سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے غیر قانونی طور پرچلنے والے3 بلڈ بینک سیل کردیے

کھارادرکے علاقے میں ایمرجنسی والنٹیئر بلڈ بینک غیر قانونی طور پر کام کر رہا تھا

ڈاکٹر زاہد انصاری نے بتایا کہ کراچی میں درجنوں غیر معیاری اورغیر قانونی بلڈ بینک کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں جو شہر میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسی موذی امراض کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں۔ فوٹو فائل

سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے غیر قانونی طور پرچلنے والے3بلڈ بینکوںکو سیل کردیا۔


اتھارٹی نے کراچی سمیت اندرون سندھ میں کام کرنے والے غیر مستند اورغیر رجسٹرڈبلڈ بینکوں کے مالکان کوانتباہ کرتے ہوئے کہاکہ فوری طور پربندکردیں یا پھراتھارٹی سے معائنہ کرائیں بصورت دیگر ایسے بلڈ بینکوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر زاہد انصاری نے بتایا کہ کراچی میں درجنوں غیر معیاری اورغیر قانونی بلڈ بینک کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں جو شہر میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسی موذی امراض کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ اتھارٹی نے ایک بار پھرغیر قانونی بلڈ بینکوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلڈ بینکوں کو اتھارٹی کے تحت رجسٹرڈ کرائیں، انھوں نے کہاکہ پیرکو سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے شہر میں تین بلڈ بینکس کوغیر معیاری اورقانون کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے سیل کر دیا، سندھ بلڈ ٹرانسفیوڑن اتھارٹی کے سیکریٹری ڈاکٹر زاہد انصاری کے مطابق یہ کارروائی سول اسپتال کراچی کے نزدیک علی بلڈ بینک اورکھارادرکے علاقے میں السید بلڈ بینک کے خلاف کی گئی ہے، اسی طرح کھارادرکے علاقے میں ایمرجنسی والنٹیئر بلڈ بینک غیر قانونی طور پر کام کر رہا تھا جس پر اسے سیل کر دیا گیا۔
Load Next Story