کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل کا ضبط کیا جانے والا کارگو چھوڑنے کا حکم
ایم سی سی حیدرآباد نے ٹرک سے پکڑا، اشیا چینی بتائیں، نکلیں فرنچ، غیر قانونی درآمد کا الزام
3 افراد کیخلاف مقدمہ، فیصلہ غیر متعلقہ پارٹی کے حق میں آگیا، کسٹمز ایکٹ کا مذاق اڑایا گیا، ذرائع فوٹو: فائل
لاہور:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے نئے ریکارڈ قائم ہورہے ہیں اور اس ادارے کے حوالے سے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے 500 ارب روپے کی سالانہ کرپشن کا دعویٰ درست ثابت ہو رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل کے ممبرٹیکنکل خالد محمود کی جانب سے ستار الیکٹرونکس کی حمایت میں مبینہ طور پر غلط فیصلہ دیے جانے اور ضبط کیا جانے والا اسمگل شدہ سامان کلیئر کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ پریونٹیو حیدرآباد کے شعبہ اینٹی اسمگلنگ اسکواڈ کی جانب سے کراچی سے نوشہرو جانے والے ٹرک نمبر TLD-039 کی جانچ پڑتال پرانکشاف ہوا تھا کہ اس ٹرک میں فرانس کے تیار کردہ الیکٹرونکس آئٹمز بشمول ویکیوم کلینر، فوڈ پروسیسر، سینڈوچ ٹوسٹر، اوون، ہاٹ پاٹ پلیٹ موجود تھے جبکہ ٹرک ڈرائیورکی جانب سے محکمہ کسٹمز کو دی جانے والی گڈزڈیکلریشن میں چین سے درآمد کیے جانے والے الیکٹرونکس مصنوعات کی تفصیلات درج کی گئی تھیں۔
حیدرآباد کلکٹریٹ کی جانب سے مذکورہ اسمگل شدہ سامان ضبط کرتے ہوئے فضل حق، زینب والا اور اسد خان کے خلاف اسمگلنگ کا مقدمہ درج کردیا اور بعدازاں کلکٹریٹ آف کسٹمز ایڈجیوڈیکشن کوئٹہ کی جانب سے ''آڈران اوریجنل'' (اواین او) نمبر 215 جاری کر دیا گیا جس میں مذکورہ درآمد کنندہ پر الیکٹرونکس آئٹم کی غیرقانونی درآمد میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا لیکن حیرت انگیز طور پر کیس ٹربیونل میں منتقل ہونے پر پیشی کے دوران کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل نے فضل حق، زینب والا اور اسدخان کے حق میں یا برخلاف فیصلہ دینے کے بجائے ایک دوسری پارٹی ستارالیکٹرونکس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ضبط شدہ سامان کلیئر کرنے کی اجازت دے دی جبکہ محکمہ کسٹمزکی جانب سے جاری کیے جانیوالے ''آڈران اوریجنل'' (اواین او) میں ستارالیکٹرونکس کو نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل کی جانب سے دیاجانیوالا فیصلہ ناصرف کسٹمزایکٹ کامذاق اڑانے کے مترادف ہے بلکہ سابق وزیرخزانہ کے ایف بی آرمیں سالانہ 500 ارب روپے کی ہونے والی کرپشن کے دعوے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئرکرنے کی کوشش میں روکے جانے والے کپڑے کنسائمنٹس کو ریلیز کرنے کے لیے کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل کی جانب سے کسٹمزایکٹ کی شق 194C(3) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درآمد کنندہ پولی ٹاپ انڈسٹری کے حق میں فیصلہ دے دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولی ٹاپ انڈسٹری کی جانب سے فیبرک کے کنسائنمٹس کی کلیئرنس میں غلط پاکستان کسٹمز ٹیرف ''پی سی ٹی''کا استعمال اورایس آر او کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کم ویلیوپر کلیئر کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم محکمہ کسٹمز کی جانب سے پولی ٹاپ انڈسٹری کے خلاف مقدمہ821(کنٹراونشن) درج کردیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ کسٹمز کے ایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹ نے مذکورہ درآمدکنندہ پر کنسائنمنٹ کی مجموعی قیمت کا 35 فیصد جرمانہ اور 2 لاکھ روپے پینلٹی لگائی تھی لیکن بعدازاں مذکورہ کیس کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل منتقل ہونے پر اپیلیٹ ٹریبونل کے سنگل بینچ نے کسٹمزایکٹ کی شق 194C(3)کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درآمدکنندہ کو کنسائنمنٹ ریلیزکرنے کی اجازت دے دی جبکہ کسٹمز ایکٹ کی شق194C(3) کے مطابق روکے جانے والے کنسائنمنٹ کے ڈیوٹی وٹیکسز، فائن اورپینلٹی کی رقم 50 لاکھ سے زائد ہونے پر مقدمہ کی سماعت کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل کے 2 ٹیکنکل ممبریا 2 جوڈیشل ممبر(ڈبل بینچ) کرنے کے مجازہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ پولی ٹاپ انڈسٹری کی جانب سے مجموعی طور پر 55 لاکھ سے زائد کی ڈیوٹی و ٹیکسز کی جعلسازی کی گئی تاہم ڈبل بینچ نے سماعت نہیں کی بلکہ ٹریبونل کے سنگل بینچ نے پولی ٹاپ انڈسٹری کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے فیبرک کا کنسائنمنٹ ریلیز کرنے کا حکم دے دیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے نئے ریکارڈ قائم ہورہے ہیں اور اس ادارے کے حوالے سے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے 500 ارب روپے کی سالانہ کرپشن کا دعویٰ درست ثابت ہو رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل کے ممبرٹیکنکل خالد محمود کی جانب سے ستار الیکٹرونکس کی حمایت میں مبینہ طور پر غلط فیصلہ دیے جانے اور ضبط کیا جانے والا اسمگل شدہ سامان کلیئر کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ پریونٹیو حیدرآباد کے شعبہ اینٹی اسمگلنگ اسکواڈ کی جانب سے کراچی سے نوشہرو جانے والے ٹرک نمبر TLD-039 کی جانچ پڑتال پرانکشاف ہوا تھا کہ اس ٹرک میں فرانس کے تیار کردہ الیکٹرونکس آئٹمز بشمول ویکیوم کلینر، فوڈ پروسیسر، سینڈوچ ٹوسٹر، اوون، ہاٹ پاٹ پلیٹ موجود تھے جبکہ ٹرک ڈرائیورکی جانب سے محکمہ کسٹمز کو دی جانے والی گڈزڈیکلریشن میں چین سے درآمد کیے جانے والے الیکٹرونکس مصنوعات کی تفصیلات درج کی گئی تھیں۔
حیدرآباد کلکٹریٹ کی جانب سے مذکورہ اسمگل شدہ سامان ضبط کرتے ہوئے فضل حق، زینب والا اور اسد خان کے خلاف اسمگلنگ کا مقدمہ درج کردیا اور بعدازاں کلکٹریٹ آف کسٹمز ایڈجیوڈیکشن کوئٹہ کی جانب سے ''آڈران اوریجنل'' (اواین او) نمبر 215 جاری کر دیا گیا جس میں مذکورہ درآمد کنندہ پر الیکٹرونکس آئٹم کی غیرقانونی درآمد میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا لیکن حیرت انگیز طور پر کیس ٹربیونل میں منتقل ہونے پر پیشی کے دوران کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل نے فضل حق، زینب والا اور اسدخان کے حق میں یا برخلاف فیصلہ دینے کے بجائے ایک دوسری پارٹی ستارالیکٹرونکس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ضبط شدہ سامان کلیئر کرنے کی اجازت دے دی جبکہ محکمہ کسٹمزکی جانب سے جاری کیے جانیوالے ''آڈران اوریجنل'' (اواین او) میں ستارالیکٹرونکس کو نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل کی جانب سے دیاجانیوالا فیصلہ ناصرف کسٹمزایکٹ کامذاق اڑانے کے مترادف ہے بلکہ سابق وزیرخزانہ کے ایف بی آرمیں سالانہ 500 ارب روپے کی ہونے والی کرپشن کے دعوے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئرکرنے کی کوشش میں روکے جانے والے کپڑے کنسائمنٹس کو ریلیز کرنے کے لیے کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل کی جانب سے کسٹمزایکٹ کی شق 194C(3) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درآمد کنندہ پولی ٹاپ انڈسٹری کے حق میں فیصلہ دے دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولی ٹاپ انڈسٹری کی جانب سے فیبرک کے کنسائنمٹس کی کلیئرنس میں غلط پاکستان کسٹمز ٹیرف ''پی سی ٹی''کا استعمال اورایس آر او کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کم ویلیوپر کلیئر کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم محکمہ کسٹمز کی جانب سے پولی ٹاپ انڈسٹری کے خلاف مقدمہ821(کنٹراونشن) درج کردیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ کسٹمز کے ایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹ نے مذکورہ درآمدکنندہ پر کنسائنمنٹ کی مجموعی قیمت کا 35 فیصد جرمانہ اور 2 لاکھ روپے پینلٹی لگائی تھی لیکن بعدازاں مذکورہ کیس کسٹمزاپیلیٹ ٹریبونل منتقل ہونے پر اپیلیٹ ٹریبونل کے سنگل بینچ نے کسٹمزایکٹ کی شق 194C(3)کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درآمدکنندہ کو کنسائنمنٹ ریلیزکرنے کی اجازت دے دی جبکہ کسٹمز ایکٹ کی شق194C(3) کے مطابق روکے جانے والے کنسائنمنٹ کے ڈیوٹی وٹیکسز، فائن اورپینلٹی کی رقم 50 لاکھ سے زائد ہونے پر مقدمہ کی سماعت کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل کے 2 ٹیکنکل ممبریا 2 جوڈیشل ممبر(ڈبل بینچ) کرنے کے مجازہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ پولی ٹاپ انڈسٹری کی جانب سے مجموعی طور پر 55 لاکھ سے زائد کی ڈیوٹی و ٹیکسز کی جعلسازی کی گئی تاہم ڈبل بینچ نے سماعت نہیں کی بلکہ ٹریبونل کے سنگل بینچ نے پولی ٹاپ انڈسٹری کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے فیبرک کا کنسائنمنٹ ریلیز کرنے کا حکم دے دیا۔