دہشت گردی کے خلاف قوم متحد

پشاور کے الم ناک سانحے نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے

اشکبار کردینے والا سانحہ پشاور بادی النظر میں پاکستان دشمنوں کے خلاف رد عمل کا شاخسانہ ہے، فوٹو: پی پی آئی /فائل

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشتگردوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کے شہید اور 124کے زخمی ہونے کے الم ناک سانحے نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔وزیراعظم نواز شریف نے قومی پارلیمانی جماعتوں کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جہاد سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے شرکت کی ۔ معصوموں کے قتل عام پر عالمی میڈیا نے بھی اس دردناک سانحے کی خصوصی کوریج کی، اقوام متحدہ ،چین، سعودی عرب، امریکا، برطانیہ، بھارت، جرمنی اور ترکی سمیت متعدد ممالک نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اسے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے، اندرون ملک سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پوری سول سوسائٹی نے بھی اس امر کا اظہار کیا کہ اب وقت سیاست بازی کا نہیں،ان دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنانے کا ہے جنھوں نے معصوم اور پھول جیسے بچوں کو ذبح کیا ، فوجی اہلکاروں اور افسروں کے بچوں ، ان کی بیگمات کو چن چن کر نشانہ بنایا اور ایک خاتون کو زندہ جلا دیا ۔ اس غیر انسانی اور وحشیانہ واردات نے خطے میں پیدا شدہ دہشت گردی کے نتائج اور مضمرات کے حوالے سے اندوہ ناک صورتحال کو جنم دیا ہے، یہ ثابت ہوچکا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

انھیں اپنے مذموم ایجنڈے کے لیے بس ایک مذہبی نعرہ اور حکمت عملی درکار ہے جو سفاکیت اور بربریت پر مبنی ہو ۔ اشکبار کردینے والا سانحہ پشاور بادی النظر میں پاکستان دشمنوں کے خلاف رد عمل کا شاخسانہ ہے جسے بنیاد بناکر دہشت گردی کے خلاف پورے میکنزم کی از سر نو تبدیلی پر سوچ و بچار کی ضرورت ہوگی ، جب کہ ان تمام راستوں کو بند رکھنا ہوگا جس میں شگاف ڈال کر دہشتگردی ممکن بنائی جاتی رہی ہے، سیکیورٹی پر مطمئن ہونے کے بجائے اب پورے ملک میں ہائی الرٹ اور قانون نافذ کرنے والی فورسز کو چوکنا رہنا ہوگا۔

ساتھ ہی دہشت گرد مکافات عمل کے لیے تیار رہیں کہ پوری قوم ، سیاست دان، تاجر، وکلا اور محنت کش اس دردناک المیہ اور بزدلانہ کارروائی کے پیش نظر اپنا ہر غم بھلا کر متحد ہوگئے ہیں ، اب اس غم کو اجتماعی عوامی طاقت میں بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جس نے قوم کے مستقبل اور دل پر حملہ کیا ہے اسے ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کردیا جائے۔


ادھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہنگامی دورے پر کابل پہنچ گئے ہیں، واثق امکان یہ ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کے مفرور اور افغانستان میں روپوش ماسٹر مائنڈز اور کمانڈروں کی فی الفور پاکستان کے حوالے کرنے کے معاملہ پر صدر افغان اشرف غنی سے دو ٹوک بات کریں گے جب کہ پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی خفیہ و علانیہ نقل و حمل مکمل طور پر بند کرنے کی مشترکہ اسٹرٹیجی بھی ان کی باہمی بات چیت کا محور ہوگی۔

تاہم انتہا پسندوں کے لیے یہ خبر ایک دھچکا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت نے اسے غیر اسلامی حملہ قرار دیا ہے اور سانحہ میں شہید و زخمی ہونے والے بچوں، ان کے اساتذہ، عسکری انسٹرکٹر اور اسکول کے عملے کے لواحقین سے دلی تعزیت کی اور اسے بربریت کہا ہے ۔ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے قوم کے دل پر حملہ کیا ہے لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اس عظیم قوم کے عزم اور حوصلے کو ختم نہیں کرسکتے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں اس سانحے پر انتہائی دکھ ہے تاہم دہشتگردی کے خلاف ہمارے عزم کو نئی بلندی ملی ہے، وحشی درندوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے تک ان کا پیچھا کرینگے، پشاور میںہونے والے درندگی کے شرمناک اور دردناک واقعہ نے پوری قوم کو سوگوار کردیا ہے ۔ پھول سے معصوم بچوں کو جس بے دردی کے ساتھ مسل کر رکھ دیا گیا اس کی آج کے مہذب دور ہی میں نہیں عمومی انسانی تاریخ میں بھی مثال نہیں ملتی۔

یہ تجزیہ درست ہے کہ خود خیبرپختونخوا اور فاٹا کے بندوبستی علاقے میں بھی قبائل کی دشمنیوں کے نتیجے میں اتنی شقاوت قلبی کے ساتھ اس قسم کے واقعات کی نظیر نہیں ملتی ،انتہائی سنگدل انسان بھی ایسا فعل نہیں کرسکتا ۔ بلاشبہ 16 دسمبر نے43سال بعد ایک بار پھر قوم پر قیامت ڈھا دی۔

ایک اطلاع ہے کہ 28 فروری تا یکم مارچ 2015ء کو امریکا میں ایک بین الاقوامی سمپوزیم منعقد کیا جائے گا جس میں ایٹمی ہتھیاروں کی معدومی اور مکمل خاتمہ کی حرکیات پر عالمی ماہرین بحث کریں گے، جب کہ ان مدبرین سے ہماری دردمندانہ استدعا یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے حوالے سے بھی ایک عالمی مذاکرہ اور سیمینار کے انعقاد کو یقینی بنائیں، دہشت گردی ایک چلتی پھرتی ''وار مشین ''ہے جو انسانوں کا زمین پر شکار کرتی اور معصوموں کے خون سے اپنی پیاس بجھاتی ہے،پہلے اس عفریت کا خاتمہ کیا جائے اور اس کے لیے ابتدائی امداد پاکستان کو مہیا کی جائے جو دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ بن چکا ہے ۔

پشاور سانحہ کے تناظر میں دہشت گردوں کو کہنے کی ضرورت ہے کہ اس بزدلانہ ،جاہلانہ اور وحشیانہ کارروائی سے نہ ریاستی رٹ ختم ہوگی ،نہ آپریشن ضرب عضب رکے گا اور نہ کاروان حیات رکے گا ۔ پاکستانی قوم کا دہشت گردی کے خاتمے کا عزم اپنی افواج پاکستان کے عزم سے جڑا ہوا ہے ۔ ملک کو ایک وجودی خطرہ کا سامنا ہے۔ سیاسی رہنماؤں سے بھی التجا ہے کہ دہشت گردی نے انسانی جانوں سے بازیگری کا جو مجرمانہ اور دلگداز کھیل جاری رکھا ہے اسے ملیامیٹ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں، اور دہشت گردی کے خلاف ابھی نہیں تو کبھی نہیں کا اعلان جنگ کریں ۔اسی میں ملک کا مفاد ہے۔
Load Next Story