فرشتہ اجل تھر میں براجمان
تھرپارکر میں بچوں کی اموات غذائی قلت سے ہو رہی ہے۔تھر کےخراب حالات کی ذمےداری مکمل طور پرسندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
غذائی قلت کے شکار بچوں میں نمونیہ، بخار اور دیگر وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ تھرپارکر میں بچوں کی اموات غذائی قلت سے ہو رہی ہے۔ فوٹو: فائل
تھر کے صحرائی علاقے میں بھوک سے بلکتے بچے ایک ایک کرکے جان کی بازی ہار رہے ہیں اور ان کے بدنصیب ماں باپ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بے بسی کی موت مرتے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ منگل کو 11 بچوں کی ہلاکت کے بعد بدھ کو مزید 9 بچے لقمہ اجل بن گئے، اس طرح گزشتہ دو روز میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہوگئی ہے ۔
رواں سال مرنے والے افراد کی تعداد 536 ہوگئی۔ حکومت سندھ کے محکمہ صحت نے اپنی روش نہ بدلی اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے بہترین اسپتال قرار دیے جانے والے سول اسپتال مٹھی کی لیبارٹری میں موجود بلڈ سی پی سمیت خون کے دیگر ٹیسٹ کرنے والی مشین بھی محکمہ صحت کی نااہلی کے باعث ایک ماہ سے خراب پڑی ہے، جس کی وجہ سے مریض اس عام سے ٹیسٹ کے لیے بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ تھر میں حالات کے ماروں کے پاس کھانے کو روٹی تک نہیں۔ گندم کی تقسم کے چوتھے مرحلے کو بھی ایک ماہ گزر گیا لیکن اب تک پانچویں مرحلے کی باری نہیں آئی۔
غذائی قلت کے شکار بچوں میں نمونیہ، بخار اور دیگر وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ تھرپارکر میں بچوں کی اموات غذائی قلت سے ہو رہی ہے۔تھر کے خراب حالات کی ذمے داری مکمل طور پر سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن صد افسوس سندھ کے وزراء کی جانب سے معاملے پر چشم پوشی اور بے تکے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں حفاظتی اقدامات بہت پہلے اٹھا لیے جانے چاہیے تھے۔ حکومت سندھ کو اپنے مجبور عوام کا دکھ محسوس کرتے ہوئے تھر کے معاملے پر فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مزید ہلاکتوں کو روکا جاسکے۔
رواں سال مرنے والے افراد کی تعداد 536 ہوگئی۔ حکومت سندھ کے محکمہ صحت نے اپنی روش نہ بدلی اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے بہترین اسپتال قرار دیے جانے والے سول اسپتال مٹھی کی لیبارٹری میں موجود بلڈ سی پی سمیت خون کے دیگر ٹیسٹ کرنے والی مشین بھی محکمہ صحت کی نااہلی کے باعث ایک ماہ سے خراب پڑی ہے، جس کی وجہ سے مریض اس عام سے ٹیسٹ کے لیے بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ تھر میں حالات کے ماروں کے پاس کھانے کو روٹی تک نہیں۔ گندم کی تقسم کے چوتھے مرحلے کو بھی ایک ماہ گزر گیا لیکن اب تک پانچویں مرحلے کی باری نہیں آئی۔
غذائی قلت کے شکار بچوں میں نمونیہ، بخار اور دیگر وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ تھرپارکر میں بچوں کی اموات غذائی قلت سے ہو رہی ہے۔تھر کے خراب حالات کی ذمے داری مکمل طور پر سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن صد افسوس سندھ کے وزراء کی جانب سے معاملے پر چشم پوشی اور بے تکے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں حفاظتی اقدامات بہت پہلے اٹھا لیے جانے چاہیے تھے۔ حکومت سندھ کو اپنے مجبور عوام کا دکھ محسوس کرتے ہوئے تھر کے معاملے پر فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مزید ہلاکتوں کو روکا جاسکے۔