صوبوں میں گاڑیوں پر پرانی شرح سے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کئے جانے کا انکشاف

محکمہ ایکسائز اور موٹر وہیکل رجسٹریشن انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم پر عمل نہیں کررہے

ریونیو کا بھاری نقصان، ایف بی آربجٹ پر عمل درآمد کے لیے صوبوں کو لیٹر لکھے گا، دستاویز۔ فوٹو: فائل

صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس اور صوبائی موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز کی طرف سے گاڑیوں پر پرانی شرح سے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے اور انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم پر عمل درآمد نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بڑے پیمانے پر ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ ایف بی آر نے بجٹ پر عملدرآمد کے لیے صوبوں کو لیٹر لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق چیئرمین ایف بی آر کی زیرصدارت حالیہ اجلاس میں فیلڈ فارمشنز کی طرف سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بطورود ہولڈنگ ایجنٹس صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنس و موٹر وہیکل رجسٹریشن کی جانب سے گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹرانسفر اور اشیا کی ترسیل و مسافر گاڑیوں و نجی گاڑیوں پر نئے ریٹ کے بجائے پرانے ریٹ کے حساب سے ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی جارہی ہے جس سے ایف بی آر کو ریونیو کی مد میں بھاری نقصان ہو رہا ہے۔


جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترامیم کردی ہیں اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 231 بی اور سیکشن 234 میں ترامیم کی گئی ہیں اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے پہلے شیڈول کے پارٹ 2 کی ڈویژن 3 اور ڈویژن 7 کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کے نئے ریٹس لاگو کر رکھے ہیں جس کے تحت انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح کم ہے جبکہ نان فائلرز کے لیے گاڑیوں کی رجسٹریشن و ٹرانسفر کے لیے ٹیکس کی شرح دگنا رکھی گئی ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ ایکسائز ایڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ اور صوبائی موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹی کی طرف سے نئے ریٹ کے بجائے پرانے ریٹ کے مطابق ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس سے ایف بی آر کو ریونیو کا نقصان ہورہا ہے۔
Load Next Story