خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
پیر و مرشد کے پاؤں کا یہ چکر ہمارے اندر بھی آ گیا اور چونکہ قرب و جوار میں کوئی اصلی دشت نہیں تھا۔
barq@email.com
پیر و مرشد مرزا اسد اللہ خان غالبؔ عرف مرزا نوشہ نے اپنے ''سلسلے''اسدیہ غالبیہ عرف پاگلیہ کی ابتداء ہی اس سے کی تھی کہ
مانع دشت نور دی کوئی تدبیر نہیں
ایک چکر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں
پیر و مرشد کے پاؤں کا یہ چکر ہمارے اندر بھی آ گیا اور چونکہ قرب و جوار میں کوئی اصلی دشت نہیں تھا، اس لیے ہم نے دشت میں ''پیمائی'' شروع کی جسے آپ دشت کالم نگاری بھی کہہ سکتے ہیں اور دشت صحافت بھی یعنی
شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
جادہ غیر از نگہہ دیدہ تصویر نہیں
لیکن دشت صحافت سے ہمیں پشاور کے سکہ بند مستند اور سرکاری طور پر منظور شدہ صحافیوں ساکن پریس کلب پشاور نے تو نکالا ہوا ہے حالانکہ ایک زمانے میں اس کی بنیاد ہم نے اس وقت ڈالی تھی، جب اسے ''کوئے سرکار'' میں دو گز زمین بھی نہیں ملی تھی اور ہم چند تقریباً دو یا تین ہاتھوں کی انگلیوں جتنے دیوانے اسے کاندھوں پر کبھی یہاں کبھی وہاں لیے پھرتے تھے، اس کا پہلا ڈھانچہ ہم نے سادہ کاغذ کے سادہ ٹکڑوں پر نام لکھ کر کھڑا کیا تھا، خیر یہ قصہ پھر کبھی سہی
وصل کی شب نہ چھیڑ قصہ غم
پھر کبھی بعد میں سنا لینا
اصل قصہ ہم یہ سنانا چاہتے کہ اس ''دشت کی سیاحی'' کرتے کرتے ہم پر وہی سب کچھ گزرتا رہا ہے جو بے چارے قیس عامری پر دشت نجد میں بیتا تھا۔ پیاس سے بلکتے رہے ہیں، پاؤں بار بار فگار ہوئے،بے شمار کانٹوں نے لہولہان کیا ہے اور بے حساب سرابوں نے اپنے پیچھے دوڑایا ہے بلکہ بہت سارے درندوں سے بھی پالا پڑا ہے، جن سے کبھی بچے اور کبھی پکڑ میں آ کر زخم زخم ہوئے ہیں لیکن ساتھ ہی شجر سایہ دار بھی ملے ہیں، خضر راہ بھی میسر آئے ہیں اور کچھ پھول بھی ہاتھ لگے ہیں،
کانٹوں کی چبھن پائی ہے پھولوں کا مزا بھی
دل درد کے موسم میں رویا بھی ہنسا بھی
چنانچہ کبھی کبھی ایسے کالم بھی لکھے جو متعلقہ اخباروں اور اداروں کی پالیسی کے خلاف تھے اس لیے چھپ نہیں پائے، ایسے ہی کچھ کالموں کو اکٹھا کر کے ایک چھوٹا سا مجموعہ ہم نے مرتب کیا جسے چارسدہ کے ایک نوجوان نے جو پیشہ ور ناشر یا پبلشر نہیں تھا چھاپا ہوا ہے، اس میں سارے ''ناقابل اشاعت'' کالم تو نہیں لیکن ان میں سے چند آئے ہیں، کتاب کا نام بھی ناقابل اشاعت ہے، لیکن ہم اصل کہانی اس کتاب کی نہیں بلکہ ان لطیفوں یا مضحک واقعات کی سنانا چاہتے ہیں جو اس طویل عرصے میں ہمارے کالموں کو پیش آئے۔
جہاں تک کتابت یا کمپوزنگ کے سلسلے میں قہقہہ بار اور اشک بار کہانیاں ہیں، وہ تو عام ہیں اور تقریباً ہر لکھنے والے کے ساتھ ہوتی رہتی ہیں لکھنے والے تو کیا پڑھنے والے بھی اب جانتے کہ کہاں پر کس لفظ کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے، اس لیے وہ اپنی سمجھ کے مطابق کچھ نہ کچھ اخذ کر لیتے ہیں کیونکہ کالم کوئی کتاب تو نہیں کہ دوسرے ایڈیشن میں تصحیح کر لی جائے یا اغلاط نامہ لف کیا جائے، اس لیے جو تیر چھوٹ جاتا ہے وہ چھوٹ جاتا ہے اور جہاں جہاں لگنا ہوتا ہے لگ جاتا ہے اور جو کچھ کرنا ہوتا ہے وہ کر جاتا ہے۔
بقول رحمن بابا گزرا ہوا وقت ایک مردے کی طرح ہوتا ہے جو کبھی زندہ نہیں ہوتے، لیکن ہم ان لفطی اور املائی غلطیوں کی بھی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایڈیٹنگ یا پروفنگ کی ان حشر سامانیوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو ایڈیٹر لوگ جن کا کسی کی کسی بھی بات سے ''متفق'' ہونا ضروری نہیں ہوتا یا پروف ریڈر اپنے ''علم'' کے خزانے سے دل کھول کر لکھنے والے کو ''دھنیہ'' کرتے ہیں، اس لفظ دھنیہ کی بھی وضاحت ہو جائے کیونکہ اردو میں ''دھنیہ'' کی دو بالکل ہی مختلف صورتیں ہیں۔ ایک تو وہ ''دھنیا'' ہوتا ہے جو ترکاریوں اور چٹنی میں پڑتا ہے اور طبی زبان میں ''کشنیز'' کے نام سے استعمال ہوتا ہے۔
سبز دھنیا کو کوٹ کچل کر جو چٹنی بنائی جاتی ہے عام طور پر کسی چیز یا کام یا تحریر کا کباڑا کرنے کو کہتے ہیں خاص طور پر پشتو میں کچلنے کچومر نکالنے، تہس نہس کرنے اور تباہ و برباد کرنے کو ''دھنیا'' کرنا کہتے ہیں، جیسے مہنگائی نے عوام کا، سیاست دانوں نے پاکستان کا، دھرنوں نے کاروبار کا اور وزیروں مشیروں نے مسلم لیگ کا ''دھنیا'' کر دیا ہے لیکن ہندی کا دھنیہ یا دھنیے یا دھن ۔۔۔ مبارک باد، تحسین اور شکریے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جیسے ''خیر ہو'' کہنا ہو تو دھنے ہو، یا آپ کی بہت بہت دھنے واد، آپ نے مجھے دھنے یعنی مشکور اور زیر بار احسان کر دیا ہے، اس ہندی والے دھنیہ میں آخری الف میں ھ نہایت حفیف ہو کر ''یئے'' یا ییہہ ہو جاتا ہے۔
یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ ہماری جن جن تحریروں کے اوپر ان مہربانیوں کی توجہ خاص اور نظر کرم ہوتی ہے اس پر یہ دونوں ''دھنئے'' صادق آ جاتا ہے، ان تصحیحات کے بعد تحریر کی جو صورت بنتی ہے وہ چٹنی والے دھینے خاص طور پر سبز دھنیے کی چٹنی بن جاتی ہے، ظاہر ہے کہ ہماری ''کج مج بیانی'' میں اتنی زیادہ ''معنی آفرینی'' ڈالنے بلکہ ٹھونسنے پر ہم خود ہی ان مہربانوں کے دھنیے ہوک جاتے ہیں اور ان کا دھنیہ واد کرنا ہم پر واجب ٹھہرتا ہے اور آج عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کی تھوڑی سی نظر کرم اکثر ہمارے ٹوٹے ہوئے تاروں کو چندا بنا ڈالتے ہیں،
کس منہ سے شکر کیجیے اس لطف خاص کا
پرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں
ویسے تو ہمارے پاس اس قسم کے واقعات یعنی ہمارے کنکروں سے ''ہیرے بنانے'' کے واقعات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی الگ سے ایک ضخیم کتاب مرتب کی جا سکتی ہے، اس سلسلے کا تازہ ترین حقیقہ یہ ہوا ہے کہ ہم نے جناب عمران خان جن کے ہم فین تو ہیں لیکن ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے ہیں کہ ''اپنی ہوا'' براہ راست ان تک پہنچائیں چنانچہ اپنی ہوا کو فضا یعنی پورے ہوائی کرے میں ڈال کر بالواسطہ طور پر ان تک پہنچانے کی سعی کرتے رہتے ہیں یعنی بقول ابوالخیر ابوسعید
نسیما جانب بستاں گزر کن
بگو آں نازنیں شمشاد مارا
بہ تشریف قدوم خود زمانے
مشرف کن خراب آباد مارا
یعنی اے صبا کہنا مرے دلدار کو، دل تڑپتا ہے تیرے دیدار کو، اس لیے جب بھی ان سے کچھ کہنا ہوتا ہے تو ہم اپنے کالم کو کبوتر بنا کر ان تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، سو پچھلے دنوں ہم نے دیکھا بلکہ سنا بلکہ دونوں یعنی سنا اور دیکھا، کہ ان کی باتوں میں ان کے لہجے میں ان کے باڈی لینگوئج میں ''ہم'' بتدریج کم ہو رہا ہے اور ''میں'' کچھ زیادہ ہی بڑھتا جا رہا ہے غالباً اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کی کیمسٹری علامہ طاہر القادری کے ساتھ بن گئی تھی اور ''جمال ہم نشیں در من اثر کرد'' کے مطابق ان کے لہجے میں بھی علامہ کی طرح ''میں'' کا اضافہ ہونے لگا، جو مسلسل بڑھوتری کرتے کرتے اب اس مقام تک پہنچ گیا کہ اس میں ''ہم'' کا دور دور تک کوئی نام و نشاں باقی نہیں رہا ہے اور صرف ''میں'' ہی میں سنائی دینے لگا ہے چنانچہ وہ جو جو بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا کرتے ہیں کسی کو بند کر دیتے کھولتے ہیں اٹھاتے ہیں پٹختے ہیں ختم کرتے ہیں کچلتے ہیں تو ''میں'' کا استعمال کرتے ہیں حالانکہ جہاں تک ہمارا خیال ہے۔
ان کے ساتھ ان کاموں میں ان کا ایک اور سیلپنگ پارٹنر ''کارکن'' بھی ہوتا ہے لیکن وہ اسے چھوڑ کر جو بھی کرتے ہیں اکیلے اکیلے ہی کرتے ہیں، مثلاً اب یہ جو انھوں نے پاکستان کے ایک ایک شہر کو ''بند'' کرتے ہوئے پورے پاکستان کو بند کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اس میں بھی وہ صرف ''میں'' ہیں ہم کا کوئی پتہ ہی نہیں ہے، لیکن ہمارے اس مخلصانہ مشورے کو جب کالم میں ڈال کر مختلف مراحل سے گزرا گیا تو آخر میں ہم خود بھی ۔۔۔۔۔ خود ہی پوچھتے ہوئے نظر آئے کہ اس کالم میں کیا کہا گیا ہے یعنی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ،
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
مانع دشت نور دی کوئی تدبیر نہیں
ایک چکر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں
پیر و مرشد کے پاؤں کا یہ چکر ہمارے اندر بھی آ گیا اور چونکہ قرب و جوار میں کوئی اصلی دشت نہیں تھا، اس لیے ہم نے دشت میں ''پیمائی'' شروع کی جسے آپ دشت کالم نگاری بھی کہہ سکتے ہیں اور دشت صحافت بھی یعنی
شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
جادہ غیر از نگہہ دیدہ تصویر نہیں
لیکن دشت صحافت سے ہمیں پشاور کے سکہ بند مستند اور سرکاری طور پر منظور شدہ صحافیوں ساکن پریس کلب پشاور نے تو نکالا ہوا ہے حالانکہ ایک زمانے میں اس کی بنیاد ہم نے اس وقت ڈالی تھی، جب اسے ''کوئے سرکار'' میں دو گز زمین بھی نہیں ملی تھی اور ہم چند تقریباً دو یا تین ہاتھوں کی انگلیوں جتنے دیوانے اسے کاندھوں پر کبھی یہاں کبھی وہاں لیے پھرتے تھے، اس کا پہلا ڈھانچہ ہم نے سادہ کاغذ کے سادہ ٹکڑوں پر نام لکھ کر کھڑا کیا تھا، خیر یہ قصہ پھر کبھی سہی
وصل کی شب نہ چھیڑ قصہ غم
پھر کبھی بعد میں سنا لینا
اصل قصہ ہم یہ سنانا چاہتے کہ اس ''دشت کی سیاحی'' کرتے کرتے ہم پر وہی سب کچھ گزرتا رہا ہے جو بے چارے قیس عامری پر دشت نجد میں بیتا تھا۔ پیاس سے بلکتے رہے ہیں، پاؤں بار بار فگار ہوئے،بے شمار کانٹوں نے لہولہان کیا ہے اور بے حساب سرابوں نے اپنے پیچھے دوڑایا ہے بلکہ بہت سارے درندوں سے بھی پالا پڑا ہے، جن سے کبھی بچے اور کبھی پکڑ میں آ کر زخم زخم ہوئے ہیں لیکن ساتھ ہی شجر سایہ دار بھی ملے ہیں، خضر راہ بھی میسر آئے ہیں اور کچھ پھول بھی ہاتھ لگے ہیں،
کانٹوں کی چبھن پائی ہے پھولوں کا مزا بھی
دل درد کے موسم میں رویا بھی ہنسا بھی
چنانچہ کبھی کبھی ایسے کالم بھی لکھے جو متعلقہ اخباروں اور اداروں کی پالیسی کے خلاف تھے اس لیے چھپ نہیں پائے، ایسے ہی کچھ کالموں کو اکٹھا کر کے ایک چھوٹا سا مجموعہ ہم نے مرتب کیا جسے چارسدہ کے ایک نوجوان نے جو پیشہ ور ناشر یا پبلشر نہیں تھا چھاپا ہوا ہے، اس میں سارے ''ناقابل اشاعت'' کالم تو نہیں لیکن ان میں سے چند آئے ہیں، کتاب کا نام بھی ناقابل اشاعت ہے، لیکن ہم اصل کہانی اس کتاب کی نہیں بلکہ ان لطیفوں یا مضحک واقعات کی سنانا چاہتے ہیں جو اس طویل عرصے میں ہمارے کالموں کو پیش آئے۔
جہاں تک کتابت یا کمپوزنگ کے سلسلے میں قہقہہ بار اور اشک بار کہانیاں ہیں، وہ تو عام ہیں اور تقریباً ہر لکھنے والے کے ساتھ ہوتی رہتی ہیں لکھنے والے تو کیا پڑھنے والے بھی اب جانتے کہ کہاں پر کس لفظ کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے، اس لیے وہ اپنی سمجھ کے مطابق کچھ نہ کچھ اخذ کر لیتے ہیں کیونکہ کالم کوئی کتاب تو نہیں کہ دوسرے ایڈیشن میں تصحیح کر لی جائے یا اغلاط نامہ لف کیا جائے، اس لیے جو تیر چھوٹ جاتا ہے وہ چھوٹ جاتا ہے اور جہاں جہاں لگنا ہوتا ہے لگ جاتا ہے اور جو کچھ کرنا ہوتا ہے وہ کر جاتا ہے۔
بقول رحمن بابا گزرا ہوا وقت ایک مردے کی طرح ہوتا ہے جو کبھی زندہ نہیں ہوتے، لیکن ہم ان لفطی اور املائی غلطیوں کی بھی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایڈیٹنگ یا پروفنگ کی ان حشر سامانیوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو ایڈیٹر لوگ جن کا کسی کی کسی بھی بات سے ''متفق'' ہونا ضروری نہیں ہوتا یا پروف ریڈر اپنے ''علم'' کے خزانے سے دل کھول کر لکھنے والے کو ''دھنیہ'' کرتے ہیں، اس لفظ دھنیہ کی بھی وضاحت ہو جائے کیونکہ اردو میں ''دھنیہ'' کی دو بالکل ہی مختلف صورتیں ہیں۔ ایک تو وہ ''دھنیا'' ہوتا ہے جو ترکاریوں اور چٹنی میں پڑتا ہے اور طبی زبان میں ''کشنیز'' کے نام سے استعمال ہوتا ہے۔
سبز دھنیا کو کوٹ کچل کر جو چٹنی بنائی جاتی ہے عام طور پر کسی چیز یا کام یا تحریر کا کباڑا کرنے کو کہتے ہیں خاص طور پر پشتو میں کچلنے کچومر نکالنے، تہس نہس کرنے اور تباہ و برباد کرنے کو ''دھنیا'' کرنا کہتے ہیں، جیسے مہنگائی نے عوام کا، سیاست دانوں نے پاکستان کا، دھرنوں نے کاروبار کا اور وزیروں مشیروں نے مسلم لیگ کا ''دھنیا'' کر دیا ہے لیکن ہندی کا دھنیہ یا دھنیے یا دھن ۔۔۔ مبارک باد، تحسین اور شکریے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جیسے ''خیر ہو'' کہنا ہو تو دھنے ہو، یا آپ کی بہت بہت دھنے واد، آپ نے مجھے دھنے یعنی مشکور اور زیر بار احسان کر دیا ہے، اس ہندی والے دھنیہ میں آخری الف میں ھ نہایت حفیف ہو کر ''یئے'' یا ییہہ ہو جاتا ہے۔
یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ ہماری جن جن تحریروں کے اوپر ان مہربانیوں کی توجہ خاص اور نظر کرم ہوتی ہے اس پر یہ دونوں ''دھنئے'' صادق آ جاتا ہے، ان تصحیحات کے بعد تحریر کی جو صورت بنتی ہے وہ چٹنی والے دھینے خاص طور پر سبز دھنیے کی چٹنی بن جاتی ہے، ظاہر ہے کہ ہماری ''کج مج بیانی'' میں اتنی زیادہ ''معنی آفرینی'' ڈالنے بلکہ ٹھونسنے پر ہم خود ہی ان مہربانوں کے دھنیے ہوک جاتے ہیں اور ان کا دھنیہ واد کرنا ہم پر واجب ٹھہرتا ہے اور آج عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کی تھوڑی سی نظر کرم اکثر ہمارے ٹوٹے ہوئے تاروں کو چندا بنا ڈالتے ہیں،
کس منہ سے شکر کیجیے اس لطف خاص کا
پرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں
ویسے تو ہمارے پاس اس قسم کے واقعات یعنی ہمارے کنکروں سے ''ہیرے بنانے'' کے واقعات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی الگ سے ایک ضخیم کتاب مرتب کی جا سکتی ہے، اس سلسلے کا تازہ ترین حقیقہ یہ ہوا ہے کہ ہم نے جناب عمران خان جن کے ہم فین تو ہیں لیکن ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے ہیں کہ ''اپنی ہوا'' براہ راست ان تک پہنچائیں چنانچہ اپنی ہوا کو فضا یعنی پورے ہوائی کرے میں ڈال کر بالواسطہ طور پر ان تک پہنچانے کی سعی کرتے رہتے ہیں یعنی بقول ابوالخیر ابوسعید
نسیما جانب بستاں گزر کن
بگو آں نازنیں شمشاد مارا
بہ تشریف قدوم خود زمانے
مشرف کن خراب آباد مارا
یعنی اے صبا کہنا مرے دلدار کو، دل تڑپتا ہے تیرے دیدار کو، اس لیے جب بھی ان سے کچھ کہنا ہوتا ہے تو ہم اپنے کالم کو کبوتر بنا کر ان تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، سو پچھلے دنوں ہم نے دیکھا بلکہ سنا بلکہ دونوں یعنی سنا اور دیکھا، کہ ان کی باتوں میں ان کے لہجے میں ان کے باڈی لینگوئج میں ''ہم'' بتدریج کم ہو رہا ہے اور ''میں'' کچھ زیادہ ہی بڑھتا جا رہا ہے غالباً اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کی کیمسٹری علامہ طاہر القادری کے ساتھ بن گئی تھی اور ''جمال ہم نشیں در من اثر کرد'' کے مطابق ان کے لہجے میں بھی علامہ کی طرح ''میں'' کا اضافہ ہونے لگا، جو مسلسل بڑھوتری کرتے کرتے اب اس مقام تک پہنچ گیا کہ اس میں ''ہم'' کا دور دور تک کوئی نام و نشاں باقی نہیں رہا ہے اور صرف ''میں'' ہی میں سنائی دینے لگا ہے چنانچہ وہ جو جو بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا کرتے ہیں کسی کو بند کر دیتے کھولتے ہیں اٹھاتے ہیں پٹختے ہیں ختم کرتے ہیں کچلتے ہیں تو ''میں'' کا استعمال کرتے ہیں حالانکہ جہاں تک ہمارا خیال ہے۔
ان کے ساتھ ان کاموں میں ان کا ایک اور سیلپنگ پارٹنر ''کارکن'' بھی ہوتا ہے لیکن وہ اسے چھوڑ کر جو بھی کرتے ہیں اکیلے اکیلے ہی کرتے ہیں، مثلاً اب یہ جو انھوں نے پاکستان کے ایک ایک شہر کو ''بند'' کرتے ہوئے پورے پاکستان کو بند کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اس میں بھی وہ صرف ''میں'' ہیں ہم کا کوئی پتہ ہی نہیں ہے، لیکن ہمارے اس مخلصانہ مشورے کو جب کالم میں ڈال کر مختلف مراحل سے گزرا گیا تو آخر میں ہم خود بھی ۔۔۔۔۔ خود ہی پوچھتے ہوئے نظر آئے کہ اس کالم میں کیا کہا گیا ہے یعنی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ،
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے