملک سے فرار ہو گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں بھی بلوچستان جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ایجنسیوں پر سندھی قوم پرستوں اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ہلاکت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اس کے بارے میں کچھ کہا تو نہیں جا سکتا کہ یہ معاملہ کیا ہے ممکن ہے یہ گروہی لڑائی ہو تاہم پاکستان میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ جنرل ایوب خان کے دور میں کمیونسٹ رہنما حسن ناصر کراچی کے علاقے خداداد کالونی سے لاپتہ ہوئے' پھر انھیں شہید کر دیا گیا۔
حسن ناصر کی شہادت کی خبر کو چھپایا گیا جب ایک اور کمیونسٹ رہنما میجر (ر) محمد اسحاق نے لاہور ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی تب حکومت کو حسن ناصر کی شہادت کا اقرار کرنا پڑا تھا، پولیس حکام نے حسن ناصر کی جو نعش پیش کی تھی، ناصر کی والدہ نے اس کو اپنے بیٹے کی لاش ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ بھٹو کے دور میں بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے سیاسی کارکن لاپتہ ہوئے، پنجاب کے سیاسی کارکنوں کو آزاد کشمیر میں قائم دلائی کیمپ میں نظر بند کیا گیا، بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد کئی کارکن رہا ہوئے تھے، جنرل ضیاء الحق کے دور میں بہت سے کارکنوں کو اغواء کیا گیا۔
سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر کامریڈ نذیر عباسی، صحافی سہیل سانگی، پروفیسر جمال نقوی، احمد کمال وارثی اغواء ہوئے، نذیر عباسی کو شہید کر دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور کے خاتمے کے بعد سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ رک گیا تھا، اس صدی کے آغاز کے ساتھ ہی بلوچستان میں آپریشن شروع ہوا، مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن لاپتہ ہوئے، ان میں سے کچھ کا پتہ نہیں چلا پھر قوم پرست کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان میں صورتحال خراب ہوئی، دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی،سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں۔
جب بلوچستان میں 2013 ء میں نئے انتخابات ہوئے، نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر تعینات ہوئے، انھوں نے لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے کوشش کی اور مسخ شدہ لاشوں کے معاملے پر آواز اٹھائی، بلوچستان حکومت کی مزاحمت کی بناء پر سیاسی کارکنوں کے اغواء اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا معاملہ التواء کا شکار ہوا، جب نائن الیون کی نیویارک میں کارروائی کے بعد امریکا اور اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا تو بہت سے غیر ملکیوں سمیت ہزاروں افراد نے قبائلی علاقوں میں پناہ لی۔
یوں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن گئے اور ان میں سے سیکڑوں افراد لاپتہ ہوئے ان میں سے کچھ کی لاشیں مل گئی کچھ کی اطلاع نہیں ملی، مگر بلوچستان میں قوم پرستوں کے عناصر لاپتہ ہوئے اور مقدمہ چلائے بغیر لاشیں ملنے سے پاکستان کی بڑی بدنامی ہوئی اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جنیوا میں ہونے والے سالانہ اجلاس کے ایجنڈا میں پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ سر فہرست رہا ۔
سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے معاملہ پر مہینوں سماعت کی۔ یوں کچھ لوگ رہا ہوئے پھر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) جاوید اقبال کی قیادت میں کمیشن قائم ہوا ۔یہ کمیشن لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے کوئی موثر اقدام نہیں کر سکا اب سندھ میں بھی سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونیکے معاملہ کا نیا تنازعہ کھڑا ہے۔ سندھ کے امور کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے جن 6 کارکنوں کی لاشیں ملی ہیں ان میں سے پانچ کا تعلق جئے سندھ متحدہ قومی محاذ سے ہے۔
اس کے سربراہ شفیع برفت ہیں ۔یہ گروہ مسلح جدوجہد کا پر چار کرتا ہے مگر ان کارکنوں کو ماورا عدالت قتل کا کوئی جواز نہیں، ان کا کہنا ہے کہ دراصل سندھ ایک سیکولر سوسائٹی ہے پھر سندھ کے عوام جمہوری عمل پر اعتماد کرتے ہیں، دیہی اور شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو قتل کر کے ایک سندھی معاشرے کی سیکولر ساخت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، دوسری طرف وفاق پر یقین رکھنے والی پیپلز پارٹی کو تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ایسی پالیسی سے بلوچستان کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔
سندھ میں یہ کھیل زیادہ خطرناک ثابت ہو گا ، ادھر ایک اور قوم پرست تنظیم سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے جے ایس ایم ایم کے رہنما شفیع برفت سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر دیں۔ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں بلوچستان جیسے حالات نہیں کہ سیاسی کارکنوں کو ماورا عدالت قتل کیا جائے، ان کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کمیشن بنایا جائے ، معروف صحافی سہیل سانگی لکھتے ہیں کہ جے ایس ایم ایم زیادہ مقبول نہیں ہے مگر اس کے کارکنوں پر دھماکوں کے الزام لگے ہیں، سندھ نے ہمیشہ پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔
پیپلزپارٹی تمام تر مشکل کے باوجود وفاق کی حامی رہی' سندھ کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایک سندھی پانچ سال تک ملک کا صدر رہاا ور اب ایک اردو بولنے والا سندھی ملک کا صدر ہے ۔یوں آئین میں کی گئی 18 ویں ترمیم 1940ء کی قرارداد کے قریب ہے، اب سندھ میں مڈل کلاس مضبوط ہو گئی ہے جس کی اپنی ترجیحات ہیں مگر سیاسی کارکنوں کے قتل سے صورتحال خراب ہو رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں کا قتل ایک نئی تباہی کی نشاندہی کر رہا ہے۔
اس کے والد نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں عرضداشت دائر کی، صوبے کی اعلیٰ ترین عدالت نے پولیس حکام کو طلب کیا۔ پولیس حکام نے سرویج کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا، سندھ ہائی کورٹ اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے والا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد کے درمیان واقع صنعتی علاقے نوری آباد سے تین مسخ شدہ لاشیں ملیں اس میں سے ایک لاش سرویج کی تھی، دوسری لاش کی شناخت واجد لانگا کے نام سے ہوئی۔ تیسرا شخص اللہ واڈیو جب زخمی حالت میں ملا تھا اس کو سول اسپتال کراچی میں داخل کیا گیا تھا جہاں سے مسلح افراد اس کو اغواء کر کے لے گئے، سرویج جئے سندھ متحدہ محاذ سے منسلک تھا۔
وہ اپنی ملازمت کے بعد کچھ وقت سیاسی کاموں کے لیے دیتا تھا، سندھ قوم پرست تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 70 کارکنوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔ اندرون سندھ قوم پرست کارکنوں کے قتل پر سخت احتجاج ہوا ہے، شہر اور دیہات تک بند کیے گئے، ادھر ایم کیو ایم کا ایک کارکن ساجد دبئی جانے کے لیے کراچی ایئر پورٹ روانہ ہوا، راستے میں ڈبل کیبن کار میں سوار افراد ساجد کو اپنے ساتھ لے گئے چند گھنٹوں بعد ساجد کی لاش برآمد ہوئی۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک سال میں 100 کے قریب کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ اگرچہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اس حکو مت کو زیریں سندھ کے لوگوں کی حمایت حاصل ہے مگر پیپلز پارٹی کے اقتدار کو 6 سال ہونے کے باوجود انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔
لیاری میں الگ ماورائے عدالت قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے، ہر روز دو تین نوجوانوں کی لاشیں کہیں پڑی نظر آتی ہیں۔ بڑے گینگ وار کمانڈر ملک سے فرار ہو گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں بھی بلوچستان جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ایجنسیوں پر سندھی قوم پرستوں اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ہلاکت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اس کے بارے میں کچھ کہا تو نہیں جا سکتا کہ یہ معاملہ کیا ہے ممکن ہے یہ گروہی لڑائی ہو تاہم پاکستان میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ جنرل ایوب خان کے دور میں کمیونسٹ رہنما حسن ناصر کراچی کے علاقے خداداد کالونی سے لاپتہ ہوئے' پھر انھیں شہید کر دیا گیا۔
حسن ناصر کی شہادت کی خبر کو چھپایا گیا جب ایک اور کمیونسٹ رہنما میجر (ر) محمد اسحاق نے لاہور ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی تب حکومت کو حسن ناصر کی شہادت کا اقرار کرنا پڑا تھا، پولیس حکام نے حسن ناصر کی جو نعش پیش کی تھی، ناصر کی والدہ نے اس کو اپنے بیٹے کی لاش ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ بھٹو کے دور میں بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے سیاسی کارکن لاپتہ ہوئے، پنجاب کے سیاسی کارکنوں کو آزاد کشمیر میں قائم دلائی کیمپ میں نظر بند کیا گیا، بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد کئی کارکن رہا ہوئے تھے، جنرل ضیاء الحق کے دور میں بہت سے کارکنوں کو اغواء کیا گیا۔
سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر کامریڈ نذیر عباسی، صحافی سہیل سانگی، پروفیسر جمال نقوی، احمد کمال وارثی اغواء ہوئے، نذیر عباسی کو شہید کر دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور کے خاتمے کے بعد سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ رک گیا تھا، اس صدی کے آغاز کے ساتھ ہی بلوچستان میں آپریشن شروع ہوا، مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن لاپتہ ہوئے، ان میں سے کچھ کا پتہ نہیں چلا پھر قوم پرست کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان میں صورتحال خراب ہوئی، دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی،سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں۔
جب بلوچستان میں 2013 ء میں نئے انتخابات ہوئے، نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر تعینات ہوئے، انھوں نے لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے کوشش کی اور مسخ شدہ لاشوں کے معاملے پر آواز اٹھائی، بلوچستان حکومت کی مزاحمت کی بناء پر سیاسی کارکنوں کے اغواء اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا معاملہ التواء کا شکار ہوا، جب نائن الیون کی نیویارک میں کارروائی کے بعد امریکا اور اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا تو بہت سے غیر ملکیوں سمیت ہزاروں افراد نے قبائلی علاقوں میں پناہ لی۔
یوں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن گئے اور ان میں سے سیکڑوں افراد لاپتہ ہوئے ان میں سے کچھ کی لاشیں مل گئی کچھ کی اطلاع نہیں ملی، مگر بلوچستان میں قوم پرستوں کے عناصر لاپتہ ہوئے اور مقدمہ چلائے بغیر لاشیں ملنے سے پاکستان کی بڑی بدنامی ہوئی اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جنیوا میں ہونے والے سالانہ اجلاس کے ایجنڈا میں پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ سر فہرست رہا ۔
سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے معاملہ پر مہینوں سماعت کی۔ یوں کچھ لوگ رہا ہوئے پھر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) جاوید اقبال کی قیادت میں کمیشن قائم ہوا ۔یہ کمیشن لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے کوئی موثر اقدام نہیں کر سکا اب سندھ میں بھی سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونیکے معاملہ کا نیا تنازعہ کھڑا ہے۔ سندھ کے امور کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے جن 6 کارکنوں کی لاشیں ملی ہیں ان میں سے پانچ کا تعلق جئے سندھ متحدہ قومی محاذ سے ہے۔
اس کے سربراہ شفیع برفت ہیں ۔یہ گروہ مسلح جدوجہد کا پر چار کرتا ہے مگر ان کارکنوں کو ماورا عدالت قتل کا کوئی جواز نہیں، ان کا کہنا ہے کہ دراصل سندھ ایک سیکولر سوسائٹی ہے پھر سندھ کے عوام جمہوری عمل پر اعتماد کرتے ہیں، دیہی اور شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو قتل کر کے ایک سندھی معاشرے کی سیکولر ساخت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، دوسری طرف وفاق پر یقین رکھنے والی پیپلز پارٹی کو تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ایسی پالیسی سے بلوچستان کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔
سندھ میں یہ کھیل زیادہ خطرناک ثابت ہو گا ، ادھر ایک اور قوم پرست تنظیم سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے جے ایس ایم ایم کے رہنما شفیع برفت سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر دیں۔ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں بلوچستان جیسے حالات نہیں کہ سیاسی کارکنوں کو ماورا عدالت قتل کیا جائے، ان کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کمیشن بنایا جائے ، معروف صحافی سہیل سانگی لکھتے ہیں کہ جے ایس ایم ایم زیادہ مقبول نہیں ہے مگر اس کے کارکنوں پر دھماکوں کے الزام لگے ہیں، سندھ نے ہمیشہ پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔
پیپلزپارٹی تمام تر مشکل کے باوجود وفاق کی حامی رہی' سندھ کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایک سندھی پانچ سال تک ملک کا صدر رہاا ور اب ایک اردو بولنے والا سندھی ملک کا صدر ہے ۔یوں آئین میں کی گئی 18 ویں ترمیم 1940ء کی قرارداد کے قریب ہے، اب سندھ میں مڈل کلاس مضبوط ہو گئی ہے جس کی اپنی ترجیحات ہیں مگر سیاسی کارکنوں کے قتل سے صورتحال خراب ہو رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں کا قتل ایک نئی تباہی کی نشاندہی کر رہا ہے۔