انٹر بورڈ پر مسلح گروپ قابض طلبا سے لوٹ مار
مسلح ٹولے کی آزادانہ سرگرمیوں کے باعث طلبہ وطالبات، والدین اور سرکاری عملے میں خوف و ہراس
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں فارم جمع کرانے کے لیے آنے والے طلبا سے رقم چھین لی گئی اور مزاحمت کرنے پر انھیں تشددکا نشانہ بنایا گیا۔ فوٹو: فیس بک
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ میں مسلح گروپ کی جانب سے انتظامی عمارت پر حملے اور فائرنگ کے واقعے کو5روزگزرنے کے باوجود حکومت سندھ کی جانب سے بورڈ میں کسی قسم کے حفاظتی اقدامات سامنے نہیں آسکے ہیں۔
حکومتی دعوئوں اور وعدوں کے باوجود بورڈ میں رینجرزاور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جاسکی ہے نہ ہی بورڈمیں طلبا وطالبات اورعملے کی حفاظت کیلیے کوئی جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے جس سے بورڈ کے ملازمین ،افسران اوروہاں جانے والے طلبا میں خوف وہراس پایا جاتا ہے اورکٹی پہا ڑی کے قریب قائم انٹربورڈ میں طلبا وطالبات کوتنگ کرنے،ان سے رقم اور موبائل فون چھیننے اور زدوکوب کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، روزانہ کی بنیادوں پر بورڈ کا رخ کرنے والے سیکڑوں طلبا و طالبات اور بورڈ کے عملے کو جرائم پیشہ افرادکے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
پیرکو بھی اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں اسی قسم کا ناخوش گوار واقعہ پیش آیا ہے جس میںفارم جمع کرانے کے لیے آنے والے طلبا سے رقم چھین لی گئی اور مزاحمت کرنے پر انھیں تشددکا نشانہ بنایا گیا جبکہ معاملے میں مداخلت کرنے والے ملازمین کو بھی سخت نتائج کی دھمکی دی گئی، بورڈ کا رخ کرنے والے یہ طلبا جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں تشددکا نشانہ بننے کے بعد بے بسی کی تصویر بنے رہے تاہم کنٹرولنگ اتھارٹی کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم تعیناتی کے سبب ان جرائم پیشہ افراد سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
جمعرات کو بورڈ میں جرائم پیشہ افراد کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد پیرکو شاہراہ نور جہاں تھانے کی ایک پولیس موبائل چند اہلکاروں کے ساتھ اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے مرکزی دروازے پرکھڑی نظرآئی تاہم پولیس کے یہ سپاہی بھی شہرکے دیگرعلاقوں کی طرح بورڈ آفس میں بھی روایتی انداز میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے اورایک کلومیٹرسے زائد کے رقبے پر پھیلے انٹربورڈ میں پیش آنے والے کسی بھی قسم کے واقعے سے یہ پولیس اہلکار لاعلم نظرآئے، یاد رہے کہ سندھ کے تعلیمی بورڈزکی کنٹرولنگ اتھارٹی گورنر سیکریٹریٹ سے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ منتقل ہوچکی ہے۔
تاہم وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو بورڈ کے اختیارات منتقل ہونے کے بعد بے پناہ شکایات کے باوجود بورڈ میں سیکیورٹی کاکوئی مناسب انتظام نہیں کیا جاسکا ہے جس کے سبب جمعرات کوبورڈ میں صرف کھانا چھیننے سے روکنے پر جرائم پیشہ افراد نے منظم انداز میں بورڈ کی انتظامی عمارت پر فائرنگ کردی تھی جس سے نیچے کھڑی ہوئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے جبکہ وہاں موجود افراد نے زمین پرلیٹ کر اور دفاترمیں چھپ کرجان بچائی تھی تاہم اس واقعے کے باوجود پیرکوحکومت سندھ کی جانب سے سیکیورٹی کے انتظامات دیکھنے میں نہیں آئے۔
حکومتی دعوئوں اور وعدوں کے باوجود بورڈ میں رینجرزاور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جاسکی ہے نہ ہی بورڈمیں طلبا وطالبات اورعملے کی حفاظت کیلیے کوئی جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے جس سے بورڈ کے ملازمین ،افسران اوروہاں جانے والے طلبا میں خوف وہراس پایا جاتا ہے اورکٹی پہا ڑی کے قریب قائم انٹربورڈ میں طلبا وطالبات کوتنگ کرنے،ان سے رقم اور موبائل فون چھیننے اور زدوکوب کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، روزانہ کی بنیادوں پر بورڈ کا رخ کرنے والے سیکڑوں طلبا و طالبات اور بورڈ کے عملے کو جرائم پیشہ افرادکے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
پیرکو بھی اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں اسی قسم کا ناخوش گوار واقعہ پیش آیا ہے جس میںفارم جمع کرانے کے لیے آنے والے طلبا سے رقم چھین لی گئی اور مزاحمت کرنے پر انھیں تشددکا نشانہ بنایا گیا جبکہ معاملے میں مداخلت کرنے والے ملازمین کو بھی سخت نتائج کی دھمکی دی گئی، بورڈ کا رخ کرنے والے یہ طلبا جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں تشددکا نشانہ بننے کے بعد بے بسی کی تصویر بنے رہے تاہم کنٹرولنگ اتھارٹی کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم تعیناتی کے سبب ان جرائم پیشہ افراد سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
جمعرات کو بورڈ میں جرائم پیشہ افراد کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد پیرکو شاہراہ نور جہاں تھانے کی ایک پولیس موبائل چند اہلکاروں کے ساتھ اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے مرکزی دروازے پرکھڑی نظرآئی تاہم پولیس کے یہ سپاہی بھی شہرکے دیگرعلاقوں کی طرح بورڈ آفس میں بھی روایتی انداز میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے اورایک کلومیٹرسے زائد کے رقبے پر پھیلے انٹربورڈ میں پیش آنے والے کسی بھی قسم کے واقعے سے یہ پولیس اہلکار لاعلم نظرآئے، یاد رہے کہ سندھ کے تعلیمی بورڈزکی کنٹرولنگ اتھارٹی گورنر سیکریٹریٹ سے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ منتقل ہوچکی ہے۔
تاہم وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو بورڈ کے اختیارات منتقل ہونے کے بعد بے پناہ شکایات کے باوجود بورڈ میں سیکیورٹی کاکوئی مناسب انتظام نہیں کیا جاسکا ہے جس کے سبب جمعرات کوبورڈ میں صرف کھانا چھیننے سے روکنے پر جرائم پیشہ افراد نے منظم انداز میں بورڈ کی انتظامی عمارت پر فائرنگ کردی تھی جس سے نیچے کھڑی ہوئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے جبکہ وہاں موجود افراد نے زمین پرلیٹ کر اور دفاترمیں چھپ کرجان بچائی تھی تاہم اس واقعے کے باوجود پیرکوحکومت سندھ کی جانب سے سیکیورٹی کے انتظامات دیکھنے میں نہیں آئے۔