فیصل آباد میں کشیدگی کے باعث حصص مارکیٹ میں مندی 138 پوائنٹس گرگئے
انڈیکس 32010 پر آگیا، 18 ارب 90 کروڑ کا نقصان، کاروباری حجم 35 فیصد نیچے، 18 کروڑ 68 لاکھ حصص کے سودے
انڈیکس 32010 پر آگیا، 18 ارب 90 کروڑ کا نقصان، کاروباری حجم 35 فیصد نیچے، 18 کروڑ 68 لاکھ حصص کے سودے۔ فوٹو: آن لائن/فائل
تحریک انصاف کے احتجاج میں فائرنگ کے واقعے سے کراچی سمیت مختلف شہروں میں حالات کشیدہ ہونے اور خام تیل کی عالمی قیمت 5 سال کی کم ترین سطح پر آنے کا ردعمل کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بھی پیر کو نظر آیا جہاں کاروبارمندی سے دوچار رہا جس سے 32100 کی حد گرگئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 18 ارب 90 کروڑ 37 لاکھ 12 ہزار 621 روپے ڈوب گئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد مقامی سطح پر بھی قیمتوں میں مزید کمی کے خدشات کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے آئل کمپنیز کے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دینا شروع کردی ہے جبکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی سرمائے کے انخلا کا دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر سیاسی افق پر دوبارہ غیریقینی صورتحال غالب ہوگئی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے محتاط طرز عمل اختیار کرلیا ہے اور بیشتر شعبے مارکیٹ میں سرمایہ لگانے کے بجائے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دینے لگے ہیں جس سے مارکیٹ کا گراف تنزلی کی جانب گامزن ہوگیا ہے۔
ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر57.27 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن متعدد شعبوں کے حصص کی فروخت میں شدت بڑھنے کی وجہ سے تیزی مندی میں تبدیل ہو گئی، کاروباری دورانیے میں مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر 46 لاکھ 89 ہزار714 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے15 لاکھ11 ہزار727 ڈالر اور بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے31 لاکھ 77 ہزار987 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
مندی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 138.45 پوائنٹس کی کمی سے32010.33 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 94.04 پوائنٹس کی کمی سے 20724.29 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 417.60 پوائنٹس کی کمی سے 50650.94 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 34.76 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر18 کروڑ68 لاکھ 88 ہزار50 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 368 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 145 کے بھاؤ میں اضافہ، 196 کے داموں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد مقامی سطح پر بھی قیمتوں میں مزید کمی کے خدشات کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے آئل کمپنیز کے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دینا شروع کردی ہے جبکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی سرمائے کے انخلا کا دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر سیاسی افق پر دوبارہ غیریقینی صورتحال غالب ہوگئی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے محتاط طرز عمل اختیار کرلیا ہے اور بیشتر شعبے مارکیٹ میں سرمایہ لگانے کے بجائے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دینے لگے ہیں جس سے مارکیٹ کا گراف تنزلی کی جانب گامزن ہوگیا ہے۔
ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر57.27 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن متعدد شعبوں کے حصص کی فروخت میں شدت بڑھنے کی وجہ سے تیزی مندی میں تبدیل ہو گئی، کاروباری دورانیے میں مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر 46 لاکھ 89 ہزار714 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے15 لاکھ11 ہزار727 ڈالر اور بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے31 لاکھ 77 ہزار987 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
مندی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 138.45 پوائنٹس کی کمی سے32010.33 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 94.04 پوائنٹس کی کمی سے 20724.29 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 417.60 پوائنٹس کی کمی سے 50650.94 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 34.76 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر18 کروڑ68 لاکھ 88 ہزار50 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 368 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 145 کے بھاؤ میں اضافہ، 196 کے داموں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔