ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ

جب سیزن کا کوئی نیا پھل نئی سبزی یا کوئی اور چیز بازار میں آتی ہے تو کھپت کے مقابلے میں اس کی رسد کم ہوتی ہے۔

barq@email.com

ہمارا تو دل ہی باغ باغ ہو گیا یہ سن کر کہ صوبائی حکومت کے ''اقدامات'' کے نتائج نکلنا شروع ہو گئے ہیں چونکہ یہ خبر سب سے اونچے مقام سے آئی تھی، اس لیے ہم اٹھے ہم چلے ہم دوڑے کہ ان ''نتائج یا ثمرات'' کو چکھ سکیں لیکن اب تک گوہر مراد ہاتھ نہیں لگا ہے، شاید ابھی یہ ثمرات بڑے پیمانے پر بازار میں نہیں آئے ہوں گے اور ''نیا میوہ'' ہونے کی وجہ سے جتنے کچھ بھی آتے ہیں وہ ہاتھوں ہاتھ بک جاتے ہیں، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جب سیزن کا کوئی نیا پھل نئی سبزی یا کوئی اور چیز بازار میں آتی ہے تو کھپت کے مقابلے میں اس کی رسد کم ہوتی ہے اور خال خال دکانوں میں دستیاب ہوتی ہے پھر جب مال کی رسد بڑھ جاتی ہے اور اکثر لوگ اس کا ذائقہ چکھ لیتے ہیں تو پھر عام ہو جاتی ہے لیکن ''عام'' میں وہ بات کہاں جو ''خاص'' میں ہوتی ہے۔

اسی غرض کے لیے اکثر کاشت کار، کسان اور زمین دار کوشش کرتے ہیں کہ اپنا مال سب سے پہلے بازار میں لے آئیں کیوں کہ کچھ لوگ ہر ''نیا میوہ'' ہر قیمت پر سب سے پہلے چکھنا چاہتے ہیں، ایک بڑا پرانا قصہ یاد آیا ہم ایک اخبار میں کام کرتے تھے، تنخواہ اتنی تھی کہ نئے سیزن کا نیا میوہ تو کیا ہم اس وقت تک کوئی پھل یا سبزی خرید نہیں پاتے تھے جب تک بازار میں اس کے ڈھیر سڑنے نہ لگ جاتے، ایسے میں ایک دن ہم نے اپنے دفتر کے ایک کلرک کودیکھا جو سبزی منڈی میں اپنی پھٹیجر سائیکل ہینڈل سے پکڑے پھر رہا تھا، اس کی تنخواہ ہم سے بھی کم تھی اور اکثر دفتر کی ردی چرا کر اپنا گزارہ چلاتا تھا۔ پوچھا بھئی کیا کر رہے ہو۔

بولا، یار کسی نے بتایا کہ بازار میں بھنڈی آئی ہے سوچا ہم بھی چکھ لیں۔ ہم نے اپنے خیال میں اسے سمجھایا کہ ایسی بھی کیا جلدی ۔۔۔ چند ہی دنوں میں سیزن شروع ہو جائے گا، چند روز بعد ہی سہی ، طنزیہ انداز اور ہمارا مذاق اڑاتے ہوئے بولا، پھر تو گدھے بھی کھا لیں گے مزا تو تب ہے کہ سب سے پہلے ہم چکھ لیں، ایسی حالت ہماری بھی جناب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے اس بیان پر ہو گئی کہ حکومتی ''اقدامات'' کے ''نتائج'' ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں حکومت نے جو ''باغ'' لگایا تھا اس کے ثمرات مارکیٹ میں پہنچ گئے۔ ہم بھی ترنت اٹھے، اپنی ''ضروریات'' کا میلا کچیلا تھیلا اٹھایا اور حکومتی اقدامات کے نتائج عرف ثمرات کا پہلا میوہ تلاشنے نکل پڑے کہ یہی وہ موقع ہے جب ہم سیزن کا پہلا میوہ چکھ کر خود کو ''خاص'' کر سکتے ہیں، بعد میں یقیناً اس کے ڈھیر لگنا تھے لیکن پھر تو کتے بلیاں اور عامی امی لوگ بھی کھا رہے ہوں گے، گرنے کے بعد ہوش میں آئے توکیا کیا۔

کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

لیکن بازار میں یہاں پوچھا وہاں پوچھا بلکہ نہ جانے کہاں کہاں پوچھا لیکن کسی بھی دکاندار نے بتا کر نہ دیا کہ حکومتی اقدامات کے ثمرات کا نیا میوہ بازار میں آیا ہے، ان دکانوں میں بھی کھوجا جو خاص الخاص لوگوں کی خاص الخاص آبادیوں کے خاص الخاص لوگوں کے لیے خاص الخاص نکڑوں پر خاص الخاص انداز میں سجی ہوتی ہیں، ایسی دکانوں میں اگر پیار بھی ہو تو اس پر بھی ''پیار'' آجاتا ہے کیوں کہ اتنے پرکشش ہوتے ہیں جیسے ابھی ابھی ''بیوٹی پارلر'' سے نکل کر دکانوں میں آبیٹھے ہوں ، سرمے سے تیز دشنہ مژگان کیے ہوئے اور چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے لیکن گوہر مراد کہیں بھی نہیں پایا،

ہم نے دل کا دیا جلایا
تم کو کہیں نہ پایا تو
ہم نے دل کا دیا بجھایا


لیکن اچھا ہوا جو اچانک ہی ہمیں ایک حضر راہ مل گیا جو اصل میں تو حضر راہ نہیں تھا بلکہ پکا پکا خچر راہ تھا لیکن کیا کیا جائے کہ بزرگوں نے کہا ہوا ہے کہ بوقت ضرورت کسی کو بھی کچھ بھی بنایا جا سکتا ہے، سو ہم نے بھی اس کے ساتھ وہی کیا، تب اس نے ہمیں یہ نکتے کی بات سمجھائی کہ پہلا پہلا پیار، پہلا پہلا خمار اور موسم کا پہلا پہلا میوہ یوں برسر عام نہیں بیچا جاتا، پہلے برکت ڈالنے کے لیے اسے مستحقین میں بانٹا جاتا ہے تب ہمیں اپنے بچپن میں گاؤں کا وہ کبابی یاد آیا جو کباب کی کڑاہی چڑھا کر پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکیہ نما کباب ڈالتا تھا اور ''اپنے'' بچوں میں بانٹ دیتا تھا، اس کا کہنا تھا کہ بچوں کے دل سے نکلی ہوئی دعائیں بقول رحمن بابا ''درویشوں'' کی رفتار رکھتی ہیں۔

چہ پہ یوقدم تر عرشہ پورے رسی
مالیدلے دے رفتار د درویشانو

یعنی جو ایک ہی قدم میں عرش تک جا پہنچتے ہیں، درویش لوگ ایسے ہی تیزرفتار ہوتے ہیں اس کے بعد بھی ''بات'' ہماری سمجھ میں نہ آتی تو پھٹکار ہے، ہماری سمجھ پر، مطلب یہ حکومتی اقدامات کے ثمرات ملنا تو ضرورشروع ہو چکے ہوں گے لیکن ابھی پہلا پہلا میوہ''مستحقین'' میں بانٹا جارہا ہوگا کیونکہ علامہ بریانی کا فرمایا ہوا مستند ''مسئلہ خیرات'' یہ ہے کہ خیرات کی ابتداء قریبی مستحقین سے کی جانی چاہیے اور اس مسئلے کو وہ عملی صورت یوں دیتے تھے کہ میت کی ''سقاط'' سب سے پہلے ''قریبی'' مستحق کو دیا کرتے تھے جو ظاہر ہے کہ ان کی اپنی ''جیب'' تھی بھلا اپنی ''جیب''سے بھی زیادہ کوئی قریبی مستحق ہو سکتا ہے؟ ویسے یہ قول زرین بھی علامہ کا ہی ہے کہ پہلے ''جان'' پھر ''جہان''، اب کیا یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ ہماری صوبائی حکومت مکمل طور پر علامہ بریانی کی پیروکار ہے کیونکہ ابتداء ہی سے اس کی تقسیم کا سلسلہ وہی ہے کہ ابتداء اپنے گھر سے ہی ہونی چائے۔

ممبریاں، کونسلریاں، نوکریاں، ٹوکریاں سب کی سب قربیوں بلکہ اپنے گھروں ہی سے شروع کی گئیں ہیں اور انشاء اللہ اگر زندگی نے ہمارے ساتھ چالیس پچاس سال اور بھی وفا کی تو ایک دن یہ سلسلہ ہم تک بھی پہنچ جائے گا، وہ ایک بڑی خوب صورت بات یاد آئی غالباً محمود غزنوی کا واقعہ ہے کہ وہ ایک بزرگ کے پاس گئے لیکن بزرگ نے اس سے کوئی خاص تعرض نہیں کیا، اس پر محمود غزنوی نے کہا کہ میں حاکم وقت ہوں اور خدا نے فرمایا ہے کہ تم اللہ کی اس کے رسول اور اپنے حاکم وقت کی اطاعت کرو ۔ اس پر بزرگ نے فرمایا، بالکل ٹھیک ، میں اللہ کے اسی فرمان پر عمل پیرا ہوں، فی الحال میں اللہ کی اطاعت کر رہا ہوں، یہ پورا کر پاؤں تو اطاعت رسول کی باری آئے گی اور تمہاری یعنی حاکم وقت کی اطاعت کی باری ان پہلی دو اطاعتوں کے پورا ہونے کے بعد آئے گی تو ہم بھی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کسی نہ کسی دن تو ہماری باری بھی آہی جائے گی۔

ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ
ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ۔۔۔ البتہ یہ اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے کہ کون سا سفر ؟ وہ سفر جو ثمرات نے اپنے گھر سے ہمارے گھر کی طرف شروع کیا ہے یا وہ سفر جو دی اینڈ کی طرف جاتا ہے، بہرحال اتنا تو پھر بھی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حکومت کے ''اقدامات'' کے نتائج اور باغات کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں کیوں کہ جس مقام سے یہ خبر آئی ہے وہاں سے ہمیشہ سچی اور مصدقہ ''خبر'' ہی نکلتی ہے جیسی مثلاً یہ خبر نکلی تھی اور سب سے پہلے نکلی تھی کہ کرپشن کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور واقعی کرپشن کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور ایسا کر دیا گیا ہے کہ اب اس کی داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں، تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ کسی دوا کے کسی نسخے میں ڈالنے کے لیے کہیں پر رتی بھر کرپشن بھی دستیاب نہیں ہے، اس لیے ہمیں حکومتی اقدامات کے نتائج اور باغات کے ثمرات کے بارے میں بھی پکا یقین ہے کہ علامہ بریانی کے اصول خیرات کے مطابق اس کی ابتداء ہو چکی ہو گی اور ایک دن ہم دیکھ لیں گے کہ ان ''ثمرات'' کے کریٹ کے کریٹ بازار میں ڈھیروں ڈھیر دستیاب ہیں۔

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
Load Next Story