سیاسی بے یقینی سے مہنگائی بڑھی اور سرمایہ کاری رک گئی اسٹیٹ بینک
آئی ایم ایف نے قرض کی قسط موخر کردی، توانائی بحران کم کرنے کیلیے گردشی قرضوں کی ادائیگی ضروری ہے، اسٹیٹ بینک
تارکین وطن کی ترسیلات معیشت کی اصل طاقت بن گئی ، رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 4 سے 5 فیصد رہے گی،گرانی بڑھ کر 8.6 فیصد ہوگئی، جائزہ رپورٹس ۔ فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی غیر یقینی سے سرمایہ کاری منصوبے موخر ہو رہے ہیں۔ توانائی انفرا اسٹرکچر کی ناکافی منصوبہ بندی، ڈسکوز اور جینکوز میں اصلاحات کا فقدان معیشت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
اسٹیٹ بینک نے معاشی جائزہ رپورٹ برائے سال 2013-14میں اکہا ہے کہ توانائی بحران کم کرنے کیلیے گردشی قرضوں کی ادائیگی ضروری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرونی خسارہ کم کرنے کیلئے مہنگے بیرونی قرضے نہ لیے جائیں۔ ملکی برآمدات 3 سال سے جمود کا شکار ہیں اس سال بھی ہدف پور انہیں ہوگا۔ پاکستانی تارکین کی رقوم (ترسیلات) معیشت کی اصل طاقت بن گئی ہیں۔ گزشتہ مالی سال بہتر رہا، رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 4 سے 5 فیصد رہے گی، مالیاتی خسارہ ہدف سے باہر رہے گا، کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ رواں سال سرکاری قرضے اور جی ڈی پی کی شرح میں 50 بیسس پوائنٹس کی معمولی کمی آئی اسی طرح سرکاری قرضہ بہ نسبت حکومتی محاصل میں بھی 40 بیسس پوائنٹس کمی ہوئی تاہم اب بھی سرکاری قرضہ بہ نسبت جی ڈی پی 64.3 فیصد ہے جو مالیاتی ذمے داری اور تحدید قرضہ ایکٹ 2005 کے تحت 60 فیصد کی بالائی حد سے زائد ہے۔
حکومت تین سہ ماہییوں سے ایس بی پی ایکٹ 1956کے تحت عائد صفر(خالص) میزانیہ قرض گیری کی حد کی خلاف ورزی کر رہی ہے، مالی سال 2013-14ء میں سرکاری قرضہ جو خزانے پر بوجھ ہے سرکاری محاصل سے ساڑھے چار گنا زائد ہے اور مجموعی سرکاری اخراجات میں سے 20 فیصد رقم سودی ادائیگیوں پر خرچ کی جا رہی ہے، دوران سال پاکستان کے سرکاری قرضے میں 17 کھرب روپے کا اضافہ ہوا جو مالی سال 2013-14کے اختتام پر بڑھ کر 163کھرب روپے تک جا پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق عوامی مظاہروں سے سیاسی بے یقینی پیدا ہوئی، غیریقینی کیفیت کی وجہ سے سرمایہ کاری منصوبے موخر ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام بھی مارکیٹ کیلیے تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے کیونکہ چوتھے جائزے میں تاخیر کی وجہ سے آئی ایم ایف نے اپنی قسط موخر کردی ہے۔
آئی ایم ایف پاکستان کا کیس بورڈ میں لے جانے سے پہلے تین معاملات پر پیش رفت دیکھنا چاہے گی جن میں بجلی کے نرخ میں اضافہ، حکومت کو بجٹ میں شامل 145ارب روپے کے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی وصولی، اسلامک سکوک کا کامیاب اجرا شامل ہیں،رپورٹ کے مطابق مالی سال 2013-14معیشت کے لیے بہتر رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جی ڈی پی کے 5.5 فیصد کے برابر مالیاتی خسارہ ہوا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اخراجات کو قابو میں رکھنے اور اضافی محاصل (revenues) پیدا کرنے کے لیے مربوط کوشش کی گئی لیکن وقتی عوامل جیسے پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ کی رقم کی آمد اور حکومت کی جانب سے مالی سال 14ء میں گردشی قرضے کے تصفیے میں تاخیر نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ سرکاری کاروباری ادارے (PSEs) وفاقی حکومت پر مسلسل مالیاتی بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ گرانی مالی سال 14ء میں تھوڑی سی بڑھ کر 8.6 فیصد ہوگئی۔
اسٹیٹ بینک نے معاشی جائزہ رپورٹ برائے سال 2013-14میں اکہا ہے کہ توانائی بحران کم کرنے کیلیے گردشی قرضوں کی ادائیگی ضروری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرونی خسارہ کم کرنے کیلئے مہنگے بیرونی قرضے نہ لیے جائیں۔ ملکی برآمدات 3 سال سے جمود کا شکار ہیں اس سال بھی ہدف پور انہیں ہوگا۔ پاکستانی تارکین کی رقوم (ترسیلات) معیشت کی اصل طاقت بن گئی ہیں۔ گزشتہ مالی سال بہتر رہا، رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 4 سے 5 فیصد رہے گی، مالیاتی خسارہ ہدف سے باہر رہے گا، کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ رواں سال سرکاری قرضے اور جی ڈی پی کی شرح میں 50 بیسس پوائنٹس کی معمولی کمی آئی اسی طرح سرکاری قرضہ بہ نسبت حکومتی محاصل میں بھی 40 بیسس پوائنٹس کمی ہوئی تاہم اب بھی سرکاری قرضہ بہ نسبت جی ڈی پی 64.3 فیصد ہے جو مالیاتی ذمے داری اور تحدید قرضہ ایکٹ 2005 کے تحت 60 فیصد کی بالائی حد سے زائد ہے۔
حکومت تین سہ ماہییوں سے ایس بی پی ایکٹ 1956کے تحت عائد صفر(خالص) میزانیہ قرض گیری کی حد کی خلاف ورزی کر رہی ہے، مالی سال 2013-14ء میں سرکاری قرضہ جو خزانے پر بوجھ ہے سرکاری محاصل سے ساڑھے چار گنا زائد ہے اور مجموعی سرکاری اخراجات میں سے 20 فیصد رقم سودی ادائیگیوں پر خرچ کی جا رہی ہے، دوران سال پاکستان کے سرکاری قرضے میں 17 کھرب روپے کا اضافہ ہوا جو مالی سال 2013-14کے اختتام پر بڑھ کر 163کھرب روپے تک جا پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق عوامی مظاہروں سے سیاسی بے یقینی پیدا ہوئی، غیریقینی کیفیت کی وجہ سے سرمایہ کاری منصوبے موخر ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام بھی مارکیٹ کیلیے تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے کیونکہ چوتھے جائزے میں تاخیر کی وجہ سے آئی ایم ایف نے اپنی قسط موخر کردی ہے۔
آئی ایم ایف پاکستان کا کیس بورڈ میں لے جانے سے پہلے تین معاملات پر پیش رفت دیکھنا چاہے گی جن میں بجلی کے نرخ میں اضافہ، حکومت کو بجٹ میں شامل 145ارب روپے کے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی وصولی، اسلامک سکوک کا کامیاب اجرا شامل ہیں،رپورٹ کے مطابق مالی سال 2013-14معیشت کے لیے بہتر رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جی ڈی پی کے 5.5 فیصد کے برابر مالیاتی خسارہ ہوا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اخراجات کو قابو میں رکھنے اور اضافی محاصل (revenues) پیدا کرنے کے لیے مربوط کوشش کی گئی لیکن وقتی عوامل جیسے پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ کی رقم کی آمد اور حکومت کی جانب سے مالی سال 14ء میں گردشی قرضے کے تصفیے میں تاخیر نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ سرکاری کاروباری ادارے (PSEs) وفاقی حکومت پر مسلسل مالیاتی بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ گرانی مالی سال 14ء میں تھوڑی سی بڑھ کر 8.6 فیصد ہوگئی۔