صحت اور مارکیٹ اکانومی
کومت مریضوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لیے اسپتال نجی اداروں کو دینے کے بارے میں غور کررہی ہے۔
tauceeph@gmail.com
حکومت سندھ نے سرکاری اسپتالوں میں روزانہ علاج کے لیے آنے والے مریضوں کے بیرونی شعبے (OPD)کو نجی شعبے میں دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت اور پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت اب ان شعبوں کا انتظام چلایا جائے گا، یوں نجی شعبہ جو سرمایہ کاری کرے گا، اس کے عوض وہ مریضوں سے فیس وصول کرے گا ۔
سندھ کی حکومت نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی پالیسی کے تحت کئی تعلیمی ادارے نجی شعبے کے حوالے کیے ہیں جنھیں غیر سرکاری تنظیمیں چلارہی ہیں ، صوبائی وزیر صحت جام مہتاب کا کہنا ہے کہ سول اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں کو نجی اداروں کی تحویل میں دینے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا ، تاہم حکومت مریضوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لیے اسپتال نجی اداروں کو دینے کے بارے میں غور کررہی ہے۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کے رہنما رضاربانی ایک ادارے کے شیئرز مارکیٹ میں فروخت کرنے کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔
گزشتہ ماہ رضاربانی نے سینیٹ میں حکومت مخالف کنٹرول کے ساتھ حکومت کی نجکاری کی پالیسی کے خلاف دھرنا دیا تھا۔ سندھ حکومت کے اس فیصلے سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ سندھ حکومت صحت کے شعبے میں نجی شعبے کو شریک کرنے کا فیصلہ مریضوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کررہی ہے مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ غریبوں کے لیے اس فیصلے سے صحت کی سہولتوں کا حصول مزید مشکل ہوجائے گا ، عمومی طور پر سرکاری اسپتالوں کے حالات خراب ہی رہتے ہیں ، اسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے، خاص طور پر سینئر ڈاکٹر اور پروفیسر صاحبان کا وارڈ اور اوپی ڈی میں دستیاب ہونا خاصا مشکل معاملہ ہے پھر ادویات کی کمی پائی جاتی ہے اسپتالوں میں دوائیاں دستیاب نہیں ہوتی ،عمومی طور پر مریضوں کو دوائیاں خریدنے کا مشورہ دیا جاتا ہے پھر ایکسرے ، لیبارٹری ٹیسٹ ، سٹی اسکین وغیرہ کے لیے اسپتالوں میں کوئی معقول انتظام نہیں ہوتا بعض بڑے اسپتالوں میں تو آپریشن کے لیے ضروری سامان انجکشن ادویات بھی مریضوں کو دلانی پڑتی ہے۔
پہلے اسپتالوں میں مریضوں کو کھانا فراہم کیا جاتا تھا ، اسپتالوں میں کھانے کی تیاری کے لیے بڑے بڑے باورچی خانے ہوتے تھے مگر پھر ناقص کھانے کی بناء پر یہ کام رفاعی تنظیموں کے سپرد کردیاگیا تھا۔ جب بھی کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تواسپتالوں میں ڈاکٹروں ، پیرامیڈیکل اسٹاف کی عدم دستیابی ، خون کے ذخیرے کی کمی ، ایک ایک بستر پر کئی کئی مریضوں کو لیٹا کر علاج کے مناظر ذرایع ابلاغ کی زینت بنتے تھے مگر ان تمام صورتحال کے باوجود سندھ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم نظر آتا ہے ، لوگ اوپی ڈی کے باہر علی الصبح آنا شروع کردیتے ہیں ، آپریشن کی فہرست میں مریضوں کے نام شامل کرنے کے لیے سفارشات کرائی جاتی ہیں ، بعض اسپتالوں میں تو پیسے دے کر آپریشن کی فہرست میں نام کا اندراج ہوتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عام آدمی اسپتالوں میں علاج کا خرچ برداشت نہیں کرسکتا ، اس آدمی کے لیے سرکاری اسپتال کے علاوہ کہیں اور علاج کرانا ممکن نہیں ہے جب بھی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں سے ناروا سلوک اور سہولتوں کی کمی کی شکایت کی جاتی ہے تو انتظامیہ فیڈز کی کمی کا جواز دیتی ہیں جب کہ صحت کے وزیر وافر مقدار میں فنڈز کی فراہمی کا کریڈٹ بنتے ہیں یوں اس صورتحال سے واضح طور پر یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اچھی طرز حکومت سے محرومی اور شفاف نظام نہ ہونے کی بناء پر سرکاری اسپتال عام آدمی کی توقعات پر پورا نہیں اترے۔
سرکاری اسپتالوں کا 50 برس سے مشاہدہ کرنے والے پروفیسر سعید عثمانی کہتے ہیں کہ جب بھی کسی سرکاری اسپتال میں اچھا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تعینات ہوا ، اسپتال کی حال بہتر ہوگئی ان کا کہنا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی نے سول اسپتال کا نقشہ تبدیل کردیا ، ان کے دور میں اسپتال کے ٹوٹے فرش جدید شکل اختیار کرگئے، وارڈ میں داخل مریضوں کو ادویات ملنے لگی ، ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اور ٹرانسپلانٹ کے لیے سرکاری امداد ،مخیر حضرات اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے ایک ایسا اسپتال تعمیر کیا جہاں مریضوں کی عزت نفس کا احترام کرتے ہوئے علاج معالجے کی تمام سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں ۔ SIUTمیں گردے کے علاج کے لیے ایک منفرد اسپتال ہے یوں پورے ملک سے مریض یہاں آتے ہیں یہ شاید پاکستان کا واحد اسپتال ہے جہاں صبح 8بجے سے رات 10بجے تک گردے کے پیچیدہ امراض کے علاوہ اوپی ڈیز کا م کرتی ہے ۔
24گھنٹے آپریشن ہونے پر جن میں گردے کی منتقلی کے پیچیدہ آپریشن بھی حائل ہیں اس طرح ناکارہ گردے والے مریضوں کے ڈائیلاسس کی سہولت میں 24گھنٹے مہیا کی جاتی ہے، طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ سندھ کی حکومت ان بہترین تجربات سے فائدہ اٹھانے کے بجائے صحت کے شعبے کو مارکیٹ میں فروخت کررہی ہے ۔ ماہر اقتصادیات کہتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ NFCایوارڈ میں سندھ کو ملنے والی رقم میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، سندھ کو جو رقم ملی ہے وہ بنیادی طور پر صحت ، تعلیم، پانی کی فراہمی، سڑکوں ، پلوں کی تعمیر پر خرچ ہونی چاہیے ۔ سندھ کے بجٹ میں صحت کے لیے مختص بجٹ میں اضافہ ہوا ہے ۔
اضافی رقم ملنے کے باوجود صحت کے شعبے کو نجی تحویل میں دینے کا مطلب یہ ہے کہ سندھ کی حکومت شفافیت کے معیار پر توجہ نہیں دے رہی ہے ، ذرایع ابلاغ سے نشر ہونے والی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں بااثر لوگ ان فنڈز کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ حکومت سندھ کی صحت کے شعبے سے دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو شہید ٹراما سینٹر جو سول اسپتال کراچی میں تعمیر ہورہا ہے 7سال ہونے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا، اس ٹراما سینٹر کی تعمیر کا فیصلہ 2006میں ہوا تھا۔ منصوبے کی لاگت 2ارب روپے لگائی گئی تھی اس میں سے آدھی رقم وفاق اور آدھی رقم حکومت سندھ کو ادا کرنی تھی مگر یہ 15منزلہ ٹراما سینٹر کسی صورت مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔
اب جب حکومت سندھ اوپی ڈیز کو نجی شعبے کے حوالے کرے گی تو غریبوں کے ساتھ جو ہوگا وہ ایک کھلی حقیقت ہے مگر پیپلزپارٹی کا اپنا تشخص متاثر ہو ا،پیپلزپارٹی کی اساس عوام کو بنیادی سہولتوں روٹی ، کپڑا ، مکان کی فراہمی بنیادی نکات ہیں ، جو پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سے نمایاں کرتے ہیں، اس ضمن میں پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت میں کسان رہنما شیخ محمد کی تیارکردہ صحت پالیسی کا ذکر ضروری ہے ، اس پالیسی کے تحت ریاست نے پہلی دفعہ عوام کے صحت کے حق کو تسلیم کیا گیا یوں ملک میں بہت سے اسپتال اور میڈیکل کالجز قائم ہوئے تھے، ڈاکٹروں پیرا میڈیکل اسٹاف کو بہتر گریڈ دینے کا فیصلہ ہوا تھا تاکہ طبی عملہ اطمینان سے اپنے فرائض انجام دے،اس کے ساتھ دوائیوں کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لیے جنرک نیم پالیسی نافذ کی تھی۔ 2008میں پیپلزپارٹی برسر اقتدار آئی تو ذوالفقار علی بھٹوکی اس پالیسی پر توجہ نہیں دی بلکہ ادویہ سازکمپنیوں کو قیمتوں میں اضافے کے لیے مواقعے فراہم کیے۔
اس وقت کی وزیر صحت فردوس عاشق اعوان نے پہلی دفعہ ادویات کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ کیا تو حکومتی مشنری نے اس فیصلے کی حمایت نہیں کی، یوں کمپنیوں نے عدالتوں کے اسٹے آرڈر حاصل کرلیے تھے، پیپلزپارٹی کی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات کرکے مسلم لیگ اور تحریک انصاف کا راستہ روک سکتی ہیں، مگر اب اوپی ڈیز کو نجی شعبے کے حوالے کرکے نہ صرف غریبوں کے ساتھ ناروا سلوک کیاجائے گا بلکہ پیپلزپارٹی عوام کے بڑی ہمدردی سے محروم ہوجائے گی ، یوں پیپلزپارٹی کا میاں نواز شریف کی نج کاری پالیسی کے خلاف عوامی دباؤ بڑھانے کا موقع ضایع ہوجائے گا اور رضا ربانی کی پرائیوٹائزیشن کے خلاف مہم بے اثر ہوجائے گی۔ اگر مذہبی جماعتوں نے صحت کے بنیادی معاملے کو اٹھایا تو عوام کے لیے ان جماعتوں کی حمایت کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔
سندھ کی حکومت نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی پالیسی کے تحت کئی تعلیمی ادارے نجی شعبے کے حوالے کیے ہیں جنھیں غیر سرکاری تنظیمیں چلارہی ہیں ، صوبائی وزیر صحت جام مہتاب کا کہنا ہے کہ سول اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں کو نجی اداروں کی تحویل میں دینے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا ، تاہم حکومت مریضوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لیے اسپتال نجی اداروں کو دینے کے بارے میں غور کررہی ہے۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کے رہنما رضاربانی ایک ادارے کے شیئرز مارکیٹ میں فروخت کرنے کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔
گزشتہ ماہ رضاربانی نے سینیٹ میں حکومت مخالف کنٹرول کے ساتھ حکومت کی نجکاری کی پالیسی کے خلاف دھرنا دیا تھا۔ سندھ حکومت کے اس فیصلے سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ سندھ حکومت صحت کے شعبے میں نجی شعبے کو شریک کرنے کا فیصلہ مریضوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کررہی ہے مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ غریبوں کے لیے اس فیصلے سے صحت کی سہولتوں کا حصول مزید مشکل ہوجائے گا ، عمومی طور پر سرکاری اسپتالوں کے حالات خراب ہی رہتے ہیں ، اسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے، خاص طور پر سینئر ڈاکٹر اور پروفیسر صاحبان کا وارڈ اور اوپی ڈی میں دستیاب ہونا خاصا مشکل معاملہ ہے پھر ادویات کی کمی پائی جاتی ہے اسپتالوں میں دوائیاں دستیاب نہیں ہوتی ،عمومی طور پر مریضوں کو دوائیاں خریدنے کا مشورہ دیا جاتا ہے پھر ایکسرے ، لیبارٹری ٹیسٹ ، سٹی اسکین وغیرہ کے لیے اسپتالوں میں کوئی معقول انتظام نہیں ہوتا بعض بڑے اسپتالوں میں تو آپریشن کے لیے ضروری سامان انجکشن ادویات بھی مریضوں کو دلانی پڑتی ہے۔
پہلے اسپتالوں میں مریضوں کو کھانا فراہم کیا جاتا تھا ، اسپتالوں میں کھانے کی تیاری کے لیے بڑے بڑے باورچی خانے ہوتے تھے مگر پھر ناقص کھانے کی بناء پر یہ کام رفاعی تنظیموں کے سپرد کردیاگیا تھا۔ جب بھی کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تواسپتالوں میں ڈاکٹروں ، پیرامیڈیکل اسٹاف کی عدم دستیابی ، خون کے ذخیرے کی کمی ، ایک ایک بستر پر کئی کئی مریضوں کو لیٹا کر علاج کے مناظر ذرایع ابلاغ کی زینت بنتے تھے مگر ان تمام صورتحال کے باوجود سندھ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم نظر آتا ہے ، لوگ اوپی ڈی کے باہر علی الصبح آنا شروع کردیتے ہیں ، آپریشن کی فہرست میں مریضوں کے نام شامل کرنے کے لیے سفارشات کرائی جاتی ہیں ، بعض اسپتالوں میں تو پیسے دے کر آپریشن کی فہرست میں نام کا اندراج ہوتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عام آدمی اسپتالوں میں علاج کا خرچ برداشت نہیں کرسکتا ، اس آدمی کے لیے سرکاری اسپتال کے علاوہ کہیں اور علاج کرانا ممکن نہیں ہے جب بھی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں سے ناروا سلوک اور سہولتوں کی کمی کی شکایت کی جاتی ہے تو انتظامیہ فیڈز کی کمی کا جواز دیتی ہیں جب کہ صحت کے وزیر وافر مقدار میں فنڈز کی فراہمی کا کریڈٹ بنتے ہیں یوں اس صورتحال سے واضح طور پر یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اچھی طرز حکومت سے محرومی اور شفاف نظام نہ ہونے کی بناء پر سرکاری اسپتال عام آدمی کی توقعات پر پورا نہیں اترے۔
سرکاری اسپتالوں کا 50 برس سے مشاہدہ کرنے والے پروفیسر سعید عثمانی کہتے ہیں کہ جب بھی کسی سرکاری اسپتال میں اچھا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تعینات ہوا ، اسپتال کی حال بہتر ہوگئی ان کا کہنا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی نے سول اسپتال کا نقشہ تبدیل کردیا ، ان کے دور میں اسپتال کے ٹوٹے فرش جدید شکل اختیار کرگئے، وارڈ میں داخل مریضوں کو ادویات ملنے لگی ، ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اور ٹرانسپلانٹ کے لیے سرکاری امداد ،مخیر حضرات اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے ایک ایسا اسپتال تعمیر کیا جہاں مریضوں کی عزت نفس کا احترام کرتے ہوئے علاج معالجے کی تمام سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں ۔ SIUTمیں گردے کے علاج کے لیے ایک منفرد اسپتال ہے یوں پورے ملک سے مریض یہاں آتے ہیں یہ شاید پاکستان کا واحد اسپتال ہے جہاں صبح 8بجے سے رات 10بجے تک گردے کے پیچیدہ امراض کے علاوہ اوپی ڈیز کا م کرتی ہے ۔
24گھنٹے آپریشن ہونے پر جن میں گردے کی منتقلی کے پیچیدہ آپریشن بھی حائل ہیں اس طرح ناکارہ گردے والے مریضوں کے ڈائیلاسس کی سہولت میں 24گھنٹے مہیا کی جاتی ہے، طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ سندھ کی حکومت ان بہترین تجربات سے فائدہ اٹھانے کے بجائے صحت کے شعبے کو مارکیٹ میں فروخت کررہی ہے ۔ ماہر اقتصادیات کہتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ NFCایوارڈ میں سندھ کو ملنے والی رقم میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، سندھ کو جو رقم ملی ہے وہ بنیادی طور پر صحت ، تعلیم، پانی کی فراہمی، سڑکوں ، پلوں کی تعمیر پر خرچ ہونی چاہیے ۔ سندھ کے بجٹ میں صحت کے لیے مختص بجٹ میں اضافہ ہوا ہے ۔
اضافی رقم ملنے کے باوجود صحت کے شعبے کو نجی تحویل میں دینے کا مطلب یہ ہے کہ سندھ کی حکومت شفافیت کے معیار پر توجہ نہیں دے رہی ہے ، ذرایع ابلاغ سے نشر ہونے والی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں بااثر لوگ ان فنڈز کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ حکومت سندھ کی صحت کے شعبے سے دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو شہید ٹراما سینٹر جو سول اسپتال کراچی میں تعمیر ہورہا ہے 7سال ہونے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا، اس ٹراما سینٹر کی تعمیر کا فیصلہ 2006میں ہوا تھا۔ منصوبے کی لاگت 2ارب روپے لگائی گئی تھی اس میں سے آدھی رقم وفاق اور آدھی رقم حکومت سندھ کو ادا کرنی تھی مگر یہ 15منزلہ ٹراما سینٹر کسی صورت مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔
اب جب حکومت سندھ اوپی ڈیز کو نجی شعبے کے حوالے کرے گی تو غریبوں کے ساتھ جو ہوگا وہ ایک کھلی حقیقت ہے مگر پیپلزپارٹی کا اپنا تشخص متاثر ہو ا،پیپلزپارٹی کی اساس عوام کو بنیادی سہولتوں روٹی ، کپڑا ، مکان کی فراہمی بنیادی نکات ہیں ، جو پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سے نمایاں کرتے ہیں، اس ضمن میں پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت میں کسان رہنما شیخ محمد کی تیارکردہ صحت پالیسی کا ذکر ضروری ہے ، اس پالیسی کے تحت ریاست نے پہلی دفعہ عوام کے صحت کے حق کو تسلیم کیا گیا یوں ملک میں بہت سے اسپتال اور میڈیکل کالجز قائم ہوئے تھے، ڈاکٹروں پیرا میڈیکل اسٹاف کو بہتر گریڈ دینے کا فیصلہ ہوا تھا تاکہ طبی عملہ اطمینان سے اپنے فرائض انجام دے،اس کے ساتھ دوائیوں کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لیے جنرک نیم پالیسی نافذ کی تھی۔ 2008میں پیپلزپارٹی برسر اقتدار آئی تو ذوالفقار علی بھٹوکی اس پالیسی پر توجہ نہیں دی بلکہ ادویہ سازکمپنیوں کو قیمتوں میں اضافے کے لیے مواقعے فراہم کیے۔
اس وقت کی وزیر صحت فردوس عاشق اعوان نے پہلی دفعہ ادویات کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ کیا تو حکومتی مشنری نے اس فیصلے کی حمایت نہیں کی، یوں کمپنیوں نے عدالتوں کے اسٹے آرڈر حاصل کرلیے تھے، پیپلزپارٹی کی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات کرکے مسلم لیگ اور تحریک انصاف کا راستہ روک سکتی ہیں، مگر اب اوپی ڈیز کو نجی شعبے کے حوالے کرکے نہ صرف غریبوں کے ساتھ ناروا سلوک کیاجائے گا بلکہ پیپلزپارٹی عوام کے بڑی ہمدردی سے محروم ہوجائے گی ، یوں پیپلزپارٹی کا میاں نواز شریف کی نج کاری پالیسی کے خلاف عوامی دباؤ بڑھانے کا موقع ضایع ہوجائے گا اور رضا ربانی کی پرائیوٹائزیشن کے خلاف مہم بے اثر ہوجائے گی۔ اگر مذہبی جماعتوں نے صحت کے بنیادی معاملے کو اٹھایا تو عوام کے لیے ان جماعتوں کی حمایت کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔