گھیرائو جلائو کی سیاست اور جمہوریت کا مستقبل

ملک کی سیاسی قیادت اپنےاختلافات کو ختم کرنےکےلیےجمہوری رویےاختیار نہیں کر رہی ہےنہ آئین وقانون کی پرواہ کی جا رہی ہے۔

فیصل آباد میں افسوسناک واقعے کے بعد تحریک انصاف اب احتجاج کی لہر ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلا رہی ہے۔ فوٹو : اے این پی

پاکستان میں ہر سیاسی جماعت جمہوریت کا نعرہ لگاتی ہے لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ مشکل وقت میں یہی جماعتیں اپنے اختلافات کو حل کرنے کے لیے جمہوری رویے اختیار نہیں کرتیں بلکہ ان کا طرز عمل آمرانہ ہوتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے بھی ملک میں جمہوریت ڈی ریل ہوتی رہی اور سیاستدان آمریتوں کا ساتھ دیتے رہے۔

بلاشبہ جمہوری رویے اختیار کرنا آسان نہیں ہوتا'جلسے جلوسوں میں قانون کی حکمرانی کی بات کرنا بڑا اچھا لگتا ہے لیکن خود کو قانون اور آئین کا پابند کرنا بہت مشکل ہوتا ہے' آج ملک میں جو سیاسی دھینگا مشتی بلکہ لڑائی ہو رہی ہے' اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت اپنے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے جمہوری رویے اختیار نہیں کر رہی ہے نہ آئین و قانون کی پرواہ کی جا رہی ہے۔ اب نوبت جلاؤ گھیراؤ اور قتل تک پہنچ گئی ہے۔

فیصل آباد میں جو کچھ ہوا ہے' ٹیلی ویژن اسکرینوں نے پوری دنیا کو دکھایا ہے'یہاں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔ زیادہ بہتر یہ نہیں تھا کہ حکمران جماعت اپنے کارکنوں کوخاموش اور گھروں میں رہنے کی اپیل کرتی اور تحریک انصاف کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے دیتی۔ اس طریقے سے فیصل آباد میں جو گھیراؤ جلاؤ ہوا اور الزام تراشی کا جو عمل شروع ہوا یہ نہ ہوتا۔

فیصل آباد میں افسوسناک واقعے کے بعد تحریک انصاف اب احتجاج کی لہر ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلا رہی ہے۔قرائن یہی نظر آتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ملک کے دوسرے شہروں میں بھی فیصل آباد جیسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو یہ ملک اور جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ حکمران جماعت اور تحریک انصاف کو مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔ ادھر پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتیں بھی وہ کردار ادا نہیں کر رہیں جو انھیں کرنا چاہیے۔


فریقین کے درمیان بات چیت کا عمل پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن یہ عمل اس لیے کامیاب نہ ہو سکا کہ کسی کے پاس فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ مذاکرات میں شریک ہونے والے سیاستدان بیٹھتے اور خوش گپیاں کر کے فارغ ہو جاتے ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بات چیت ناکام ہوئی۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی کوشش کی ۔ان کی نیک نیتی اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان کی کوششیں اس لیے کامیاب نہ ہو سکیں کہ انھیں بھی فریقین کا فیصلہ کن مینڈیٹ حاصل نہیں تھا۔ اب بھی صورت حال ایسی ہی ہے۔

تحریک انصاف والے بھی کہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں جب کہ حکمران جماعت بھی یہی کہتی ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن معاملات جوں کے توں ہیں۔ اس وقت حالات خراب ضرور ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ انھیں درست نہ کیا جا سکے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان خاصے عرصے سے عام انتخابات میں دھاندلی کی بات کر رہے ہیں' اگر ابتدا میں ان کے مطالبات پر غور کر لیا جاتا اور وہ جن چار قومی اسمبلی کے حلقوں کو کھولنے کے مطالبات کر رہے تھے' انھیں کھول دیا جاتا تو آج صورت حال مختلف ہوتی' حکومت نے اس معاملے پر توجہ نہیں دی اور یہ بگڑتے بگڑتے اسلام آباد دھرنوں تک جا پہنچا اور اب یہ جلاؤ گھیراؤ کی صورت اختیارکر گیا ہے۔

پاکستان کی معیشت اس خلفشار کی متحمل نہیں ہو سکتی' اس وقت حالت یہ ہے کہ ملک میں غربت بڑھ رہی ہے' بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے' غیر ملکی سرمایہ کار پریشان ہیں' ملکی سرمایہ کار بیرون ملک شفٹ ہو رہا ہے۔ ایسی صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو تاکہ سنگین اور پیچیدہ مسائل کا کوئی حل سامنے آ سکے لیکن ہو اس کے برعکس رہا ہے' ملک کی سیاسی قیادت باہم دست و گریبان ہے اور عوام پریشانی کے عالم میں سارا منظر نامہ دیکھ رہے ہیں۔ادھر شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے ۔افغانستان میں نئی حکومت برسراقتدار آ چکی ہے ۔بھارت میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے ۔ایسی صورت میں پاکستان میں ایک مضبوط حکومت کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

ایسی حکومت جسے ساری سیاسی جماعتیں تسلیم کرتی ہوں ۔جب ملک میں جلسے جلوس ہو رہے ہوں ' دھرنے دیے جا رہے ہوں 'متحارب سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان لڑائی جھگڑا اور فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں سیاسی استحکام کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ ملک کی سیاسی قیادت کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ چیلنج ان کے اپنے اختلافات کا پیدا کردہ ہے۔ ان اختلافات کو کسی اور طاقت میں ختم نہیں کرنا بلکہ سیاستدانوں نے یہ کام خود کرنا ہے۔ حکمران جماعت اور تحریک انصاف اپنے اختلافات جتنا جلد ہو سکے پر امن اندا ز میں طے کر لیں 'اسی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔
Load Next Story