بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد پر پابندی لگائی جائے پی سی جی اے

حکومت کھل پر عائد سیلز ٹیکس واپس لینے پر آمادہ ہوگئی، اعلان جمعہ کو متوقع ہے، چیئرمین

جنرز مالی بحران میں مبتلا، کاشتکاروں کو اربوں روپے دینے ہیں، حکومت نے روئی نہ خریدی تو کپاس کھیتوں میں خراب ہوجائیگی، سی ای سی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مذاکرات کامیاب ہو گئے، چند روز میں کھل پر 5 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے لیا جائے گا۔

پی سی جی اے کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس کے بعد چیئرمین حاجی حفیظ انور، سابق چیئرمین مختار احمد بلوچ، سابق وائس چیئرمین عاصم سعید شیخ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کھل پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ ای سی سی کے جمعہ کو متوقع اجلاس میں واپس لے لیا جائے گا۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت سے کاٹن یارن کی امپورٹ پر فوری پابندی عائد کی جائے تاکہ کاشت کاروں اور جنرز کو مزید نقصانات سے بچایا جاسکے۔


انھوں نے کہا کہ دنیا میں اس وقت کہیں بھی روئی کی قیمت 6864 روپے فی من کے برابر نہیں، حکومت موجودہ مارکیٹ ریٹ پرروئی خریدے اور 10 لاکھ کے بجائے 20 لاکھ گانٹھ روئی خریدے، جننگ فیکٹریوں میں 24 لاکھ نئی روئی و کپاس فروخت شدہ اسٹاک میں موجود ہے جبکہ 30 لاکھ گانٹھ کپاس مزید متوقع ہے، حکومت گریڈ 1-1/16 کے بجائے گریڈ 1-1/32 کی روئی خرید کرے، جنرز بھی کاشتکاروں کی طرح مالی بحران کا شکار ہیں، بینک لمٹس ختم ہو چکی ہیں اور جنرز نے کاشتکاروں کو اربوں روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں، وفاقی وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر نے مسائل کے حل کے لیے موثر کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور متعلقہ وزارتیں بروقت فیصلے کریں گی، تاخیر سے کیے گئے فیصلے بہتر نتائج نہیں دیتے، حکومت کی جانب سے نظرثانی شدہ فیصلوں سے کاٹن ٹریڈ میں بہتری آئے گی، حکومت کی جانب سے کھل پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس لینے سے معیشت پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔

اے پی پی کے مطابق پی سی جی اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت اوردیگرممالک سے آنے والے دھاگے (یارن) پر کم از کم 25 فیصد امپورٹ ڈیوٹی لگائی جائے، ملک میں کپاس کی 1 کروڑ 50 لاکھ گانٹھ پیداوار متوقع ہے جبکہ اپٹما کی ضرورت 1 کروڑ 20 لاکھ گانٹھ ہے، اگرٹی سی پی کم از کم 20لاکھ گانٹھ روئی نہیں خریدے گی تویہ کپاس کھیتوں میں ہی خراب ہوجائے گی۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ ٹی سی پی ساڑھے 6 ہزار روپے فی من کے بجائے ساڑھے 5 ہزارروپے فی من روئی خریدے۔
Load Next Story