پاکستانی کرکٹ کا نیا تنازع عبدالرحمان کا انگلینڈ میں مثبت ڈوپ ٹیسٹ آ گیا
اسپنر کو 2 سالہ پابندی کا سامنا، کیریئر شدید خطرات کا شکار ہوگیا
انگلش بورڈ انھیں جو بھی سزا دے آئی سی سی قانون کے تحت پاکستان کو بھی اسے تسلیم کرنا پڑے گا۔ فوٹو: فائل
پاکستانی کرکٹ ایک اور تنازع میں الجھ گئی، ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کی وجہ سے لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمان کا انگلینڈ میں مثبت ڈوپ ٹیسٹ آ گیا۔
ای سی بی نے معاملے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی آگاہ کر دیا، اسپنر کو 2 سالہ پابندی کا سامنا ہے،32 سال عمر کی وجہ سے ان کی دوبارہ واپسی ممکن نہیں ہو گی، انگلش بورڈ انھیں جو بھی سزا دے آئی سی سی قانون کے تحت پاکستان کو بھی اسے تسلیم کرنا پڑے گا، عبدالرحمان ڈوپنگ کا شکار ہونے دنیا کے17 ویں اور تیسرے پاکستانی کرکٹر بنے ہیں، ان سے قبل شعیب اختر اور محمد آصف بھی اس رسوائی کا شکار ہو چکے۔ تفصیلات کے مطابق لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمان ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کے مستقل رکن ہیں۔
البتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلیے انھیں اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، انھوں نے گذشتہ دنوں انگلش کائونٹی کرکٹ چیمپئن شپ میں سمرسٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے4 میچز میں27 پلیئرز کو آئوٹ کیا، ووسٹر شائر سے آخری میچ کی پہلی اننگز میں عبدالرحمان نے9 اور دوسری میں5 وکٹیں لے کر میچ میں 14 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا، اس دوران انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ڈوپ ٹیسٹ کیلیے ان کا سیمپل لیا جو مثبت آ گیا، باخبر ذرائع نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ای سی بی نے پی سی بی کو بھی ٹیسٹ کے نتیجے سے آگاہ کر دیا۔
اسپاٹ فکسنگ کیسز کے سبب ملک ویسے ہی بدنامی کا شکار ہے، اب اس سے مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، قانون کے مطابق ڈوپنگ کی زیادہ سے زیادہ سزا دو برس کی پابندی ہے، اگر انگلینڈ نے عبدالرحمان کے ساتھ ایسا سلوک کیا تو ان کا کیریئر ختم ہو جائے گا کیونکہ وہ 32 سال کے ہو چکے ہیں، آئی سی سی قانون کے مطابق اگر کوئی بورڈ کسی بھی ملک کے پلیئر کو سزا دے تو سب پر عمل لازم ہے، ایسے میں عبدالرحمان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں حبیب بینک کی جانب سے پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں شرکت بھی مشکل ہو جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ اگر اسپنر ثابت کر دیں کہ بے دھیانی میں ممنوعہ دوا کھائی تو کم پابندی بھی ممکن ہے البتہ ان کیلیے ایسا کرنا مشکل ہو گا،وہ پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ پلیئر ہیں اور دیگر کھلاڑیوں کی طرح انھیں بھی ڈوپنگ سے بچنے کیلیے اردو میں تحریر شدہ کتابچہ دیا گیا ہے، ایسے میں لاعلمی کا جواز نہیں دے سکیںگے۔ اب تک کم از کم 17 کرکٹرز ڈوپنگ مسائل میں الجھے ہیں، ان میں پاکستان کے محمد آصف اور شعیب اختر بھی شامل ہیں۔
2006 میں چیمپئنز ٹرافی سے قبل دونوں کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا اور ''ایکسپریس'' نے ہی یہ خبر بریک کی تھی، ممنوعہ دوا نینڈرلون استعمال کرنے والے شعیب اور آصف پر پی سی بی نے دو سالہ پابندی عائد کی جو بعد میں اپیل پر ختم کر دی گئی تھی، یہ معاملہ ثالثی کی عالمی عدالت تک بھی پہنچا تھا۔ یاد رہے کہ عبدالرحمان نے پاکستان کی جانب سے17ٹیسٹ میں81،25 ون ڈے میں 21 اور7 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 11 وکٹیں لی ہیں، آسٹریلیا سے آخری ون ڈے سیریزکے2 میچز میں انھوں نے 3کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا تھا۔
ای سی بی نے معاملے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی آگاہ کر دیا، اسپنر کو 2 سالہ پابندی کا سامنا ہے،32 سال عمر کی وجہ سے ان کی دوبارہ واپسی ممکن نہیں ہو گی، انگلش بورڈ انھیں جو بھی سزا دے آئی سی سی قانون کے تحت پاکستان کو بھی اسے تسلیم کرنا پڑے گا، عبدالرحمان ڈوپنگ کا شکار ہونے دنیا کے17 ویں اور تیسرے پاکستانی کرکٹر بنے ہیں، ان سے قبل شعیب اختر اور محمد آصف بھی اس رسوائی کا شکار ہو چکے۔ تفصیلات کے مطابق لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمان ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کے مستقل رکن ہیں۔
البتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلیے انھیں اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، انھوں نے گذشتہ دنوں انگلش کائونٹی کرکٹ چیمپئن شپ میں سمرسٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے4 میچز میں27 پلیئرز کو آئوٹ کیا، ووسٹر شائر سے آخری میچ کی پہلی اننگز میں عبدالرحمان نے9 اور دوسری میں5 وکٹیں لے کر میچ میں 14 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا، اس دوران انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ڈوپ ٹیسٹ کیلیے ان کا سیمپل لیا جو مثبت آ گیا، باخبر ذرائع نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ای سی بی نے پی سی بی کو بھی ٹیسٹ کے نتیجے سے آگاہ کر دیا۔
اسپاٹ فکسنگ کیسز کے سبب ملک ویسے ہی بدنامی کا شکار ہے، اب اس سے مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، قانون کے مطابق ڈوپنگ کی زیادہ سے زیادہ سزا دو برس کی پابندی ہے، اگر انگلینڈ نے عبدالرحمان کے ساتھ ایسا سلوک کیا تو ان کا کیریئر ختم ہو جائے گا کیونکہ وہ 32 سال کے ہو چکے ہیں، آئی سی سی قانون کے مطابق اگر کوئی بورڈ کسی بھی ملک کے پلیئر کو سزا دے تو سب پر عمل لازم ہے، ایسے میں عبدالرحمان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں حبیب بینک کی جانب سے پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں شرکت بھی مشکل ہو جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ اگر اسپنر ثابت کر دیں کہ بے دھیانی میں ممنوعہ دوا کھائی تو کم پابندی بھی ممکن ہے البتہ ان کیلیے ایسا کرنا مشکل ہو گا،وہ پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ پلیئر ہیں اور دیگر کھلاڑیوں کی طرح انھیں بھی ڈوپنگ سے بچنے کیلیے اردو میں تحریر شدہ کتابچہ دیا گیا ہے، ایسے میں لاعلمی کا جواز نہیں دے سکیںگے۔ اب تک کم از کم 17 کرکٹرز ڈوپنگ مسائل میں الجھے ہیں، ان میں پاکستان کے محمد آصف اور شعیب اختر بھی شامل ہیں۔
2006 میں چیمپئنز ٹرافی سے قبل دونوں کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا اور ''ایکسپریس'' نے ہی یہ خبر بریک کی تھی، ممنوعہ دوا نینڈرلون استعمال کرنے والے شعیب اور آصف پر پی سی بی نے دو سالہ پابندی عائد کی جو بعد میں اپیل پر ختم کر دی گئی تھی، یہ معاملہ ثالثی کی عالمی عدالت تک بھی پہنچا تھا۔ یاد رہے کہ عبدالرحمان نے پاکستان کی جانب سے17ٹیسٹ میں81،25 ون ڈے میں 21 اور7 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 11 وکٹیں لی ہیں، آسٹریلیا سے آخری ون ڈے سیریزکے2 میچز میں انھوں نے 3کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا تھا۔