بایاں بازو کوما سے باہر آئے

بائیں بازو کی بےعملی اور انتشارکا بڑا سبب روس چین کےنظریاتی اختلافات بتایا جاتا ہےلیکن یہ عذر مکمل طورپرغیر منطقی تھا۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

پاکستان کی سیاست کے ابتدائی دو عشروں میں بایاں بازو نہ صرف فعال رہا بلکہ قومی مسائل اور طبقاتی استحصال پر عوام میں بیداری پیدا کرنے کی ذمے داری بھی پوری کرتا رہا۔ لیکن 70ء کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے بایاں بازو انتشار اور بے عملی کا شکار ہو گیا جس کا نتیجتاً بائیں بازو کے کارکن مایوسی کا شکار ہو گئے مایوسی کے اس اندھیرے میں پیپلز پارٹی کے نعرے اور بھٹو کی سحر انگیز شخصیت انھیں روشنی کی ایک کرن نظر آئی اور وہ بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کی آغوش میں چلے گئے۔

یوں بایاں بازو عملاً عضو معطل بن کر رہ گیا۔ بائیں بازو کی بے عملی اور انتشار کا بڑا سبب روس چین کے نظریاتی اختلافات بتایا جاتا ہے لیکن یہ عذر مکمل طور پر غیر منطقی تھا کیونکہ پسماندہ ملک جن میں پاکستان بھی شامل ہے ایسے قومی مسائل سے دوچار تھے کہ روس چین کے نظریاتی اختلافات ان کی غیر فعالیت کا سبب بن ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن بائیں بازو کی قیادت جو انقلابی رومانیت کا شکار تھی یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ وہ جس سیاسی اور معاشرتی نظام میں پھنسے ہوئے ہیں اس سے نکلے بغیر کسی انقلاب یا انقلابی جدوجہد کی طرف پیش قدمی ممکن نہیں 1971ء تک پھر بھی کسی نہ کسی طرح بائیں بازو کا وجود برقرار رہا لیکن 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بایاں بازو پاکستان کی سیاست سے بتدریج غائب ہوتا گیا اور اب صورتحال ''ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے '' والی ہے۔

کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی تحریک کے لیے ایک ایسی مرکزی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو کارکنوں کے لیے قابل قبول اور عوام کے لیے پرکشش ہو، بدقسمتی سے اور اسٹیبلشمنٹ کی مہربانی سے بایاں بازو ایسی قیادت محروم رہا جس کا ایک نتیجہ ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندیوں کی شکل میں سامنے آیا۔ پاکستان کے بائیں بازو کی ٹوٹی پھوٹی قیادت نہ قومی مسائل کو سمجھ سکی نہ ان کے حوالے سے اپنے کارکنوں اور عوام کو متحرک کر کے قومی سیاست میں اپنی جگہ بنا سکی۔

اصل میں بائیں بازو کا المیہ یہ ہے کہ وہ 70ء کی دہائی کے بعد یہ طے نہ کر سکا کہ اسے اس ملک کے مخصوص حالات میں کس قسم کی سیاست کرنی ہے۔ اب بھی کئی گروہ انقلابی رومانیت کا شکار ہیں اور اس غیر منطقی رومانیت کی وجہ سے پاکستان کی سیاست کا حصہ بن کر وہ مثبت رول ادا نہیں کر پا رہے ہیں جو کسی بڑی سیاسی اور معاشرتی تبدیلی کے لیے ضروری ہے۔ انقلاب تک براہ راست چھلانگ لگانے کی غیر منطقی خواہش سے بائیں بازو کے کئی گروپ ابھی تک باہر نہیں نکل سکے۔ اس حماقت کا نتیجہ یہ ہے کہ ''نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم'' کی کیفیت سے دوچار ہیں۔

کئی عشروں سے بائیں بازو کی سرگرمیاں یوم مئی، یوم حسن ناصر، یوم نذیر عباسی کی برسی منانے تک محدود ہیں۔ پچھلے 15-14 سالوں سے پارٹیوں کے درمیان اتحاد کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے کبھی دو تین پارٹیاں مرج ہو کر ایک پارٹی بن جاتی ہیں، کبھی اتحاد کے ڈول ڈالے جاتے ہیں اور دو قدم چلنے کے بعد یہ بھی ختم ہو جاتا ہے اتحاد بھی ٹوٹ جاتا ہے اس لاحاصل عشق سے ہو سکتا ہے بائیں بازو کی نفسیاتی تسکین کا سامان ہو جائے لیکن عملی سیاست سے اس قسم کی مشقوں کا تعلق اس لیے نہیں بنتا کہ یہ سارے اتحاد اہم قومی مسائل پر عوام کو متحرک کرنے کے بجائے عموماً ''ڈاکومنٹ لکھنے'' اور اسٹڈی سرکلز چلانے کی کوششوں پر ختم ہو جاتے ہیں۔ یا مختلف ایشوز پر سو پچاس افراد پر مشتمل مظاہروں تک محدود ہوتے ہیں۔


بائیں بازو کی غیر فعالیت اور بے مقصد مشقوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ معروف کامریڈ این جی اوز کے فنڈز پر انقلابی جدوجہد کر رہے ہیں۔ این جی اوز کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے اور فنڈنگ کرنے والی تنظیمیں این جی اوز کو اپنے ایجنڈے سے باہر نکلنے نہیں دیتیں۔ نظام بدلنے کی جدوجہد این جی اوز کو فنڈ دینے والی ایجنسیوں کے ایجنڈے سے متصادم ہوتی ہیں اس لیے انقلابی جدوجہد پیچھے اور فنڈنگ ایجنسیوں کا ایجنڈا آگے ہوتا ہے۔

بائیں بازو کی قیادت کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کی تنظیمیں ''کسی تھنک ٹینک'' کی رہنمائی سے محروم ہیں ہر تنظیم کا ہر کامریڈ تھنکر بھی ہے تھنک ٹینک بھی ہے۔ اس آزاد روئی کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی لیفٹ کے گروہ کے پاس نہ کوئی گائیڈ لائن ہے نہ کوئی موثر حکمت عملی جس کا منہ جدھر اٹھتا ہے وہ اسی سمت میں چل پڑتا ہے۔ نتیجہ انتشار ، بے عملی دھڑے کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔ اس پر ستم یہ ہے کہ بایاں بازو ابھی تک انڈر گراؤنڈ ذہنیت اور نفسیات سے باہر نہیں نکل سکا۔ اسے اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں کہ اب بائیں بازو کے انقلابی ایجنڈے کو کئی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنا لیا ہے۔

14 اگست 2014ء سے پاکستان میں جو دھرنوں اور جلسوں کی تحریک چل رہی ہے اس کا ایجنڈا بھی انقلابی ہے اس تحریک کی قیادت چہروں کے بجائے نظام کی تبدیلی کی بات کر رہی ہے اور 67 سالہ اس کرپٹ نظام سے تنگ آئے ہوئے عوام لاکھوں کی تعداد میں ان دھرنوں اور جلسوں میں اسی لیے شرکت کر رہے ہیں کہ ان دھرنوں اور جلسوں کی قیادت ہماری سیاسی روایات سے ہٹ کر 'اسٹیٹس کو' کو توڑنے کی بات کر رہی ہے۔ اسٹیٹس کو کو توڑنا بائیں بازو کے ایجنڈے میں ہمیشہ سرفہرست رہا ہے لیکن محض میٹنگوں کانفرنسوں اور کانگریس سے اسٹیٹس کو نہیں ٹوٹتا اس کے لیے میدان میں نکلنے اور قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ کام بائیں بازو کا تھا لیکن بایاں بازو چونکہ نظریاتی کومے میں مبتلا ہے اس لیے یہ کام وہ جماعتیں انجام دے رہی ہیں جن کا کوئی انقلابی بیک گراؤنڈ نہیں اس لیے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ 14 اگست سے شروع ہونے والی تحریک کی قیادت پر روایتی الزام لگ رہے ہیں کہ ان قائدین کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ ہم حیران ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ جو اسٹیٹس کو کا ہمیشہ حصہ رہی ہے وہ اس قدر ترقی پسند کیسے ہو گئی کہ اسٹیٹس کو توڑنے کی حمایت کر رہی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ کیا پارلیمانی سیاست میں حصہ لیا جانا چاہیے یا براہ راست انقلاب کی طرف چھلانگ لگانا چاہیے؟ اگر پارلیمانی سیاست کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے تو بایاں بازو مثبت اور ترقی پسندانہ پروگرام کے ساتھ پارلیمانی سیاست میں جا سکتا ہے مثلاً زرعی اصلاحات، انتخابی اصلاحات، بلدیاتی انتخابات وغیرہ ہماری منجمد سیاست کا جمود توڑ سکتے ہیں۔ اور عوام ان مطالبات کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ اگر بایاں بازو نظریاتی خلفشار اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر اہم قومی مسائل کے حل کے لیے جن کا ذکر ہم نے کر دیا ہے سنجیدگی سے آگے بڑھے تو اسے بڑے پیمانے پر عوام کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے یہ کام اگر وہ تنہا نہیں کر سکتا تو پھر اسے اس ایجنڈے پر کام کرنے والی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے کی کوشش کرنا چاہیے تحریک خواہ وہ اپنے علیحدہ پلیٹ فارم سے چلائے یا کسی ہم خیال تحریک کا حصہ بنے پہلے اسے اپنے نظریاتی کوما سے باہر آنا پڑے گا۔
Load Next Story