مہم ’’آؤ پڑھاؤ‘‘ کا نغمہ ’’نوبل پرائز‘‘ کی تقریب میں پیش کیا جائے گا

’’ایکسپریس میڈیا گروپ‘‘ کا پیغام 11 دسمبر کو دنیا بھر تک پہنچے گا، راحت فتح علی خاں کا خصوصی انٹرویو

’’ایکسپریس میڈیا گروپ‘‘ کا پیغام 11 دسمبر کو دنیا بھر تک پہنچے گا، راحت فتح علی خاں کا خصوصی انٹرویو۔ فوٹو : ایکسپریس

' ' ایکسپریس میڈیا گروپ '' نے زندگی کے مختلف شعبوں کی طرح اس مرتبہ بھی ایک ایسے اہم شعبے کی بہتری کیلئے مہم چلائی ہے جس کے ذریعے ناصرف معاشرے میں سدھار آئے گا بلکہ ہماری نوجوان نسل مُلک کوترقی کی نئی راہ پرگامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے لگے گی۔

سب جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں بچے اورنوجوانوں کی بڑی تعداد بہترسہولیات نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے اور جو نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیتے ہیں ان کی اولین ترجیحات میں انجینئر، پائلٹ اور ڈاکٹربننا شامل ہوتا ہے۔

بلاشبہ ان شعبوں میں بھی قابل نوجوانوں کی اشدضرورت ہوتی ہے لیکن ان شعبوں میں مختلف '' پرکشش '' مراعات کی وجہ سے اب کوئی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ' استاد ' بننے کو ترجیح نہیں دیتا ، بلکہ جونوجوان سکول ٹیچر بنتا ہے، اسے نالائق ہی تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 'ایکسپریس میڈیا گروپ ' نے ملک بھرمیں 'آؤ پڑھاؤ' مہم کا آغازکیا ہے اوراس کا مقصد پڑھے لکھے نوجوانوں کوتعلیم کے شعبے میں لانا ہے۔

اس مہم کے لئے گزشتہ کچھ عرصہ سے کام جاری تھا اوراس مہم کو ملک بھر میں چلانے کیلئے 'ایکسپریس میڈیا گروپ' کی ٹیم نے بہت تیاری کی ہے۔ اس کا پروموشنل نغمہ پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خاں کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ اس کا ویڈیوبھی بنایا گیا ہے جو ''ایکسپریس نیوز'' اور''ایکسپریس انٹرٹینمنٹ''سے آن ائیر کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب سوشل ویب سائٹس پربھی اس گیت کو سننے اور دیکھنے والوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔



ایک محتاط اندازے کے مطابق 'آؤ پڑھاؤ' کے خصوصی نغمے '' حرف جڑے حرف سے بن جائے الفاظ، الف سے کرنا ہوگا پڑھنے کا آغاز، بند کتابیں کھول دوگُرکی باتیں بول دو،آؤ پڑھاؤ'' کو سننے اوردیکھنے والوں کی تعداد صرف ایک ہفتہ میں لاکھوں میں پہنچ جائے گی۔ اس کے علاوہ راحت فتح علی خاں اس گیت کو دنیا کے سب سے معتبرایوارڈ '' نوبل پرائز'' کی تقریب میں بھی پیش کیا جس کا انعقاد ناروے کے شہراوسلومیں گزشتہ روز ہوا۔ اس گیت کو صابر ظفر نے لکھا ہے جبکہ اس کی دھن راحت فتح علی خاں نے ترتیب دینے کے ساتھ اس گیت کو ریکارڈ بھی کیا ہے۔ ' 'نوبل پرائز'' کی تقریب میں پہلی بار پرفارم کرنے اور ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کی جانب سے استاد کے مقام اور تعلیم کیلئے شروع ہونے والی مہم کے حوالے سے راحت فتح علی خاں نے ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو دیا ہے جو قارئین کی نذر ہے۔

راحت فتح علی خاں نے کہا کہ جب مقصد نیک ہو تو اس کے نتائج بھی مثبت ہی ملتے ہیں۔ ' ایکسپریس میڈیا گروپ ' نے استاد کے مقام سے آگاہی کی مہم 'آؤ پڑھاؤ' کا آغاز کرنا تھا تو اس کیلئے مجھے ایک گیت ریکارڈ کرنے کی پیشکش کی گئی۔ میں نے اس گیت کی شاعری پڑھی اور اس کے مقصد کو سمجھتے ہوئے ایک ایسا گیت ریکارڈ کیا جس کو سن کر میں خود اطمینان محسوس کررہا ہوں، یہ وہ پراجیکٹ ہے جس پر 'ایکسپریس میڈیا گروپ ' کے علاوہ کسی دوسرے چینل یا ادارے نے کبھی کوئی کام نہیں کیا حالانکہ دن بھر نیوز چینلز اور اخبارات میں زندگی کے مختلف شعبوں کے مسائل کے حوالے سے خصوصی پروگرام ، تبصرے اور رپورٹس سامنے آتی ہیں لیکن نوجوان نسل میں ' استاد ' نہ بننے کے رجحان بارے کسی نے کوئی رپورٹ پیش نہ کی۔


ہمارے ہاں تعلیم پر تو تھوڑی بہت توجہ دی جاتی ہے لیکن اس ' استاد ' کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے جس نے علم کی روشنی سے معاشرے کو روشن کرنا اور اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا معیار بہتر ہونے کی بجائے مسلسل پستی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ خواتین کی بڑی تعداد تعلیم کے زیور سے محروم ہے اور جب تک ایک عورت تعلیم یافتہ نہیں ہوگی اس وقت تک وہ اپنی اولاد کی بہترین پرورش نہیں کرپائے گی۔ یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنا علم دوسروں کو منتقل کرنے کیلئے اس پروفیشن میں نہیں آئیں گے۔

انگلش میڈیم سکولوں کے اساتذہ کوبھی اب اپنی ذمہ داری کوسمجھنا ہوگا اوراپنا علم صرف اعلیٰ سکولوں تک محدود رکھنے کی بجائے گاؤں، دیہاتوں میں موجود سکولوں کے طالبعلموں تک پہنچانا ہوگا۔ تب ہی ہماری نوجوان نسل بہتراندازسے زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی کرسکے گی۔

راحت نے بتایا کہ میں نے پاکستان میں 'ایکسپریس میڈیاگروپ' کے ساتھ بہت کام کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں میرے میوزک البم کی تشہیری مہم جس طرح سے چلائی اور ایک نئے انداز کے میوزک کو لوگوں تک پہنچایا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ 'ایکسپریس میڈیا گروپ' کی ٹیم ایسے قابل لوگوں پر مشتمل ہے جو تخلیقی صلاحیتوں اور وطن عزیز کی ترقی کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ ''ایکسپرریس میڈیا گروپ' ' پاکستان کا واحد ادارہ ہے جوصرف اچھے مقاصد کیلئے کام کررہا ہے۔



یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' نے اپنے بہت ہی اہم پراجیکٹ میں مجھے حصہ بننے کا موقع فراہم کیا اوراس کی بدولت مجھے زندگی میں پہلی مرتبہ ''نوبل پرائز'' کی تقریب میں پرفارم کرنے کا موقع مل رہا ہے اوراس خوشی کولفظوں میں بیان نہیںکر سکتا۔ یہ اعزاز 'ایکسپریس میڈیا گروپ' اورمیرا ہی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کا ہے۔ اس تقریب کو پوری دنیا بھرمیں اندازاً 900 ملین لوگ دیکھیں گے۔ اُس دن ' ایکسپریس میڈیا گروپ ' کا پیغام پاکستان کی نمائندگی کرتا پوری دنیا تک پہنچ جائے گا۔ 'ایکسپریس میڈیا گروپ ' بارش کا پہلا قطرہ بنا ہے اوراب آئندہ اس طرح کے دیگر پراجیکٹس میں بھی میں اس ادارے کے ساتھ رہوں گا۔

ایک سوال کے جواب میں راحت فتح علی خاں نے کہا کہ ایک گلوکار تویہی خواب دیکھتا ہے کہ اس کا گایا گیت پوری دنیا میں شہرت کی بلندیوں کوچھولے۔ اس لئے ہرکوئی اپنے گیت کوبہترانداز سے تیارکرتا ہے ، میں نے بھی ایک نیک مقصد کیلئے گیت تیار کیا تھا۔ میری کوشش تھی کہ ایک ایسا گیت تیارکروں جس کے ذریعے پوری دنیا بھرمیں ایک مثبت پیغام پہنچ سکے۔ اس سلسلہ میں، ایکسپریس میڈیا گروپ کا شکرگزارہوں کہ انہوں نے میری دیرینہ خواہش کوپورا کرنے اوراپنے خوابوںکو حقیقت کا رنگ دینے کا موقع دیا۔ اس کے علاوہ مجھے امید ہے کہ اس مہم کے ذریعے پاکستان میں اساتذہ کوان کا مقام ملے گا اوروہ نوجوان نسل کوتعلیم کے زیورسے مالامال کرنے میں اپنا کردار بڑی ذمہ داری سے ادا کریں گے۔

انٹرویو کے آخرمیں راحت فتح علی خاں نے کہا کہ میں میوزک کی تعلیم کیلئے ایک اکیڈمی بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ہمارے ہاں بہت سے نوجوان میوزک کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں یا پھر بہتراساتذہ تک رسائی نہ ہونے کے باعث وہ میوزک کی تعلیم کے بغیر ہی اس شعبے میں آجاتے ہیں اورپھر انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ اس کیلئے میں نے باقاعدہ کاغذی کارروائی شروع کردی ہے اورہم جلد ہی اس اہم منصوبے پرکام شروع کریں گے۔
Load Next Story