جمہوری قوتیں ہوش کے ناخن لیں
پاکستان میں جمہوریت ڈیل ریل ہونے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہیں۔
1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے بھی انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ یہ تحریک بڑھتے بڑھتے تصادم اور گھیراؤ جلاؤ میں تبدیل ہو گئی، فوٹو : اے ایف پی
وہی ہوا جس کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، گزشتہ روز فیصل آباد میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہو گیا، میڈیا اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کا ایک کارکن گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف الزام عائد کرتی ہے کہ اس کا کارکن مسلم لیگ ن کے کسی حمایتی یا کارکن کی گولی سے جاں بحق ہوا ہے۔
اصل معاملہ کیا ہے اس کے بارے میں تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن جو کچھ ہوا افسوسناک ہے۔ واقعات کے مطابق دونوں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے پر پتھراؤ کرتے رہے، کئی مقامات پر ان میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ مظاہرین نے جب مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر احتجاج کیا تو اس دوران پولیس نے تحریک انصاف کے کارکنوں پر شیلنگ کی جب کہ مظاہرین پتھراؤ کرتے رہے، یوں فیصل آباد میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔ ہم انھی سطور میں کہتے چلے آ رہے ہیں کہ ملک کی سیاسی قوتوں کو گھیراؤ جلاؤ اور تصادم سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فیصل آباد میں جو کچھ ہوا ہے، اسے جمہوریت کے لیے نیک شگون قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
اس سے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت اپنے اختلافات کو پر امن انداز میں طے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حالیہ سیاسی بحران کو شروع ہوئے تقریباً پانچ ماہ ہونے والے ہیں لیکن اسے حل کرنے کی تاحال سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی۔ جب اسلام آباد میں دھرنے عروج پر تھے اس وقت بھی مذاکرات ہوتے رہے لیکن یہ سب کچھ نیم دلی کے ساتھ ہو رہا تھا۔ مذاکرات کرنے والوں کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں تھا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذاکرات کا عمل ناکامی سے دوچار ہوا۔ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں نے بھی اس معاملے کو حل کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والوں کو ہدف تنقید بنایا۔ پارلیمانی سیاسی جماعتیں اگر درمیانی راستہ اختیار کرتیں تو شاید یہ بحران بہت پہلے حل ہو گیا ہوتا۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں دھڑے بندی کا شکار ہوئیں، ایک دھڑا حکومت کے ساتھ کھڑا ہو گیا جب کہ دوسرا تحریک انصاف کا ساتھ دینے لگا جس کی وجہ سے معاملات بگڑ گئے۔
پاکستان میں جمہوریت ڈیل ریل ہونے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہیں اور معاملہ جلاؤ گھیراؤ اور تصادم تک جا پہنچا۔ 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے بھی انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ یہ تحریک بڑھتے بڑھتے تصادم اور گھیراؤ جلاؤ میں تبدیل ہو گئی، اس وقت کی حکومت اور قومی اتحاد کی قیادت نے مذاکرات بھی کیے لیکن یہ مذاکرات خاصی طوالت اختیار کر گئے اور بالآخر ملک میں مارشل لا نافذ ہو گیا۔
اگر اس وقت دو متحارب سیاسی گروپ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان قومی اتحاد اپنے اختلافات کو افہام و تفہیم سے جلد حل کر لیتے تو ملک میں مارشل لاء نافذ نہ ہوتا۔ جمہوری قوتیں اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جو مرضی کہتی رہیں لیکن سچ یہی ہے کہ ملک کی جمہوری سیاسی قوتیں اپنے عمل میں جمہوری روایات پر کاربند نہ رہ سکیں اور ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو گئیں جس کا نتیجہ مارشل لا کی صورت میں نکلا۔ آج بھی ماضی کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتی ہے۔
یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ اسلام آباد میں دھرنوں کی شکل اختیار کر گیا، ان دھرنوں میں پاکستان عوامی تحریک بھی شامل ہو گئی، پھر دھرنے سے معاملہ نکل کر ملک گیر جلسوں کی شکل ختیار کر گیا اور اب عمران خان شہروں کو بند کر کے احتجاج کرنے کا اعلان کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں گزشتہ روز فیصل آباد میں احتجاج تھا اور اب یہ احتجاج دوسرے شہروں میں ہو گا۔
جلسے کرنا، جلوس نکالنا یا دھرنے دینا سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے لیکن انھیں آئین و قانون اور جمہوریت کے دائرے میں رہنا چاہیے، ادھر حکومت کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ اس امر پر غور کرے کہ کوئی سیاسی جماعت اس کے خلاف کیوں احتجاج کر رہی ہے، وہ اس کے جائز تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے۔ عجیب بات یہ ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے مذاکرات کی باتیں تواتر سے ہو رہی ہیں لیکن یہ باتیں عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں۔
اصولی طور پر حکومت کو فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے اور اسے پورا مینڈیٹ دیا جانا چاہیے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنی بااختیار مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ دونوں سیاسی جماعتوں کی یہ با اختیار کمیٹیاں جلد مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکیں۔ جب مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دے دی جائیں' اس وقت احتجاج ملتوی کر دیا جائے۔
ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی قیادت کو معاملہ فہمی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ عام انتخابات میں دھاندلی کے معاملے کو آئین و قانون کے مطابق طے کرنا انتہائی ضروری ہے۔ سیاسی قیادت کو مزید تاخیری حربے استعمال نہیں کرنے چاہئیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ مل بیٹھ کر تنازعات کا حل نکالا جائے۔ اگر جلاؤ گھیراؤ اور تصادم کی سیاست جاری رہی تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا لہٰذا جمہوری قوتوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔
اصل معاملہ کیا ہے اس کے بارے میں تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن جو کچھ ہوا افسوسناک ہے۔ واقعات کے مطابق دونوں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے پر پتھراؤ کرتے رہے، کئی مقامات پر ان میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ مظاہرین نے جب مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر احتجاج کیا تو اس دوران پولیس نے تحریک انصاف کے کارکنوں پر شیلنگ کی جب کہ مظاہرین پتھراؤ کرتے رہے، یوں فیصل آباد میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔ ہم انھی سطور میں کہتے چلے آ رہے ہیں کہ ملک کی سیاسی قوتوں کو گھیراؤ جلاؤ اور تصادم سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فیصل آباد میں جو کچھ ہوا ہے، اسے جمہوریت کے لیے نیک شگون قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
اس سے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت اپنے اختلافات کو پر امن انداز میں طے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حالیہ سیاسی بحران کو شروع ہوئے تقریباً پانچ ماہ ہونے والے ہیں لیکن اسے حل کرنے کی تاحال سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی۔ جب اسلام آباد میں دھرنے عروج پر تھے اس وقت بھی مذاکرات ہوتے رہے لیکن یہ سب کچھ نیم دلی کے ساتھ ہو رہا تھا۔ مذاکرات کرنے والوں کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں تھا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذاکرات کا عمل ناکامی سے دوچار ہوا۔ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں نے بھی اس معاملے کو حل کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والوں کو ہدف تنقید بنایا۔ پارلیمانی سیاسی جماعتیں اگر درمیانی راستہ اختیار کرتیں تو شاید یہ بحران بہت پہلے حل ہو گیا ہوتا۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں دھڑے بندی کا شکار ہوئیں، ایک دھڑا حکومت کے ساتھ کھڑا ہو گیا جب کہ دوسرا تحریک انصاف کا ساتھ دینے لگا جس کی وجہ سے معاملات بگڑ گئے۔
پاکستان میں جمہوریت ڈیل ریل ہونے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہیں اور معاملہ جلاؤ گھیراؤ اور تصادم تک جا پہنچا۔ 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے بھی انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ یہ تحریک بڑھتے بڑھتے تصادم اور گھیراؤ جلاؤ میں تبدیل ہو گئی، اس وقت کی حکومت اور قومی اتحاد کی قیادت نے مذاکرات بھی کیے لیکن یہ مذاکرات خاصی طوالت اختیار کر گئے اور بالآخر ملک میں مارشل لا نافذ ہو گیا۔
اگر اس وقت دو متحارب سیاسی گروپ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان قومی اتحاد اپنے اختلافات کو افہام و تفہیم سے جلد حل کر لیتے تو ملک میں مارشل لاء نافذ نہ ہوتا۔ جمہوری قوتیں اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جو مرضی کہتی رہیں لیکن سچ یہی ہے کہ ملک کی جمہوری سیاسی قوتیں اپنے عمل میں جمہوری روایات پر کاربند نہ رہ سکیں اور ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو گئیں جس کا نتیجہ مارشل لا کی صورت میں نکلا۔ آج بھی ماضی کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتی ہے۔
یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ اسلام آباد میں دھرنوں کی شکل اختیار کر گیا، ان دھرنوں میں پاکستان عوامی تحریک بھی شامل ہو گئی، پھر دھرنے سے معاملہ نکل کر ملک گیر جلسوں کی شکل ختیار کر گیا اور اب عمران خان شہروں کو بند کر کے احتجاج کرنے کا اعلان کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں گزشتہ روز فیصل آباد میں احتجاج تھا اور اب یہ احتجاج دوسرے شہروں میں ہو گا۔
جلسے کرنا، جلوس نکالنا یا دھرنے دینا سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے لیکن انھیں آئین و قانون اور جمہوریت کے دائرے میں رہنا چاہیے، ادھر حکومت کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ اس امر پر غور کرے کہ کوئی سیاسی جماعت اس کے خلاف کیوں احتجاج کر رہی ہے، وہ اس کے جائز تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے۔ عجیب بات یہ ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے مذاکرات کی باتیں تواتر سے ہو رہی ہیں لیکن یہ باتیں عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں۔
اصولی طور پر حکومت کو فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے اور اسے پورا مینڈیٹ دیا جانا چاہیے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنی بااختیار مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ دونوں سیاسی جماعتوں کی یہ با اختیار کمیٹیاں جلد مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکیں۔ جب مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دے دی جائیں' اس وقت احتجاج ملتوی کر دیا جائے۔
ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی قیادت کو معاملہ فہمی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ عام انتخابات میں دھاندلی کے معاملے کو آئین و قانون کے مطابق طے کرنا انتہائی ضروری ہے۔ سیاسی قیادت کو مزید تاخیری حربے استعمال نہیں کرنے چاہئیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ مل بیٹھ کر تنازعات کا حل نکالا جائے۔ اگر جلاؤ گھیراؤ اور تصادم کی سیاست جاری رہی تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا لہٰذا جمہوری قوتوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔