پاک ایران گیس منصوبہ مکمل کرنے کیلیے پرعزم ہیں صدر ممنون
پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن چاہتاہے، علی لاریجانی سے ایوان صدر میں ملاقات
تجارتی حجم میں اضافے کے خواہاں ہیں، ایرانی اسپیکر، پاکستانی سرحدی اقدام کی تعریف۔ فوٹو: فائل
صدر مملکت ممنون حسین نے کہاہے کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدوں پر امن چاہتا ہے اور ایران سے تمام شعبوں میں برادارانہ تعلقات کونئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔
پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی اردشیر سے ملاقات کے دوران صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے پر عزم ہے، بھارت کے ساتھ تمام معاملات تعمیری اورنتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کاخواہاں ہے، کشمیرکا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہوجائے تواس سے امن کو فروغ ملے گا، خطہ ترقی کرے گا، افغان رہنماؤں سے حالیہ ملاقاتیں خاص طورپر افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات بہت تعمیری رہیں، خوشی ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہورہا ہے۔
صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان دنیا کے ہرملک سے اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن ہمسایہ اورمسلم ممالک سے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہیں۔ پاکستان اورایران کو دہشت گردی کے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے اوراس چیلنج سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کومل کر اقدام کرنا ہوں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرعلی اردشیر لاریجانی نے کہاکہ پاکستان، ایران، افغانستان، شام اورعراق کے مسائل عالمی طاقتوں کے پیداکردہ ہیں۔ ان کے تدارک کے لیے دانش مندی سے کام لینا ہوگا۔ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو بڑھانا چاہتا ہے۔
پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی اردشیر سے ملاقات کے دوران صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے پر عزم ہے، بھارت کے ساتھ تمام معاملات تعمیری اورنتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کاخواہاں ہے، کشمیرکا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہوجائے تواس سے امن کو فروغ ملے گا، خطہ ترقی کرے گا، افغان رہنماؤں سے حالیہ ملاقاتیں خاص طورپر افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات بہت تعمیری رہیں، خوشی ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہورہا ہے۔
صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان دنیا کے ہرملک سے اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن ہمسایہ اورمسلم ممالک سے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہیں۔ پاکستان اورایران کو دہشت گردی کے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے اوراس چیلنج سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کومل کر اقدام کرنا ہوں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرعلی اردشیر لاریجانی نے کہاکہ پاکستان، ایران، افغانستان، شام اورعراق کے مسائل عالمی طاقتوں کے پیداکردہ ہیں۔ ان کے تدارک کے لیے دانش مندی سے کام لینا ہوگا۔ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو بڑھانا چاہتا ہے۔