تنخواہ نہ ملنے پر واسا ملازمین کی پانی بندکرنے کی دھمکی
مزدوروں کی فلاح کی دعویدار حکومت نے واسا ملازمین کے حالات بد تر کر دیے، بہرام خان۔
برسوں سے ملنے والی مراعات بھی چھین لی گئیں، تنخواہ نہ ملنے سے اہل خانہ فاقہ کشی کا شکار. فوٹو: فائل
ایچ ڈی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت سندھ کے وعدے کے مطابق
واسا ملازمین کو تنخواہوں، پنشن، کمیوٹیشن، جی پی فنڈز ، سن کوٹہ کی بحالی اور بقایاجات کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں آئندہ ہفتے کے آغاز سے حیدرآباد شہر میں فراہمی و نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بہرام خان چانگ، ممبران کمیٹی اعجاز حسین، خالد نور، شائق علی پٹھان اور جان چراغ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت جو محنت کشوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حالات کو بہتر بنانے کے دعوے کرتی ہے لیکن افسوس کہ واسا حیدرآباد کے ملازمین کے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں
وہ تمام مراعات جو کہ گزشتہ 40 برسوں سے ملازمین کو مل رہی تھیں، نہ صرف وہ بند ہو چکی ہیں، بلکہ تنخواہیںبھی 5 سے 6 ماہ کی تاخیر سے مل رہی ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین اور ان کے اہل خانہ معاشی بدحالی کا شکار اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
واسا ملازمین کو تنخواہوں، پنشن، کمیوٹیشن، جی پی فنڈز ، سن کوٹہ کی بحالی اور بقایاجات کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں آئندہ ہفتے کے آغاز سے حیدرآباد شہر میں فراہمی و نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بہرام خان چانگ، ممبران کمیٹی اعجاز حسین، خالد نور، شائق علی پٹھان اور جان چراغ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت جو محنت کشوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حالات کو بہتر بنانے کے دعوے کرتی ہے لیکن افسوس کہ واسا حیدرآباد کے ملازمین کے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں
وہ تمام مراعات جو کہ گزشتہ 40 برسوں سے ملازمین کو مل رہی تھیں، نہ صرف وہ بند ہو چکی ہیں، بلکہ تنخواہیںبھی 5 سے 6 ماہ کی تاخیر سے مل رہی ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین اور ان کے اہل خانہ معاشی بدحالی کا شکار اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔