ہائیکورٹحج کوٹا کیس میں اجارہ داری کی تحقیقات کا حکم

حج کے نام پر کارٹل غیر قانونی ہے،مسابقتی کمیشن ایک ماہ میں رپورٹ دے،چیف جسٹس

ہم نے تقرری غیرآئینی قراردی توتحقیقات کی ضرورت نہیں،عدالت،ریفرنس کسی کی ہدایت پرنہیں قانون کے مطابق بنے گا،وکیل نیب فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے قراردیا ہے کہ حج کے نام پرکاروبار کرنا توٹھیک مگراس میں ناجائزمنافع خوری یاکوئی کارٹل بنانا مسابقتی کمیشن قانون کی خلاف ورزی ہے۔

فاضل جج نے حج کوٹا میں ہونے والی کرپشن اورمناپلی کے خلاف مسابقتی کمیشن کو انکوائری کرکے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے سماعت12نومبرتک ملتوی کردی۔ گزشتہ روز عدالت کے روبروحج کوٹا کیس کی سماعت ہوئی تومسابقتی کمیشن کی طرف سے داخل کیے جانے والے جواب میں بتایاگیاکہ مسابقتی کمیشن2010ء کے قانون کے سیکشن3اور4 ناجائزمنافع خوری جوعدالت چاہتی ہے یادرخواست گزار اقصٰی ٹورزاینڈٹریولزپرائیویٹ لمیٹیڈکے کیس میں اس کے لیے ایک تفصیلی انکوائری کرنی پڑے گی۔


جس کا مسابقتی کمیشن کوسیکشن33کے تحت اختیار حاصل ہے بادی النظرمیں اس کیس میں اجارہ داری نظرآرہی ہے کیونکہ درخواست گزار نے جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے اس کی تفصیلی انکوائری کی جائے گی۔ فاضل جج نے تفصیلی بحث سننے کے بعد مسابقتی کمیشن کو ٹورزآپریٹرزکے کاروبار میں ہونے والی بے ضابطگیوں،اجارہ داری،ناجائزمنافع خوری اور وفاقی حکومت کے کردارکوجانچنے کاحکم دیا اور وزارت مذہبی امورکوبھی ہدایات جاری کیں کہ وہ اس انکوائری میں مسابقتی کمیشن سے بھرپور تعاون کریں۔

دریں اثنا لاہورہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمودخان نے چارپولیس افسروں کے بلوچستان تبادلے کے خلاف دائردرخواست کوسماعت کے لیے منظورکرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے20 نومبر کوجواب طلب کرلیا۔ فیاض سنبل، احمد مبین سید، انور کھتیران اور اظہر اکرم نے موقف اختیارکیاکہ وفاقی حکومت نے ان کاتبادلہ بلوچستان میں کر دیا ہے حالانکہ ان کا ڈومیسا ئل پنجاب کا ہے اور یہ اقدام غیرقانونی ہے عدالت حکم امتناع جاری کرے۔
Load Next Story