ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت غیر معیاری آئل کے نام پر پکانے کے تیل کی کلیئرنس کا انکشاف

جانچ میں غفلت، افسران کا بے قاعدگی کی نشاندہی پر ذمے داروں کیخلاف کارروائی سے گریز

کیس دبا دیا، ایک سال سے مس ڈیکلریشن جاری، 35 لاکھ روپے فی کنٹینر کم ڈیوٹی ادائیگی۔ فوٹو: فائل

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت گزشتہ ایک سال سے غیرمعیاری تیل ظاہر کرکے خوردنی تیل اور آر بی ڈی پام آئل کی مس ڈیکلریشن کے ذریعے کسٹمز کلیئرنس کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ سے منسلک کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس کی جانب سے خوردنی تیل اورآربی ڈی پام آئل کے سیکڑوں کنسائنمنٹس کو غیر معیاری آئل ظاہر کر کے کلیئرنس کی گئی، غیرمعیاری آئل پر ڈیوٹی وٹیکسز کا تناسب کم ہے، اس لیے کلیئرنگ ایجنٹس کی جانب سے انشورنس گارنٹی بھی کم جمع کرائی جاتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس وی بوک کسٹمز کلیئرنس سسٹم کے تحت شروع ہوتے ہی بدعنوان کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس نے جعلسازی کے ذریعے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کا آغاز کر دیا۔


ذرائع نے بتایا کہ وی بوک کلیئرنس سسٹم میں گڈز ڈیکلریشن داخل کرتے ہوئے جہاں پوچھاجاتا ہے کہ یہ کھانے پکانے کا آئل ہے وہاں پر کلیئرنس ایجنٹ ''نہیں'' کے خانے میں نشان لگا دیتا ہے جس سے کنسائنمنٹس پر ڈیوٹی و ٹیکسزکم عائد ہوتے ہیں اوراسی تناسب سے انشورنس گارنٹی جمع کرائی جاتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت درآمد کیے جانے والے آئل کے ایک کنٹینر پر 80 تا 85 لاکھ روپے مالیت کی کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوتی ہے جبکہ غیرمعیاری آئل کا ایک کنٹینر ظاہر کرنے پر 45 تا 50 لاکھ روپے ڈیوٹی عائد ہوتی ہے اوراسی تناسب سے انشورنس گارنٹی بھی جمع کرائی جاتی ہے، اس طرح صرف ایک کنٹینر پر 35 لاکھ روپے کم ڈیوٹی ادا کی جاتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پیکنگ لسٹ کے مطابق کنسائنمنٹ میں آئل کی پیکنگ 2 تا 10 لیٹرکی ظاہر کی جاتی ہے اور آئل کو غیرمعیاری بھی لکھا جاتا ہے لیکن ڈائریکٹوریٹ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں تعینات کسٹمز افسران کی جانب سے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کی جانچ پڑتال کرنے میں غفلت برتی گئی اور خوردنی تیل کے کنسائنمنٹس کو غیرمعیاری ہی قرار دے کر کلیئر کردیا گیا تاہم اس امرکی نشاندہی پر ٹرانزٹ ٹریڈ کلکٹوریٹ میں تعینات افسران نے بے قاعدگیوں میں ملوث عناصر کیخلاف تادیبی کارروائی کے بجائے کیس دبا دیا جبکہ مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئر کنسائنمنٹ پر 5 تا 25 ہزار روپے کا شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے لیکن افسران اور کلیئرنگ ایجنٹس کو بچانے کے لیے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
Load Next Story