ماحولیاتی آلودگی پر مذاکرات میں تعطل
فضا کو آلودہ کرنے والی گرین ہاؤس گیس کا اخراج امیر ملکوں کی صنعتی ترقی سے ہوتا ہے.
ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کا طریقہ بظاہر یہی ہے کہ ان صنعتوں پر قدغن عاید کر دی جائے جو زہریلی گیسوں کا اخراج بہت زیادہ کرتی ہیں، فوٹو : فائل
HYDERABAD:
دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں تشویشناک حد تک اضافے کے جو تباہ کن نتائج برآمد ہو رہے ہیں انھوں نے ان ترقی یافتہ ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو خود اپنی صنعتکاری کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے اور اسے بڑھانے کے ذمے دار ہیں۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ نے لاطینی امریکا کے ملک پیرو کے دارالحکومت لیما میں موسمیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا لیکن بارہ دن تک طویل مذاکرات کے باوجود کوئی فیصلہ نہ کیا جاسکا کہ اس سنگین مسئلہ پر کس طرح قابو پایا جا ئے گا۔
فضا کو آلودہ کرنے والی گرین ہاؤس گیس کا اخراج امیر ملکوں کی صنعتی ترقی سے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں غریب ملکوں میں پھلنے والی بیماریوں کے علاوہ قطبین کے گلیشئروں کے پگھلنے نے اتنی تیزی اختیار کرلی ہے کہ دنیا میں کئی ممالک میں پینے کے پانی کی شدید قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکا کے سابق نائب صدر الگور نے جو بش جونیئر کے مقابلے میں صدارتی انتخاب ہار گئے تھے انھوں نے ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کام کرنے کو اپنا مشن بنالیا۔
ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کا طریقہ بظاہر یہی ہے کہ ان صنعتوں پر قدغن عاید کر دی جائے جو زہریلی گیسوں کا اخراج بہت زیادہ کرتی ہیں لیکن یہ بات قابل عمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اسی بنیاد پر تو ان کی دولت اور طاقت کی بالا دستی قائم ہے۔ وہ اپنی سونا اگلنے والی فیکٹریاں بند کرنے پر بھلا کیسے رضا مند ہو سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عالمی سطح پر ایسے قواعد و ضوابط نافذ کیے جائیں جن کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی میں تخفیف کا امکان پیدا ہو سکے۔
دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں تشویشناک حد تک اضافے کے جو تباہ کن نتائج برآمد ہو رہے ہیں انھوں نے ان ترقی یافتہ ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو خود اپنی صنعتکاری کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے اور اسے بڑھانے کے ذمے دار ہیں۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ نے لاطینی امریکا کے ملک پیرو کے دارالحکومت لیما میں موسمیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا لیکن بارہ دن تک طویل مذاکرات کے باوجود کوئی فیصلہ نہ کیا جاسکا کہ اس سنگین مسئلہ پر کس طرح قابو پایا جا ئے گا۔
فضا کو آلودہ کرنے والی گرین ہاؤس گیس کا اخراج امیر ملکوں کی صنعتی ترقی سے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں غریب ملکوں میں پھلنے والی بیماریوں کے علاوہ قطبین کے گلیشئروں کے پگھلنے نے اتنی تیزی اختیار کرلی ہے کہ دنیا میں کئی ممالک میں پینے کے پانی کی شدید قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکا کے سابق نائب صدر الگور نے جو بش جونیئر کے مقابلے میں صدارتی انتخاب ہار گئے تھے انھوں نے ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کام کرنے کو اپنا مشن بنالیا۔
ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کا طریقہ بظاہر یہی ہے کہ ان صنعتوں پر قدغن عاید کر دی جائے جو زہریلی گیسوں کا اخراج بہت زیادہ کرتی ہیں لیکن یہ بات قابل عمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اسی بنیاد پر تو ان کی دولت اور طاقت کی بالا دستی قائم ہے۔ وہ اپنی سونا اگلنے والی فیکٹریاں بند کرنے پر بھلا کیسے رضا مند ہو سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عالمی سطح پر ایسے قواعد و ضوابط نافذ کیے جائیں جن کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی میں تخفیف کا امکان پیدا ہو سکے۔