لیاقت آباد میں بجلی و پانی سے محروم مشتعل افراد کی ہنگامہ آرائی
ڈاکخانے کے قریب ٹائرنذر آتش، تین ہٹی اور اطراف کی شاہراہوں پربدترین ٹریفک جام ہوگیا، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں
لیاقت آباد میں قلت آب کے باعث بچے ہینڈ پمپ کے ذریعے پانی برتنوں میں بھر رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
لیاقت آبادمیں بجلی اورپانی کی عدم فراہمی پرمشتعل افرادگھروں سے باہرنکل آئے اورہنگامہ آرائی کرکے ٹائرجلائے جس کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی اورگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں،ٹریفک جام ہونے سے سیکڑوں شہریوں کو شدید پریشانی کاسامنا کرناپڑا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کئی روزسے پانی کی عدم فراہمی اوربجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلا ف لیاقت آباد ڈاکخانے کے مکین مشتعل ہوکر گھروں سے باہر نکل آئے اورہنگامہ آرائی کی، مشتعل افرادنے ٹائرجلاکراحتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس کے باعث تین ہٹی سے لیاقت آبادڈاک خانے جانے والی اوراطراف کی شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، ٹریفک معطل ہونے کے باعث خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں شہری ٹریفک جام میں پھنس کررہ گئے۔
مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ سردموسم کے باوجود بجلی کی طویل بندش نے ان کا جینا محال کردیاہے،شکایت کرنے پرکے الیکٹرک کاعملہ کہتا ہے کہ کیبل فالٹ کی وجہ سے بجلی بند ہے خرابی کو جلد دور کردیا جائے گا اور آدھے گھنٹے کے اندر بجلی آجائے گی، بجلی بندش سے علاقے میں پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے جس کے باعث علاقہ مکینوں کو دہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے اوروہ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں، اہم شاہراہوں پراحتجاج اور بدترین ٹریفک جام ہونے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی تاہم مشتعل افرادنے احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعے کی شب بھی پولیس نے بجلی بحال کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے بعد وہ احتجاج ختم کرکے چلے گئے تھے تاہم بجلی نہیں آئی اور انھوں نے ساری رات جاگ کر بڑی اذیت میںگزاری ہے، پولیس کا کہنا تھا کہ وہ متعلقہ حکام سے بات چیت کے ذریعے ان کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں اس لیے ان کے ساتھ تعاون کیاجائے ،بعدازاں مشتعل افراد پرامن طور پر منتشر ہوگئے جس کے بعد پولیس نے ٹریفک بحال کرادیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کئی روزسے پانی کی عدم فراہمی اوربجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلا ف لیاقت آباد ڈاکخانے کے مکین مشتعل ہوکر گھروں سے باہر نکل آئے اورہنگامہ آرائی کی، مشتعل افرادنے ٹائرجلاکراحتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس کے باعث تین ہٹی سے لیاقت آبادڈاک خانے جانے والی اوراطراف کی شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، ٹریفک معطل ہونے کے باعث خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں شہری ٹریفک جام میں پھنس کررہ گئے۔
مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ سردموسم کے باوجود بجلی کی طویل بندش نے ان کا جینا محال کردیاہے،شکایت کرنے پرکے الیکٹرک کاعملہ کہتا ہے کہ کیبل فالٹ کی وجہ سے بجلی بند ہے خرابی کو جلد دور کردیا جائے گا اور آدھے گھنٹے کے اندر بجلی آجائے گی، بجلی بندش سے علاقے میں پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے جس کے باعث علاقہ مکینوں کو دہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے اوروہ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں، اہم شاہراہوں پراحتجاج اور بدترین ٹریفک جام ہونے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی تاہم مشتعل افرادنے احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعے کی شب بھی پولیس نے بجلی بحال کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے بعد وہ احتجاج ختم کرکے چلے گئے تھے تاہم بجلی نہیں آئی اور انھوں نے ساری رات جاگ کر بڑی اذیت میںگزاری ہے، پولیس کا کہنا تھا کہ وہ متعلقہ حکام سے بات چیت کے ذریعے ان کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں اس لیے ان کے ساتھ تعاون کیاجائے ،بعدازاں مشتعل افراد پرامن طور پر منتشر ہوگئے جس کے بعد پولیس نے ٹریفک بحال کرادیا۔