یہ لڑائی ختم نہیں ہوئی

14 اگست کے بعد سے پاکستان میں جو سیاسی محاذ آرائی جاری ہے وہ ان ہی دو طاقتوں کے درمیان ہے

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

پاکستان کی 67 سالہ تاریخ چہروں کی تبدیلی کی تاریخ ہے یہ کوئی نئی یا انوکھی بات اس لیے نہیں کہ سرمایہ دارانہ جمہوریت چہروں کی تبدیلی ہی کا نام ہے، اس جمہوریت میں سیاسی محاذ آرائیاں عموماً حصول اقتدار اور حفاظت اقتدار ہی کے لیے ہوتی ہیں۔ کوئی سیاسی جماعت اس جمہوریت کے فریم ورک سے باہر نکل کر سیاست نہیں کرتی۔ اگر کوئی جماعت اس فریم سے باہر نکل کر سیاست کرتی ہے تو اسے فریم ورک کے اندر رہ کر کام کرنے والی جماعتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

14 اگست کے بعد سے پاکستان میں جو سیاسی محاذ آرائی جاری ہے وہ ان ہی دو طاقتوں کے درمیان ہے ایک طاقت مغربی جمہوریت کے فریم ورک کے اندر رہ کر سیاست کرنے والی ہے دوسری طاقت اس فریم ورک کو یعنی'' اسٹیٹس کو'' کو توڑنے پر مصر رہی ہے۔ جو جماعتیں مغربی جمہوریت کے فریم ورک کے اندر رہ کر سیاست کرتی ہیں وہ ذاتی اور جماعتی مفادات کے کولھو پر گھومتی ہیں ان کے درمیان حصول اقتدار کی کشمکش تو ہوتی ہے لیکن جہاں کسی طرف سے ان کے مشترکہ مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو وہ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہیں۔

14 اگست کے بعد ''اسٹیٹس کو ''کے ٹوٹنے کا جو خطرہ پیدا ہوگیا تھا اس نے ان طاقتوں کو اس قدر خوفزدہ کردیا تھا کہ وہ حکومت سے زیادہ حکومت بچانے میں آگے آگئے۔ ان طاقتوں کے ہاتھوں میں ہمیشہ ''جمہوریت بچانے'' کی تلوار ہوتی ہے جسے لہراتے ہوئے وہ دشمن پر اس جارحانہ انداز میں حملہ آور ہوتے ہیں کہ اگر فریق مخالف اعلیٰ منصوبہ بندی اور ایک موثر حکمت عملی اور ایک بڑے اتحاد کے ساتھ ان کا مقابلہ نہیں کرتا تو پھر ''اسٹیٹس کو'' کی حامی یہ طاقتیں فریق مخالف کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ اگرچہ اس جنگ میں بہ ظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ ''اسٹیٹس کو'' کی حامی طاقتیں اس جنگ میں کامیاب ہوگئی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کی اجتماعی طاقت اور خواہش کو نظر انداز کردیتی ہیں۔

ابھی تک جاری اس سیاسی محاذ آرائی میں یہی ہوا کہ اسٹیٹس کو کی حامی طاقتوں نے اسٹیٹس کو کی مخالف طاقتوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور اسٹیٹس کو کی مخالف طاقتوں کو پسپا ہونا پڑ رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ' اسٹیٹس کو' کو توڑنے کی خواہش مند طاقتوں نے اپنی لڑائی کا آغاز نہ کسی منظم منصوبہ بندی سے کیا نہ اس کے پاس کوئی موثر حکمت عملی تھی اور سب سے بڑی غلطی یا حماقت یہ کی گئی کہ اس جنگ کو خود ہی جیتنے کی کوشش کی گئی اور اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی کہ برسر اقتدار پارٹی کے ساتھ ریاستی طاقت، قانون انصاف کے علاوہ ان تمام گروہوں کی طاقت ہوتی ہے جو اسٹیٹس کو کے ثمرات میں حصہ دار ہوتی ہیں ۔دوسری بد قسمتی یہ رہی کہ دو 'اسٹیٹس کو' کی مخالف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور اعتماد کا فقدان رہا ان کمزوریوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی تاریخی حمایت ناکامی سے دو وچار ہوگئی، خواہ یہ ناکامی وقت ہی سہی لیکن حکومت اس وقت بالادست ہے۔

عمران خان کی مقبولیت کی وجہ عمران خان کی شخصیت نہیں کیوں کہ عمران خان اپنی اسی شخصیت کے ساتھ 16 سال سے سیاست کر رہا ہے لیکن 16 سالوں میں نہ عوام اس کی شخصیت سے متاثر ہوئے نہ اسے ایک سیٹ سے زیادہ کامیابی حاصل ہوسکی۔ 14 اگست کے بعد سے عمران خان کی اور قادری کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ 67 سال میں پہلی بار اس زور و شور سے ان دونوں رہنماؤں نے' اسٹیٹس کو' کے خلاف آواز اٹھائی کہ 67 سال سے سوئے ہوئے عوام جاگ اٹھے جو 67 سال ہی سے اس استحصالی ظالمانہ اسٹیٹس کے خلاف تھے جس نے انھیں دو وقت کی روٹی سے محتاج کردیا تھا لیکن المیہ یہ ہے کہ عمران خان اور قادری نے اتنی بری عوامی طاقت کو درست طریقے سے استعمال نہیں کیا اور بزعم خود سولو فلائٹ کے راستے پر چل پڑے، اسی غیر معمولی خود اعتمادی نے انھیں آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچا دیا کہ آج وہ حکومت سے مذاکرات کی درخواست کر رہے ہیں ۔


14 اگست کے بعد آہستہ آہستہ عمران اور قادری کی طاقت اس قدر مضبوط ہوگئی کہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ حکومت اب گئی کہ جب گئی ۔ حکمران طبقات کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور کچھ لوگ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کر رہے تھے ۔

عمران اور قادری نے ایک اور بہت بڑی غلطی یہ کی کہ وہ ''تیسری طاقت'' کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرنے لگے اور اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے کہ تیسری اور چوتھی تمام طاقتیں ریاست کی تابعدار ہوتی ہیں اور اس حد تک آگے نہیں آتیں کہ ان کی اداراتی اہمیت کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ حکومت نے برق تیزی سے اس خطرے کے مقابلے کے لیے 11 جماعتوں کو پارلیمنٹ میں لاکر بٹھا دیا اور 11جماعتیں تیسری قوت کے آگے دیوار بن کر حائل ہوگئیں ۔ یہ تو وہ حقائق ہیں جو 14 اگست کے بعد سامنے آتے رہے لیکن عمران خان کی پسپائی کی ایک بڑی اور اہم وجہ بہر حال ان کی حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی تھی کہ وہ یہ جنگ اکیلے ہی جیت لیںگے۔

عمران خان اور قادری کی پسپائی کے بعد اب حکومت وہی غلطی دہرا رہی ہے جس نے عمران کو نقصان پہنچایا یعنی ''حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی'' عمران اور قادری کے کمزور پڑنے کے بعد حکومت اور اس کے اتحادی یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اب یہ جنگ جیت چکے ہیں۔ 'اسٹیٹس کو' کی حامی یہ طاقتیں بد قسمتی سے یہ نہیں سمجھ پا رہی ہیں کہ عمران خان اور قادری کے دھرنوں اور جلسوں میں بصورت سیلاب شریک ہونے والے لاکھوں لوگ عمران خان یا قادری کی شخصیتوں سے متاثر ہوکر سڑکوں پر نہیں آئے تھے بلکہ وہ اس امید پر گھروں سے باہر آئے تھے کہ عمران اور قادری انھیں اس ظلم و جبر کے نظام سے نجات دلائیں گے جو 67 سالوں سے ان کے سروں پر مسلط ہے۔ کیا ان کی یہ خواہش پوری ہوگئی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ اب یہ خواہش دو آتش بن گئی ہے جسے وقتی پسپائی ختم نہیں کرسکتی یہ روٹی کی آگ ہے جس کے شعلے اس وقت تک نظر نہیں آتے جب تک وہ پھیل کر شعلہ جوالہ نہیں بن جاتی یہ آگ ختم نہیں ہوتی ۔

اندر ہی اندر سلگنے والی یہ آگ کب اور کس طرح شعلہ جوالہ بنے گی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ البتہ یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ دیر سویر یہ آگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اپنے منطقی مقام پر نہیں پہنچے گی ۔ اس وقتی پسپائی نے 'اسٹیٹس کو' کی حامی اور مخالف قوتوں کو اس قدر خوش فہمی کا شکار کردیا ہے کہ وہ عمران اور قادری سے آگے دیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں، وہ اس غلطی فہمی میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے میدان مارلیا ہے اب وہ عمران سے جو چاہے منواسکتے ہیں۔ 'اسٹیٹس کو' کی حامی طاقتوں کی یہ امید صرف اس وقت پوری ہوسکتی ہے جب عمران اپنے اعلان کردہ مقصد سے ہٹ کر 'اسٹیٹس کو 'کی حامی قوتوں سے مک مکا کرلے گا۔ لیکن عمران خان کو اندازہ ہے کہ اگر وہ اپنے موقف سے ہٹے گا تو وہ ہمیشہ کے لیے عوام کی نظروں سے گرجائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اب عمران دفاعی پوزیشن میں ہے اور ناکامی کا خطرہ اس کے سر پر منڈلارہا ہے، حکومت کے سر پر جب شکست کا خطرہ منڈلارہا تھا تو اس نے بڑی عقلمندی سے اس کا مقابلہ 11 جماعتوں کے اتحاد سے کیا جب کہ عوام اس کے ساتھ نہ تھے اگر عمران کو اس پسپائی سے نکلنا ہے تو اسے بھی اسٹیٹس کو کی مخالف زیادہ سے زیادہ طاقتوں کو اپنے ساتھ ملانا ہوگا اگر ایسا ہوا تو عمران کی کامیابی اس لیے یقینی ہے کہ عوام پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ اس کی پشت پر کھڑے ہوںگے یہ لڑائی ختم نہیں ہوئی نہ اس وقت تک ختم ہوگی جب تک' اسٹیٹس کو' کا خاتمہ نہیں ہوجائے گا ۔
Load Next Story