رینٹل پاور کیس نیب با اثر افراد پر ہاتھ نہ ڈال کر غلط پیغام دے رہا ہے سپریم کورٹ

ڈیٹرنس قائم ہوناچاہیے ورنہ بدعنوانی کاراستہ روکنامشکل ہوجائیگا،ریمارکس

فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے کرایے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کے الزام میں چیئرمین نیب اور دیگر 7اہلکاروں کیخلاف توہین عدالت کے شوکاز نوٹس پر وضاحت مستردکر دی ہے

اگلی سماعت سے پہلے مثبت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ تمام نامزد ملزمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ وہ مقدمے میں اپنا دفاع خودکریں گے یا بذریعہ وکیل۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا پیش ہوئے اور بتایا کہ تاخیر جان بوجھ کر نہیں ہوئی، نیب کی کوشش تھی کہ مطلوبہ رقم وصول کی جائے، نیب نے اب تک دو ارب روپے کمپنیوں سے وصول کیے اور 3 ارب کی وصولی پائپ لائن میں ہے۔

انھوں نے بتایا 3 حکومتی عہدیداروں نے رینٹل پاور پروجیکٹ میں مالی فائدہ حاصل کیا ہے ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں، قومی خزانے کو مجموعی طور پر 18ارب 30کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ عدالت نے وضاحت مستردکر دی۔ چیف جسٹس نے کہا اگر عدالت مطمئن نہیں ہوئی تو توہین عدالت کے الزام میں مزیدکارروائی کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا یہ بدعنوانی کا مثالی مقدمہ ہے، نیپرا رولز کے مطا بق زیادہ سے زیادہ 10 سال پرانے پلانٹ لگانے کی اجازت تھی لیکن کمپنیوں نے 25 سال پرانے پلانٹ لگائے۔


ایک مشینری پر دو مرتبہ ایڈوانس کی رقم حاصل کی گئی، نیب نے وصولی کی اچھی بات ہے لیکن فوجداری کارروائی ہونی چاہیے تھی تاکہ معاشرے میں پیغام جاتا کہ جو بھی کرپشن کرے گا وہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا معاشرے میں ایک ڈیٹرنس قائم ہونا چاہیے ورنہ بدعنوانی کا راستہ روکنا مشکل ہو جائیگا۔ چیف جسٹس نے کہا نیب نے کسی کیخلاف فوجداری کارروائی نہیںکی، سمجھ نہیں آتا نیب کیوں قومی دولت لوٹنے والوں کیلیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا نیب لوگوںکو غلط پیغام دے رہا ہے کہ جو با اثر ہے اس پرکوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا لگتا ہے نیب ان لوگوں کی وکالت کر رہا ہے جنھوں نے قومی خزانہ بے دردی سے لوٹا ہے، بدعنوانی کا راستہ روکنے والا ادارہ ہی لٹیروںکو تحفظ فراہم کرنے لگ جائے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔کے کے آغا نے کہا نیب قانون سے با ہر نہیں جا سکتا۔ پارلیمنٹ نے قانون بنایا ہے اور نیب اس کے تحت کام کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا رینٹل پاور پروجیکٹ میں30کروڑڈالر بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے ملنے کا امکان ہے۔

عدالت نے جواب سے مطمئن نہ ہوکر توہین عدالت میں مزیدکارروائی کا فیصلہ کیا تو ڈائریکٹر جنرل نیب شہزاد انور بھٹی نے درخواست کی کہ ایک اور موقع دیا جائے، عدالت کے حکم کے عین مطابق عمل ہوگا۔ انھوں نے کہا سپریم کورٹ کی حکم عدولی کا تصور بھی نہیںکیا جا سکتا، فیصلہ سمجھنے میں غلطی ہو سکتی ہے۔ انھوں نے دو مہینے کی مہلت کی استدعا کی۔انکوائری میں شامل نیب افسر ظاہر شاہ نے کہا کہ انھیں 22جون سے اس مقدمے سے الگ کیا گیا ہے لیکن ان کا نام بھی توہین عدالت کے الزام میں شامل اہلکاروں کی فہرست میں دیا گیا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا یہ فہرست خود نیب نے دی ہے۔

عدالت کسی کو سزا نہیں دینا چاہتی لیکن جب کوئی چارہ نہ رہے تو سزا دینا مجبوری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا چیئرمین کی اجازت کے بغیر نیب کا کوئی افسرکام نہیںکر سکتا جس پر شہزاد بھٹی نے کہا کہ چیئرمین نے کبھی بھی انھیں نہیں روکا۔ جسٹس جواد نے کہا اس کا مطلب یہ ہوا کہ افسران نے خود عدالت کے فیصلے پر عمل نہیںکیا۔ توہین عدالت کے الزام کا سامنا کرنے والے افسران کی درخواست پر مزید سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی اور انھیں مثبت پیشرفت کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے شوکاز نوٹس واپس لینے کی درخواست مستردکردی۔

Recommended Stories

Load Next Story