پیدائشی طور پر جڑی بچیوں کو الگ کرنے کا آپریشن کامیاب
جڑواں بچیوں کے جسم پسلیوں کے نچلے اورپیٹ کے اوپری حصے سے جڑے ہوئے تھے جبکہ ایک بچی کے دل میں پیدائشی طور پر سوراخ ہے۔
بچیوں کے والدین نے جڑی بچیوں کوکامیابی سے الگ کرنے پرخوشی کا اظہار کیا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں پیدائشی طور پرجڑی بچیوں کو الگ کرنے کا آپریشن کامیاب ہوگیا ہے، اے کے یو ایچ میں کیا جانے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہے۔
تفصیلات کے مطابق اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے الیاس کی اہلیہ نے2جڑواں بچیوں کوجنم دیا تھا جن کے جسم پسلیوں کے نچلے اورپیٹ کے اوپری حصے سے جڑے ہوئے تھے، دونوں کا جگر بھی ایک تھا جبکہ ایک بچی کے دل میں پیدائشی طور پر سوراخ ہے، جڑی ہوئی بچیوں کی پیدائش کے بعد والد الیاس نے کئی ڈاکٹروں سے رابطہ کیا تاہم کوئی ڈاکٹر آپریشن کے لیے رضامند نہ تھا، ساڑھے 3 ماہ گزرنے کے بعد وہ اپنی جڑی ہوئی بچیوں کو کراچی لائے اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال سے رابطہ کیا جہاں ان کا آپریشن کرکے دونوں کو الگ کیا گیا۔
پیڈیاٹرک سرجن ڈاکٹر ظفر نذیر نے معائنے کے بعد سرجری کرنے کے لیے45 افراد پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جس میں بچوں کے سرجنز، دل کے امراض کے ماہرڈاکٹرز، بے ہوشی کے ماہرین، نرسز اور آپریٹنگ روم کا عملہ شامل تھا، گزشتہ روز ٹیم نے ڈاکٹر نذیر کی سربراہی میں 7گھنٹے طویل کامیاب آپریشن کرکے جڑی ہوئی بچیوں کو الگ کرنے کاکامیاب آپریشن کیا، والدہ عظمیٰ اور والد الیاس نے جڑی بچیوں کوکامیابی سے الگ کرنے پرخوشی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے الیاس کی اہلیہ نے2جڑواں بچیوں کوجنم دیا تھا جن کے جسم پسلیوں کے نچلے اورپیٹ کے اوپری حصے سے جڑے ہوئے تھے، دونوں کا جگر بھی ایک تھا جبکہ ایک بچی کے دل میں پیدائشی طور پر سوراخ ہے، جڑی ہوئی بچیوں کی پیدائش کے بعد والد الیاس نے کئی ڈاکٹروں سے رابطہ کیا تاہم کوئی ڈاکٹر آپریشن کے لیے رضامند نہ تھا، ساڑھے 3 ماہ گزرنے کے بعد وہ اپنی جڑی ہوئی بچیوں کو کراچی لائے اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال سے رابطہ کیا جہاں ان کا آپریشن کرکے دونوں کو الگ کیا گیا۔
پیڈیاٹرک سرجن ڈاکٹر ظفر نذیر نے معائنے کے بعد سرجری کرنے کے لیے45 افراد پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جس میں بچوں کے سرجنز، دل کے امراض کے ماہرڈاکٹرز، بے ہوشی کے ماہرین، نرسز اور آپریٹنگ روم کا عملہ شامل تھا، گزشتہ روز ٹیم نے ڈاکٹر نذیر کی سربراہی میں 7گھنٹے طویل کامیاب آپریشن کرکے جڑی ہوئی بچیوں کو الگ کرنے کاکامیاب آپریشن کیا، والدہ عظمیٰ اور والد الیاس نے جڑی بچیوں کوکامیابی سے الگ کرنے پرخوشی کا اظہار کیا ہے۔