تاریخ پہ تاریخ تاریخ پہ تاریخ

سچ تو یہ ہے کہ اب عمران خان پر ہمیں کچھ ڈاؤٹ سا ہونے لگا ہے کہ کہیں ان کا حکومت کے ساتھ ’’مک مکا‘‘ تو نہیں ہوا ہے۔

barq@email.com

آدمی سنی دیول نہ بھی ہو تو ایک دن بننا پڑ ہی جاتا ہے، اس لیے ہم بھی آج مجبور ہو کر کہنا چاہتے ہیں کہ تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ ...تاریخ پہ تاریخ ملتی ہے لیکن انصاف نہیں ملتا حالانکہ ہر نئی تاریخ ملنے پر ہم اپنے ساتھ ایک مٹھائی کا ڈبہ اور کچھ ہار مالائیں آرڈر کر کے جاتے ہیں کہ اس دفعہ تو فیصلہ ہو ہی جائے گا لیکن وہاں نہ جانے کون چھٹی پر چلا گیا ہوتا ہے کہ عمران خان بنام میاں نواز شریف ... فیصلہ اگلی شنوائی تک ملتوی ہو گیا ہے۔ فریقین فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو حاضر ہو جاویں اور ہم پشتو کا یہ گانا گاتے ہوئے بلکہ روتے ہوئے آتے ہیں۔

زہ پہ خنداز مہ ۔۔۔۔ پہ جڑا بیا کورتہ رازمہ
یعنی میں ہنستے ہوئے گیا تھا اور روتے روتے واپس آرہا ہوں، صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں، حیران ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں، مقدور ہو تو ساتھ رکھوں، ''دھرنا گر'' کو میں، صبریا رب میری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں

سنگ اور ہاتھ وہی، وہ ہی سر اور داغ جنوں
پھر وہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیابان ہوں گے

سچ تو یہ ہے کہ اب عمران خان پر ہمیں کچھ ڈاؤٹ سا ہونے لگا ہے کہ کہیں ان کا حکومت کے ساتھ ''مک مکا'' تو نہیں ہوا ہے کہ میں یہاں میدان گرما کر رکھوں گا اور تم وہاں جو جی چاہے ''گرم'' کرتے چلے جاؤ۔ ایک چٹکلے نے پھر دم ہلانا شروع کر دی ہے۔ چلیے پہلے اسی سے نمٹ لیتے ہیں۔ کافی پرانی بات ہے ریڈیو میں گانے والے ایک شخص سے ہماری بات ہوئی ۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس کا باپ گاؤں کی مسجد کا پیش امام ہے اور خاندانی طور پر دینی گھرانے کا فرد ہے۔ پوچھا بھئی، تم یہ جو گانے بجانے کے میدان میں آگئے ہو تو تمہارے باپ نے تجھے روکا نہیں تھا۔

بولا ، کیوں نہیں روکا تھا، بڑی سختی سے روکا تھا بلکہ کمر پر دو چار عصائیں بھی پڑی تھیں، والد کا کہنا تھا کہ ہمارا اتنا دینی گھرانا ہے اور تم اس لہو و لعب میں پڑ کر نہ صرف خود کو دوزخ کا ایندھن بنا رہے ہو بلکہ ساتھ ہی میرے اور خاندان کے نام کو بھی بٹہ لگا رہے ہو، لیکن میں نے اپنے باپ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ابا یہ ''احمق'' لوگ ہیں، تم ان کو ''ملا گیری'' کے ذریعے مارو اور میں ڈرم گیری کے ذریعے ماروں گا۔ (مارنا پشتو اصطلاح میں ٹھگنا اور لوٹنا ) لیکن میرا باپ نہیں سمجھا اور مجھے عاق کر کے گھر سے نکال دیا، میں نے بھی یہ سوچ کر گھر چھوڑ دیا کہ

واعظ ظاہر پرست از حال ما آگاہ نیست
در حق ماہرچہ گوئد جائے ہیچ اکراہ نیست
غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہئے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

ہو سکتا ہے کہ اس میں جناب عمران خان کا کوئی دوش نہ ہو اور تاریخ پہ تاریخ پہ تاریخ دینا ان کی کوئی مجبوری ہو اور ہمارے یہ سارے شک غلط ہوں، جس کے لیے ہم پیشگی سے معافی کے بھی خواست گار ہیں لیکن پرابلم یہ ہے کہ ہم کچھ تو پہلے ہی سے ''بے صبرے'' ہو رہے تھے اوپر سے جناب عمران خان اور حضرت علامہ ڈاکٹر پروفیسر طاہر القادری صاحب نے ''امیدیں'' دلا دلا کر اتنا اتاؤلا بنا دیا ہے کہ صبر کا سارا اندوختہ تمام ہو گیا ہے حالانکہ ایک زمانے سے ہمارے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا ہے جو اب ہوتا ہے لیکن ہم گردن دراز کیے صبر کا وظیفہ پڑھتے رہے کہ یہ قسمت ہماری ہے، پریشان رات طاری ہے، ایک پشتو کہاوت ہے کہ''جب خدا کسی پر مصیبت ڈالے تو اسے چاہیے کہ چمڑی موٹی کر کے بھینس بن جائے'' اور ہم بھی بھینس بنے ہوئے تھے، کبھی اس کی باری اور کبھی اس کا نمبر، کبھی ''سبز قدموں'' کی سبز قدمی کا رونا تو کبھی پی پی پی کی پیپہا اور کبھی کوئل کی کو کو، یعنی جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔

لیکن پھر اچانک ایک نہیں بلکہ دو دو منادی آئے اور نسخہ ہائے کیمیا ساتھ لائے۔ پیاسا تو صبر کیے گردن ڈال چکا تھا لیکن اچانک بادل گھر گھر کر آئے اور امیدوں کے دھانوں پر پھر سے جان پڑ گئی، انقلاب انقلاب نیا پاکستان نیا پاکستان، امیدیں جاگ گئیں، تمنائیں سر سبز ہوئیں اور آرزؤئیں انگڑائیاں لینے لگیں، ستاروں پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے، نہ صرف سنا بلکہ دیکھا بھی کہ بمقام اسلام آباد رنگ ہی رنگ لہرانے لگے نغمے ہی نغمے تھرانے لگے۔


آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اڑتی سی ایک خبر ہے زبانی طیور کی

اینکر تھنکر، بینکر، ٹینکر اور رینکر ایک ساتھ ہی چودہ اگست چودہ اگست کرنے لگے، گویا اس مبارک دن کو ہمیں ایک مرتبہ پھر آزادی ملنے والی تھی، ایک مرتبہ پھر نیا نویلا پاکستان طلوع ہونے والا تھا،

تھی خبر گرم کہ ''غالب'' کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ''سب'' ہی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
نہ خنجر اٹھا نہ تلوار اور نہ ہی ''انگلی'' حالانکہ انگلی اٹھنے کی منتظر تھی نگاہ بلکہ نگاہیں، جھٹکا بڑے زور کا تھا لیکن دھیرے ہوتے ہوتے ڈھیر ہو گیا تو

اڑتے اڑتے آس کا پنچھی دور افق میں ڈوب گیا
روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی

لیکن یہاں وہی بات ہوئی جو فلم سلاخیں میں سنی دیول کے ساتھ ہوئی تھی اور بلونت رائے نے اسے اتنا تنگ کیا کہ ایک دن اپنے ہوش و حواس کھو کر پھٹ پڑا اور عدالت کی ''مریادہ'' کی حدیں پھلانگ کر چلانے لگا، تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ ... جج صاحب صرف تاریخ ملتی ہے ''انصاف'' نہیں ملتا۔ بمقام اسلام آباد (خاص) انڈوں کی ٹوکریاں جمع ہوئیں، انقلاب کے سارے انڈے اور نئے پاکستان کے سارے اپنی اپنی ٹوکریوں میں رکھے گئے اور ''سینے'' کا عمل شروع ہو گیا۔

لیکن اکیسویں دن انڈے چوزوں میں بدل جاتے، لیکن یہاں اکیس دن بھی گزر گئے دھرنے کی ٹوکریوں میں انقلاب اور نیا پاکستان کے انڈے ویسے کے ویسے پڑے رہے۔ سوچا چلو یہ نئی نسل کے انڈے ہیں، شاید زیادہ دن لگتے ہوں لیکن دن مہینوں میں بدلنے لگے، تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ صرف تاریخ پہ تاریخ ملتی رہی ''چوزہ'' کوئی نہیں ملا، نہ انقلاب کی ٹوکری سے اور نہ نیا پاکستان کی ٹوکری سے۔ پھر سنا کہ اگست نہ ہی سہی ستمبر سہی ستمبر نہ سہی اکتوبر نومبر سہی لیکن چوزے نکلیں گے ضرور۔لیکن ادھر سے تسلی ملتی رہی کہ دھیرج رکھو چوزے بس نکلا ہی چاہتے ہیں کیونکہ

''امبر'' میں ہے رچا سوئمبر
پھر بھی تو گھبرائے

ایک ٹوکری تو اٹھا لی گئی کہ فارن لے جا کر انڈوں کو نئے کیمیکلز اور نئے ماہرین کے ذریعے ری کنڈیشنڈ کیا جائے گا، لیکن نیا پاکستان کی ٹوکری وہیں پڑی رہی ، ٹوکری کو یہاں وہاں ''تبدیلی ہوا'' کے لیے بھی لے جایا جانے لگا لیکن پھر دوبارہ بمقام اسلام آباد لایا گیا تو تاریخ پہ تاریخ کی ''آخری تاریخ'' 30 نومبر بھی گزر گئی، جج صاحب یہ ماجرا کیا ہے تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ ملتی رہے گی یا ''انصاف'' بھی ملے گا۔

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
Load Next Story