ملالہ کا مشن تعلیم کا پھیلاؤ ہے

پاکستان کی ہزاروں ابھرتی ہوئی ملالاؤں کے لیے نوبل انعام یافتہ ملالہ امید و جدوجہد کا ایک حسین استعارہ ہیں۔

یہ ایوارڈ صرف ان کا نہیں بلکہ ان بچوں کا ہے جو تعلیم چاہتے ہیں، ان خوفزدہ بچوں کا ہے جو امن چاہتے ہیں اور تبدیلی کے خواہاں ہیں، ملالہ یوسفزئی فوٹو: اے ایف پی

پاکستانی طالبہ اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم کارکن ملالہ یوسفزئی نے بھارتی سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کے ہمراہ امن کا نوبل انعام وصول کر لیا۔ یوں 17 سالہ ملالہ نوبل انعام حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین شخصیت اور ماہر طبیعات ڈاکٹر عبدالسلام کے بعد دوسری پاکستانی شہری ہیں ۔بلاشبہ دہشت گردی کے عفریت سے برسرپیکار پاکستان کا عالمی تشخص بحال کرنے میں ملالہ یوسف زئی کا کردار جس قابل تحسین انداز میں دنیا کے سامنے آیا ہے۔

اس پر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے ۔ پاکستان کی ہزاروں ابھرتی ہوئی ملالاؤں کے لیے نوبل انعام یافتہ ملالہ امید و جدوجہد کا ایک حسین استعارہ ہیں، ان کا کہنا صحیح ہے کہ طالبان کا نظریہ ہار گیا۔مگر ابھی اس نئے الزام سے بھی پاکستان کو بری الذمہ ہونا ہے کہ وہ دنیا کا 8 واں خطرناک ملک ہے۔ پاکستان کی ملالہ اور کیلاش ستیارتھی کو رواں برس اکتوبر میں مشترکہ طور پر اس انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا اور انھیں یہ انعام گزشتہ روز ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے سٹی ہال میں منعقدہ رنگا رنگ تقریب میں دیا گیا ۔

تقریب کے آغاز میں نوبل کمیٹی کے چیئرمین تھور جان جیگ لینڈ نے اپنے خطاب میں ملالہ اور کیلاش کو امن کا علمبردار قرار دیا اور زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ایوارڈ وصول کرنے کے بعد اپنے خطاب میں ملالہ نے کہا کہ یہ ایوارڈ صرف ان کا نہیں بلکہ ان بچوں کا ہے جو تعلیم چاہتے ہیں، ان خوفزدہ بچوں کا ہے جو امن چاہتے ہیں اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ دریں اثناء صدر ممنون حسین ، وزیراعظم نواز شریف اور دیگر رہنماؤں نے اپنے تہنیتی پیغامات میں ملالہ اور کیلاش ستیارتھی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ دنیا کے لیے پاکستان کی طرف سے امن کی سفیر ہیں۔ادھر خیبرپختونخوا کی مختلف سیاسی، سماجی و صحافتی شخصیات نے ملالہ یوسفزئی کو نوبل انعام ملنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان خصوصاً پختونوں کے لیے قابل فخر قرار دیا ہے۔


معروف جوہری سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے کہا تعلیم کا فروغ خوشحال اورترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے۔ واضح رہے ایکسپریس میڈیا گروپ نے ملک میں تعلیمی مہم کا آغاز کیا ہے اور ''آؤ پڑھاؤ'' مہم کے تحت پرائمری تعلیم کی اہمیت اور اساتذہ کی عزت و تقدیس کے لیے ارباب اختیار کو اہم سفارشات دی جائیں گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملالہ کی دلیرانہ اور غیر متزلزل جدوجہد تعلیمی اداروں کے تحفظ اور فروغ سے مشروط تھی، وہ دہشت گردوں کے مقابل کوہ گراں کی صورت اس آفاقی آدرش کے ساتھ کھڑی ہیں کہ اپنے مادر وطن کے چپہ چپہ کو تعلیم کی روشنی سے منور کریں گی ۔

تاہم خواندگی کا مشن سب سے مشکل اورصبر آزما ہے،ارباب اختیار ادراک کریں کہ صرف ڈیرہ بگٹی میں 86 فی صد بچے اسکول نہیں جاتے، ضلع آواران میں کسی گرلز اسکول کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی باقی جگہ کیا صورتحال ہوگی۔ تاہم صوبائی سیکریٹری تعلیم بلوچستان کے خوش آیند بیان کے مطابق رواں مالی سال میں مجموعی طور پر تعلیم پر 55 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں ۔

اس ضمن میں وزیراعظم سے یہاں وزیراعظم ہاؤس میں لورالائی کے اسکول کے طلباء نے ملاقات کی جن سے مخاطب ہوتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ بلوچستان کے بچوں کو مساوی تعلیم فراہم کی جائے، وزیراعظم نے اس موقع پر بلوچستان کے اسکول کے طلباء کی سہولتوں کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کے فنڈز کا اعلان کیا ۔بہر کیف ملالہ کا مشن تعلیم ہے،انتہاپسندی کا جواب گھر گھر تعلیم کی کرن ہے جو پھوٹے گی تو مادر وطن میں ہر طرف فکر و عمل کے نئے چراغ روشن ہوں گے۔
Load Next Story