برف پگھلنے کا امکان

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے منقطع سلسلے کا ایک بار پھر شروع ہونا خوش آیند ہے۔

جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن اقتدار کے دو لازمی فریق ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی سالمیت‘ بقا اور ریاست کی خوشحالی کے ذمے دار بھی ٹھہرتے ہیں، فوٹو : آئی این پی

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پیر کو اپنے سی پلان کے تحت لاہور میں احتجاج کیا۔ اس موقع پر تحریک انصاف نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو اٹھائیس مقامات سے بند کر دیا۔ عمران خان نے اپنے مطالبات کے حق میں مختلف شہروں کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا آغاز انھوں نے فیصل آباد سے کیا۔ فیصل آباد میں حالات خراب ہوئے اور لاشیں گریں مگر اس کے باوجود تحریک انصاف نے اپنا احتجاجی سفر ترک نہیں کیا اور اسے جاری رکھا۔ اس کے بعد کراچی میں ہونے والا احتجاج پرامن رہا اور کسی قسم کی کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی۔

جہاں ایک جانب تحریک انصاف کا احتجاج اور شہروں کو بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے وہاں دوسری جانب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے منقطع سلسلے کا ایک بار پھر شروع ہونا خوش آیند ہے۔ اتوار کو دونوں فریقین کی کمیٹیوں نے اپنی اپنی تجاویز ایک دوسرے کے حوالے کر دیں اور فیصلہ کیا گیا کہ مذاکرات کا اگلا دور آج پھر ہو گا۔ مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء اسحاق ڈار اور احسن اقبال جب کہ تحریک انصاف کی جانب سے جہانگیر ترین اور اسد عمر شریک ہوئے۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ خلوص نیت سے مذاکرات دوبارہ شروع کر رہے ہیں' ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے' برف پگھل چکی ہے۔

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا ٹوٹا ہوا سلسلہ ایک بار پھر جڑا ہے تو اس سلسلے کو اب بلا کسی تعطل کے منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے۔ بعض سیاسی مبصرین یہ الزامات عائد کرتے رہے ہیں کہ جب تحریک انصاف کا دباؤ بڑھتا ہے تو حکومت مذاکرات کا ڈول ڈال دیتی ہے اور جب وہ یہ دیکھتی ہے کہ تحریک انصاف کمزور پڑ رہی ہے اور اسے اس کی احتجاجی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں رہا تو وہ مذاکرات کا سلسلہ منقطع کر دیتی ہے۔

اب جب تحریک انصاف نے اپنے پلان کے مطابق حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف شہروں کو بند کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو حکومت نے ایک بار پھر مذاکرات کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اپنے مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے مگر اس احتجاج میں یہ امر مدنظر رہنا چاہیے کہ یہ تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا رنگ اختیار نہ کرے کیونکہ اس سے جہاں عوام کا نقصان ہوتا ہے وہاں مجموعی طور پر ملکی معیشت کو بھی کاری ضرب لگتی ہے۔


جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن اقتدار کے دو لازمی فریق ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی سالمیت' بقا اور ریاست کی خوشحالی کے ذمے دار بھی ٹھہرتے ہیں۔ حکومت کا کام جہاں ریاستی امور کو نمٹانا ہوتا ہے وہیں اپوزیشن کا کام حکومت کی درست سمت راہنمائی کرنا اور غلط اقدامات پر اسے ٹوکنا ہوتا ہے۔ اپوزیشن کا مقصد تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح ہونا چاہیے۔ اس لیے ریاستی امور کی درست انجام دہی کا انحصار حکومت اور اپوزیشن کے باہمی تعلقات کی نوعیت پر بھی ہوتا ہے۔

اس وقت اسمبلی میں حزب مخالف جس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی بھی شامل ہیں حکومت کے لیے دوستانہ ماحول پیدا کیے ہوئے ہیں لیکن تحریک انصاف نے 2013ء کے انتخابات میں بعض حلقوں میں دھاندلی کے الزامات پر حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ جس کا آغاز اسلام آباد میں دھرنوں سے ہوا مگر اب اس نے ایک نیا رخ اختیار کرتے ہوئے مختلف شہروں کو بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ صورت حال حکومت کے لیے زیادہ پریشان کن ہے اور وہ کوشاں ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس سلسلے کو روکا جائے کیونکہ احتجاج کے اس طریقہ کار سے حکومت کی رٹ کمزور پڑنے کا خدشہ اپنی جگہ موجود ہے اور حکومت کسی صورت نہیں چاہے گی کہ اسے کسی ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے۔

لہٰذا اس نے آیندہ کسی ایسی پریشانی سے بچنے کے لیے تحریک انصاف سے مذاکرات کا ٹوٹا ہوا سلسلہ ایک بار پھر سے جوڑا ہے لیکن دونوں جماعتوں کی جانب سے تناؤ کا سلسلہ بدستور قائم ہے ۔ ایک جانب مذاکرات ہو رہے ہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف اپنے پلان کے مطابق احتجاج کرکے سیاسی ماحول کو گرما رہی ہے۔ لاہور میں تحریک انصاف کے احتجاج سے قبل مسلم لیگ ن کی قیادت اور رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے اور کسی بھی صورت مشتعل نہ ہونے کی ہدایت کی۔

بالکل اسی طرح تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے پارٹی کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایات دے چکے ہیں۔ ایک دوسرے کی مخالف جماعتوں کی جانب سے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت یقیناً خوش آیند ہے لہٰذا دونوں جماعتوں کو ہر صورت تصادم سے گریز کرنا چاہیے کسی تصادم کی صورت میں نقصان ہردو جانب پارٹی کارکنوں ہی کا ہو گا جس سے امن و امان کے مسائل پیدا ہوں گے۔ جہانگیر ترین کا یہ کہنا کہ اب دونوں جماعتیں مسائل کا حل چاہتی ہیں' اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ تصادم سے معاملات حل ہونے کے بجائے مزید بگڑیں گے۔

یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے گرین سگنل دے دیا ہے کہ حکومت کے مثبت جواب کی صورت میں تحریک انصاف 18دسمبر کو پاکستان بند کرنے کی کال واپس لینے کا اعلان کر دے گی۔ یہ بڑا مثبت ردعمل اور خوش آیند بات ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کی جانب سے یہ خواہش موجود ہے کہ اختلافی معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لے جانے کے بجائے اب مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ ذرایع کے مطابق مذاکرات میں اسحاق ڈار کا رویہ نہایت مصالحانہ تھا۔ اس تناظر میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جانب سے برف پگھل رہی ہے۔ اب ہر دو فریقین کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے بھی گریز کرنا چاہیے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے تاکہ ملک موجودہ بحرانی کیفیت سے جلد از جلد نجات پا سکے۔
Load Next Story