نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
سب سے بڑی دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہم ’’اپنی بربادی‘‘ کے لیے کسی کو بھی ذمے دار ٹھہرا نہیں سکتے
barq@email.com
KARACHI:
کیا بتائیں ایک تو ہم پہلے ہی امیر مینائی ہوکر فریاد کناں تھے کہ
کرے فریاد امیر بے زباں اے داد رس کس کی
کہ ہر دم کھینچ کر خنجر نئے سفاک آتے ہیں
یعنی دنیا جہاں کی بلائیں جب بھی نزول کرتی تھیں تو زمین پر لینڈ کرتے ہی انوری کا ایڈریس پوچھنا شروع کر دیتی تھیں کہ اوپر سے ہم نے خود بھی کوئی درجن بھر کلہاڑیاں سیدھی کھڑی کر کے اپنے پیر پر مارنا شروع کردیں، یوں سمجھئے کہ اپنے بچپن اور جوانی کی بوالعجبیوں اور بڑھاپے کی حماقتوں میں ہم اپنا تن اتنا ''داغ داغ'' کر چکے کہ ''پنبہ کجا کجا نہم'' والی بات ہو گئی ( یعنی میں روئی کہاں کہاں لگاؤں) اگر ہم چاہیں تو منی بیگم کی آواز میں یوں بھی رو سکتے ہیں کہ
عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں
کس قدرچوٹ کھائے ہوئے ہیں
سب سے بڑی دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہم ''اپنی بربادی'' کے لیے کسی کو بھی ذمے دار ٹھہرا نہیں سکتے کیوں کہ ... از ماست کہ برماست ... جو کچھ بھی کیا ہے ہم نے خود ہی اپنے ساتھ کیا ہے اگر کہیں کہیں کسی اور کا ہاتھ ہے بھی تو اسے بھی ہم نے خود ہی مدعو کیا ہے، اب دیکھئے کہ اگر ہمیں ''پختونیت'' کے دائرے سے نکال باہر کیا گیا ہے تو اس میں بھی سارا دوش ہمارا ہی ہے کیوں کہ ہم دائرے کے آخری کگار(کنارا) پر کھڑے بلکہ لٹکے ہوئے تھے حالاں کہ اصل نسل، حسب نسب اور تاریخ جغرافیہ ہر لحاظ سے ہم پختون ہی تھے لیکن ''پی آر'' نہ ہونے کی وجہ سے پھسلتے پھسلتے باہری کنارے پر کھڑے ہو گئے تھے اوپر سے ہم نے انتہائی ''سٹوپڈانہ'' طریقے پر ان لوگوں سے پنگا لے لیا جو پختون ولی اور پختونیت کی سندات ایشو کرتے ہیں سو آج کل ہماری حالت کچھ ویسی ہی ہے
اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر
خیر ہم پھر بھی ... ''غالب ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے'' سوچا تھا چلو جب اتنا عرصہ بغیر دم چھلے کے کاٹ لیا ہے تو باقی بھی جیسی تیسی یا ایسی ویسی کٹ جائے گی پکے وٹے پختون نہ سہی کچھ ماڑے مٹھے پختون تو ہیں یا ''واں کے نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں'' لیکن بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاء ... اس دن ایک صاحب سے سنا کہ آسمان سے توگرے تھے لیکن کھجور سے بھی گرا دیے گئے اور اس کے ذمے دار بھی ہم خود ہی ہیں، ہوا یوں کہ پشتو رسم الخط کے ایک بہت پرانے اور پشتہا پشت سے چلنے والے جھگڑے میں ہم نے بھی ٹانگ اڑائی جو سیدھی جا کر ایک بڑے سے کلہاڑے پر پڑی، پشتو رسم الخط کے بارے میں بتائیں کہ ہند یورپی زبان ہونے کے ناطے اس کا اپنا فطری رسم الخط تو دیونا گری تھا یعنی ہندی اور سنسکرت کے حروف تہجی میں بائیں سے دائیں لکھی جاتی تھیں لیکن پھر کسی کو خیال آیا کہ جب قوم ہی مسلمان ہو گئی ہے تو رسم الخط کو بھی مشرف بہ اسلام کیا جائے، حالاں کہ مسلمان ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ اس کی زبان بھی عربی ہی ہو لیکن ثواب کمانے والوں نے ''چھیالیس آوازوں'' کو عربی کے ''اٹھائیس'' حروف میں سمیٹنے کی کوشش کی جو بظاہر ہے کہ کبھی کامیاب نہیں ہوئی اور آج تک تنازعات اٹھتے چلے جارہے ہیں ۔
اس کا سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوا کہ محمود غزنوی کے دور سے پہلے کا سارا لٹریچر ''کفری'' سمجھ کر ضایع کر دیا گیا چنانچہ پانچ ہزار سالہ پرانی زبان کا لٹریچر ہزار آٹھ سو سال پہلے کا کہیں بھی موجود نہیں ہے، رسم الخط کے سلسلے میں سندھی والوں نے تو اپنا مسئلہ یوں حل کر دیا کہ تقریباً (65) حروف تہجی بنا کر کام چلانا شروع کر دیا لیکن پشتو کے ساتھ حروف کے علاوہ یہ المیہ بھی رہا کہ اسے ''خط نسخ'' میں لکھا جارہا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ افغانستان والے اپنی ہانک رہے ہیں اور پختون خوا والے اپنی بجا رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پشتو لکھت پڑھت مسلسل روبہ زوال ہے اوپر سے مروجہ ذریعہ تعلیم خط نستعلیق ہے جس میں ہمارے عام اخبارات اور کتابیں لکھی جاتی ہیں ۔
چنانچہ پختون بچہ اسکول میں ''نستعلیق'' پڑھ کر پشتو پڑھنا چاہتا ہے تو خط نسخ پڑھنے میں سخت دشواری محسوس کرتا ہے، اس سلسلے میں افغانستان اور پختون خوا کے علماء کئی مرتبہ بیٹھے اور کچھ فیصلے کیے اس سلسلے کا تازہ ترین ایڈیشن باڑہ گلی کے مقام پر وضع ہوا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ''حروف'' کے سلسلے میں اچھی خاصی پیش رفت ہوئی ہے لیکن اصل پرنالہ جو املا کا ہے وہ اب بھی وہیں ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ افغانستان میں فارسی یا دری زبان بھی زیادہ تر ''نستعلیق'' میں لکھی جاتی ہے اور یہاں پاکستان میں اردو کی املا نستعلیق ہے لیکن پشتو اب بھی خط نسخ میں لکھی جاتی ہے چناں چہ افغانستان اور پاکستان دونوں کا پشتون بچہ اس سے نابلد ہے کیوں کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ عام مروجہ تعلیم نستعلیق میں ہے یعنی ٹائپ وغیرہ کی چند مطبوعات کو چھوڑ کر یہاں وہاں سب کچھ نستعلیق میں ہی ہے۔
اس جھگڑے میں اور پشتون تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سہولت کے لیے ہم نے تجویز پیش کی کہ اگر پشتو کو ''نستعلیق'' میں کر دیا جائے تو بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے ہمارے اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے اور معاشرے میں زیادہ تر لٹریچر میں ''نستعلیق'' کے رواج سے وہ خط نسخ کی زحمت سے بچ جائیں اور پشتو کو بھی ویسے ہی پڑھ سکیں گے جس طرح عام مروجہ اخبارات و رسائل پڑھتے ہیں اور یہی وہ کلہاڑی تھی جس پر ہم نے اپنے دونوں پاؤں بڑے زور سے مار دیے، لیکن جوش اور نشہ اتنا تھا کہ ہمیں خود پتہ ہی نہیں چلا کہ ہم اپنے پیروں کو لہولہان کر رہے ہیں وہ تو خدا بھلا کرے اپنے ایک سچے فین کا جس نے ہمیں بصیغہ راز بتایا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو
سن تو سہی جہاں میں تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا
پشتو کے خط نسخ کے بجائے نستعلیق میں کرنے کی جو بات تم محض ''بات'' سمجھ کر کر رہے ہو وہ صرف بات نہیں بلکہ لات ہے جو تم خود کو مار رہے ہو اور خود اپنے آپ کو ہی کو لاتیں مار مار کر پختونیت کے آخری کگار سے بھی خود کو گرا رہے ہو کیوں کہ مستند خاندانی رجسٹرڈ اور بڑے بڑے قد آور ''اتھارٹیوں'' نے تمہارے خلاف فتویٰ جاری کر دیا ہے کہ یہ شخص پختون تو پہلے بھی نہیں تھا کیوں کہ اردو میں لکھتا ہے اور ایسی اردو لکھتا ہے کہ کوئی پختون ایسی اردو لکھ ہی نہیں سکتا، لیکن اب تو یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ پختون دشمن بھی ہے بات کو مزید پکا کرنے کے لیے کہا جارہا ہے کہسرے بڑے شہر میں پختون دشمن عناصر کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں اور ان ہی سے پیسے لے کر یہ پختو کو اردو رسم الخط میں لکھنے کی بات کر رہا ہے ہمارے کریدنے پر اس نے مزید بتایا کہ پنجاب میں تمہارے آنے جانے اور شہباز شریف وغیرہ سے ناجائز ''سمبندھوں'' کی بات بھی ہو رہی ہے۔
ظاہر ہے کہ ہمارے ہاتھوں کے طوطے بیٹر کوے چیلیں تو پھرپھر کر کے اڑ گئے، اسے بہت سمجھایا لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ ایسے داغ کسی بھی ڈیٹرجنٹ سے نہیں دھلتے اور یہ بات مسلسل پھسلتی جارہی ہے کہ ہم اردو والوں سے مل کر اور پنجابیوں سے وصولی کر کر کے ننگ دیں ننگ ملت ننگ وطن بنے ہوئے ہیں، حالاں کہ رسم الخط دونوں یعنی نستعلیق اور نسخ نہ اردو کے ہیں نہ پنجابی کے اور نہ کسی اور زبان کے بل کہ یہ دونوں ہی ''عربی رسم الخط'' ہیں دونوں میں نہ تو کفر کا کوئی شائبہ ہے اور نہ ہی کسی غداری کا احتمال ...البتہ اگر نستعلیق یعنی مروجہ املا اختیار کی گئی تو پشتو تحریریں پڑھنے والوں کا دائرہ وسیع ہو جائے گا جو ''خط نسخ'' کی جناتی املا کی وجہ سے بہت ہی تنگ ہے اور روز بروز مزید تنگ ہوتا جارہا ہے۔
ایک شاعر ایک ادیب ایک اہل قلم لکھتا اس لیے ہے کہ کوئی پڑھے، بلکہ زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھیں ایسا کوئی تاجر کوئی دکاندار اور کوئی صنعت کار ہو ہی نہیں سکتا جو اپنی تخلیقات کو چھپا چھپا کر رکھے، سیلز مینی اور دکانداری کا اصول ہے کہ بیچنے والوں کو خریدار کی زبان سیکھنا پڑتی ہے خریدار کو کیا پڑی ہے کہ وہ دکاندار کی زبان سیکھے، اس کے لیے تو اتنی تکلیف اٹھانے سے یہی زیادہ بہتر ہو گا کہ آگے بڑھ کر کسی ایسے دکاندار کے پاس چلا جائے جو اس کی زبان بول رہا ہو صرف اپنی ہانکنے والا دکاندار بیٹھا رہ جائے سارا مال سڑ جائے گا اور خریدار آگے بڑھ جائے گا، لیکن اس جرم میں ہمارا حشر آدم اور غالب سے بھی برا ہو گیا ہے، کم از کم غداری کا الزام تو ان پر نہیں لگا تھا صرف بے آبرو ہو کر نکلے تھے۔
کیا بتائیں ایک تو ہم پہلے ہی امیر مینائی ہوکر فریاد کناں تھے کہ
کرے فریاد امیر بے زباں اے داد رس کس کی
کہ ہر دم کھینچ کر خنجر نئے سفاک آتے ہیں
یعنی دنیا جہاں کی بلائیں جب بھی نزول کرتی تھیں تو زمین پر لینڈ کرتے ہی انوری کا ایڈریس پوچھنا شروع کر دیتی تھیں کہ اوپر سے ہم نے خود بھی کوئی درجن بھر کلہاڑیاں سیدھی کھڑی کر کے اپنے پیر پر مارنا شروع کردیں، یوں سمجھئے کہ اپنے بچپن اور جوانی کی بوالعجبیوں اور بڑھاپے کی حماقتوں میں ہم اپنا تن اتنا ''داغ داغ'' کر چکے کہ ''پنبہ کجا کجا نہم'' والی بات ہو گئی ( یعنی میں روئی کہاں کہاں لگاؤں) اگر ہم چاہیں تو منی بیگم کی آواز میں یوں بھی رو سکتے ہیں کہ
عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں
کس قدرچوٹ کھائے ہوئے ہیں
سب سے بڑی دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہم ''اپنی بربادی'' کے لیے کسی کو بھی ذمے دار ٹھہرا نہیں سکتے کیوں کہ ... از ماست کہ برماست ... جو کچھ بھی کیا ہے ہم نے خود ہی اپنے ساتھ کیا ہے اگر کہیں کہیں کسی اور کا ہاتھ ہے بھی تو اسے بھی ہم نے خود ہی مدعو کیا ہے، اب دیکھئے کہ اگر ہمیں ''پختونیت'' کے دائرے سے نکال باہر کیا گیا ہے تو اس میں بھی سارا دوش ہمارا ہی ہے کیوں کہ ہم دائرے کے آخری کگار(کنارا) پر کھڑے بلکہ لٹکے ہوئے تھے حالاں کہ اصل نسل، حسب نسب اور تاریخ جغرافیہ ہر لحاظ سے ہم پختون ہی تھے لیکن ''پی آر'' نہ ہونے کی وجہ سے پھسلتے پھسلتے باہری کنارے پر کھڑے ہو گئے تھے اوپر سے ہم نے انتہائی ''سٹوپڈانہ'' طریقے پر ان لوگوں سے پنگا لے لیا جو پختون ولی اور پختونیت کی سندات ایشو کرتے ہیں سو آج کل ہماری حالت کچھ ویسی ہی ہے
اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر
خیر ہم پھر بھی ... ''غالب ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے'' سوچا تھا چلو جب اتنا عرصہ بغیر دم چھلے کے کاٹ لیا ہے تو باقی بھی جیسی تیسی یا ایسی ویسی کٹ جائے گی پکے وٹے پختون نہ سہی کچھ ماڑے مٹھے پختون تو ہیں یا ''واں کے نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں'' لیکن بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاء ... اس دن ایک صاحب سے سنا کہ آسمان سے توگرے تھے لیکن کھجور سے بھی گرا دیے گئے اور اس کے ذمے دار بھی ہم خود ہی ہیں، ہوا یوں کہ پشتو رسم الخط کے ایک بہت پرانے اور پشتہا پشت سے چلنے والے جھگڑے میں ہم نے بھی ٹانگ اڑائی جو سیدھی جا کر ایک بڑے سے کلہاڑے پر پڑی، پشتو رسم الخط کے بارے میں بتائیں کہ ہند یورپی زبان ہونے کے ناطے اس کا اپنا فطری رسم الخط تو دیونا گری تھا یعنی ہندی اور سنسکرت کے حروف تہجی میں بائیں سے دائیں لکھی جاتی تھیں لیکن پھر کسی کو خیال آیا کہ جب قوم ہی مسلمان ہو گئی ہے تو رسم الخط کو بھی مشرف بہ اسلام کیا جائے، حالاں کہ مسلمان ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ اس کی زبان بھی عربی ہی ہو لیکن ثواب کمانے والوں نے ''چھیالیس آوازوں'' کو عربی کے ''اٹھائیس'' حروف میں سمیٹنے کی کوشش کی جو بظاہر ہے کہ کبھی کامیاب نہیں ہوئی اور آج تک تنازعات اٹھتے چلے جارہے ہیں ۔
اس کا سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوا کہ محمود غزنوی کے دور سے پہلے کا سارا لٹریچر ''کفری'' سمجھ کر ضایع کر دیا گیا چنانچہ پانچ ہزار سالہ پرانی زبان کا لٹریچر ہزار آٹھ سو سال پہلے کا کہیں بھی موجود نہیں ہے، رسم الخط کے سلسلے میں سندھی والوں نے تو اپنا مسئلہ یوں حل کر دیا کہ تقریباً (65) حروف تہجی بنا کر کام چلانا شروع کر دیا لیکن پشتو کے ساتھ حروف کے علاوہ یہ المیہ بھی رہا کہ اسے ''خط نسخ'' میں لکھا جارہا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ افغانستان والے اپنی ہانک رہے ہیں اور پختون خوا والے اپنی بجا رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پشتو لکھت پڑھت مسلسل روبہ زوال ہے اوپر سے مروجہ ذریعہ تعلیم خط نستعلیق ہے جس میں ہمارے عام اخبارات اور کتابیں لکھی جاتی ہیں ۔
چنانچہ پختون بچہ اسکول میں ''نستعلیق'' پڑھ کر پشتو پڑھنا چاہتا ہے تو خط نسخ پڑھنے میں سخت دشواری محسوس کرتا ہے، اس سلسلے میں افغانستان اور پختون خوا کے علماء کئی مرتبہ بیٹھے اور کچھ فیصلے کیے اس سلسلے کا تازہ ترین ایڈیشن باڑہ گلی کے مقام پر وضع ہوا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ''حروف'' کے سلسلے میں اچھی خاصی پیش رفت ہوئی ہے لیکن اصل پرنالہ جو املا کا ہے وہ اب بھی وہیں ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ افغانستان میں فارسی یا دری زبان بھی زیادہ تر ''نستعلیق'' میں لکھی جاتی ہے اور یہاں پاکستان میں اردو کی املا نستعلیق ہے لیکن پشتو اب بھی خط نسخ میں لکھی جاتی ہے چناں چہ افغانستان اور پاکستان دونوں کا پشتون بچہ اس سے نابلد ہے کیوں کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ عام مروجہ تعلیم نستعلیق میں ہے یعنی ٹائپ وغیرہ کی چند مطبوعات کو چھوڑ کر یہاں وہاں سب کچھ نستعلیق میں ہی ہے۔
اس جھگڑے میں اور پشتون تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سہولت کے لیے ہم نے تجویز پیش کی کہ اگر پشتو کو ''نستعلیق'' میں کر دیا جائے تو بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے ہمارے اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے اور معاشرے میں زیادہ تر لٹریچر میں ''نستعلیق'' کے رواج سے وہ خط نسخ کی زحمت سے بچ جائیں اور پشتو کو بھی ویسے ہی پڑھ سکیں گے جس طرح عام مروجہ اخبارات و رسائل پڑھتے ہیں اور یہی وہ کلہاڑی تھی جس پر ہم نے اپنے دونوں پاؤں بڑے زور سے مار دیے، لیکن جوش اور نشہ اتنا تھا کہ ہمیں خود پتہ ہی نہیں چلا کہ ہم اپنے پیروں کو لہولہان کر رہے ہیں وہ تو خدا بھلا کرے اپنے ایک سچے فین کا جس نے ہمیں بصیغہ راز بتایا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو
سن تو سہی جہاں میں تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا
پشتو کے خط نسخ کے بجائے نستعلیق میں کرنے کی جو بات تم محض ''بات'' سمجھ کر کر رہے ہو وہ صرف بات نہیں بلکہ لات ہے جو تم خود کو مار رہے ہو اور خود اپنے آپ کو ہی کو لاتیں مار مار کر پختونیت کے آخری کگار سے بھی خود کو گرا رہے ہو کیوں کہ مستند خاندانی رجسٹرڈ اور بڑے بڑے قد آور ''اتھارٹیوں'' نے تمہارے خلاف فتویٰ جاری کر دیا ہے کہ یہ شخص پختون تو پہلے بھی نہیں تھا کیوں کہ اردو میں لکھتا ہے اور ایسی اردو لکھتا ہے کہ کوئی پختون ایسی اردو لکھ ہی نہیں سکتا، لیکن اب تو یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ پختون دشمن بھی ہے بات کو مزید پکا کرنے کے لیے کہا جارہا ہے کہسرے بڑے شہر میں پختون دشمن عناصر کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں اور ان ہی سے پیسے لے کر یہ پختو کو اردو رسم الخط میں لکھنے کی بات کر رہا ہے ہمارے کریدنے پر اس نے مزید بتایا کہ پنجاب میں تمہارے آنے جانے اور شہباز شریف وغیرہ سے ناجائز ''سمبندھوں'' کی بات بھی ہو رہی ہے۔
ظاہر ہے کہ ہمارے ہاتھوں کے طوطے بیٹر کوے چیلیں تو پھرپھر کر کے اڑ گئے، اسے بہت سمجھایا لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ ایسے داغ کسی بھی ڈیٹرجنٹ سے نہیں دھلتے اور یہ بات مسلسل پھسلتی جارہی ہے کہ ہم اردو والوں سے مل کر اور پنجابیوں سے وصولی کر کر کے ننگ دیں ننگ ملت ننگ وطن بنے ہوئے ہیں، حالاں کہ رسم الخط دونوں یعنی نستعلیق اور نسخ نہ اردو کے ہیں نہ پنجابی کے اور نہ کسی اور زبان کے بل کہ یہ دونوں ہی ''عربی رسم الخط'' ہیں دونوں میں نہ تو کفر کا کوئی شائبہ ہے اور نہ ہی کسی غداری کا احتمال ...البتہ اگر نستعلیق یعنی مروجہ املا اختیار کی گئی تو پشتو تحریریں پڑھنے والوں کا دائرہ وسیع ہو جائے گا جو ''خط نسخ'' کی جناتی املا کی وجہ سے بہت ہی تنگ ہے اور روز بروز مزید تنگ ہوتا جارہا ہے۔
ایک شاعر ایک ادیب ایک اہل قلم لکھتا اس لیے ہے کہ کوئی پڑھے، بلکہ زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھیں ایسا کوئی تاجر کوئی دکاندار اور کوئی صنعت کار ہو ہی نہیں سکتا جو اپنی تخلیقات کو چھپا چھپا کر رکھے، سیلز مینی اور دکانداری کا اصول ہے کہ بیچنے والوں کو خریدار کی زبان سیکھنا پڑتی ہے خریدار کو کیا پڑی ہے کہ وہ دکاندار کی زبان سیکھے، اس کے لیے تو اتنی تکلیف اٹھانے سے یہی زیادہ بہتر ہو گا کہ آگے بڑھ کر کسی ایسے دکاندار کے پاس چلا جائے جو اس کی زبان بول رہا ہو صرف اپنی ہانکنے والا دکاندار بیٹھا رہ جائے سارا مال سڑ جائے گا اور خریدار آگے بڑھ جائے گا، لیکن اس جرم میں ہمارا حشر آدم اور غالب سے بھی برا ہو گیا ہے، کم از کم غداری کا الزام تو ان پر نہیں لگا تھا صرف بے آبرو ہو کر نکلے تھے۔