چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ ٹیموں کی صلاحیتوں کا امتحان جاری

چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستانی ٹیم کو بھارت بجھوانے کیلئے جو پاپڑ بیلنا پڑے، اس کی داستان بہت طویل اور دکھ بھری ہے

چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستانی ٹیم کو بھارت بجھوانے کیلئے جو پاپڑ بیلنا پڑے، اس کی داستان بہت طویل اور دکھ بھری ہے۔ فوٹو : فائل

بھارتی سرزمین پر کھیلنا اور جیت کر واپس لوٹنا ہر پاکستانی کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے۔

اختر رسول کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے 1982ء ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تو پورا ملک خوشی سے جھوم اٹھا، وطن واپسی پر کھلاڑیوں کا جہاں تاریخی استقبال ہوا وہاں اختر رسول بھی شائقین کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ اپنے اس کارنامے کی وجہ سے ماضی کے عظیم سنٹر فارورڈ پہلے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں وزارت کا تاج بھی ان کے سر پر سجا۔ اب ایک بار پھر پی ایچ ایف کی صدارت کا ہما ان کے سر آن بیٹھا ہے۔ ان کی خصوصی کاوشوں سے چیمپئنز ٹرافی کیلئے قومی ٹیم کے بھارت جانے سے قبل ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں صدر پی ایچ ایف کا کہنا تھا کہ اپنی 60 سالہ زندگی میں دنیا بھر کی سیر کی، وزارت کے عہدے پر بھی فائز رہا لیکن جو نشہ میچ میں کامیابی کے بعد آتا ہے اس کا موازنہ کسی اور کے ساتھ کیا ہی نہیں جا سکتا۔

چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستانی ٹیم کو بھارت بجھوانے کیلئے جو پاپڑ بیلنا پڑے، اس کی داستان بہت طویل اور دکھ بھری ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا خزانہ خالی ہونے کے بعد آخری امید حکومتی امداد تھی تاہم عہدیداروں کے اسلام آباد چکر لگا لگا کر جوتے تک گھس چکے ہیں لیکن پی ایچ ایف کوحکومتی ایوانوں سے مالی بحران کے حل کی تاحال خوشخبری نہیں مل سکی ہے۔ وہ تو بھلا ہو مخیر حضرات کا جن کے تعاون سے پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے قابل ہوئی ورنہ تاریخ میں پہلی بار پاکستانی ٹیم میگا ایونٹ کی نمائندگی سے محروم ہو جاتی۔


ایف آئی ایچ کے تیسرے بڑے ایونٹ کے اب تک 34 ایڈیشز ہو چکے ہیں جس میں آسٹریلیا کو سب سے زیادہ 13 بار گولڈ میڈل حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ جرمنی 9 گولڈ میڈل کے ساتھ دوسرے جبکہ ہالینڈ کا 8 طلائی تمغوں کے ساتھ تیسرا نمبر ہے، پاکستان اب تک 3 بار ٹائٹل اپنے نام کر چکا ہے۔

چیمپئنز ٹرافی کا باقاعدہ آغاز 6 دسمبر سے بھارتی شہر بھوبنیشور سے ہو چکا ہے، گو پاکستانی ٹیم نے ارجنٹائن کے خلاف پریکٹس میچ میں 3-0 سے کامیابی سمیٹ کر اپنے خطرناک عزائم ظاہر کر دیئے تھے تاہم محمد عمران الیون کو چیمپئنز ٹرافی کے ابتدائی میچ میں ہی بیلجیم کے ہاتھوں ایک کے مقابلے میں 2 گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، بلاشبہ اس شکست کی وجہ سے ٹیم کو خاصا دھچکا لگا ہو گا ۔ بیلجیم کے بعد قومی ہاکی ٹیم 7 دسمبر کو انگلینڈ اور 8 دسمبر کو آسٹریلیا کے خلاف میچز کھیلے گی، ہار یا جیت دونوں صورتوں میں ہر ٹیم نے میگا ایونٹ کا کوارٹر فائنل ضرور کھیلنا ہے ۔

تاہم پاکستانی ٹیم کیلئے خوشی کی بات یہ ہے کہ پول اے میں آسٹریلیا، ہالینڈ اور بیلجیم جیسی مضبوط ٹیموں کے ساتھ ایک ہی پول میں ہونے کی وجہ سے گرین شرٹس کا مقابلہ 11 دسمبر سے شروع ہونے والے کوارٹر فائنل میں ان ٹیموں کے ساتھ نہیں ہو گا جس کا فائدہ پاکستانی ٹیم کو ہر حال میں اٹھانا چاہیے۔ ٹورنامنٹ میں ابتدائی چار پوزیشنز میں آنے کی صورت میں پاکستانی ٹیم نہ صرف چیمپئنز ٹرافی کے اگلے ایڈیشن میں براہ راست کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو جائے گی بلکہ اس کی عالمی رینکنگ میں بھی بہتری آئے گی۔ بصورت دیگر پاکستانی ٹیم تاریکیوں اور مایوسیوں کی ان اتھاہ گہرائیوں میں گر جائے گی جہاں سے دوبارہ نکلنا آسان نہیں ہوگا۔
Load Next Story